فوجی عدالتیں کینگرو کورٹس نہیں، وفاق اور صوبائی حکومتیں ملکر قیام امن کو یقینی بنائیں گی: چوہدری نثار

فوجی عدالتیں کینگرو کورٹس نہیں، وفاق اور صوبائی حکومتیں ملکر قیام امن کو ...
فوجی عدالتیں کینگرو کورٹس نہیں، وفاق اور صوبائی حکومتیں ملکر قیام امن کو یقینی بنائیں گی: چوہدری نثار

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ پوری قومی قیادت دہشتگردی کے خاتمے کیلئے متفق ہے اور اس ضمن میں 20نکاتی ایکشن پلان پر عمل کرنے کی حکمت عملی بھی طے کر لی گئی ہے، وفاقی اور تمام صوبائی حکومتیں ملک میں قیام امن کیلئے مل کر کام کریں گی، سکیورٹی اداروںکے مابین تعاون کو یقینی بنیا جائے گا، فوجی عدالتوں میں عام شہری کا مقدمہ نہیں چلے بلکہ صرف دہشتگردوں کو دفاع کا حق دیکر ہی سزا سنائی جائے گی جبکہ شدت پسندی کے خاتمے کیلئے عوام سے بھی تعاون حاصل کرنے کیلئے ہیلپ لائن 1717 شروع کر دی گئی ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ سانحہ پشاور کے بعد تمام سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے اور گزشتہ روز سب نے یہ معاملہ بھی طے کر لیا ہے کہ دہشتگردی کا خاتمہ کس طرح کرنا ہے اور کس ادارے نے کیا کردار ادا کرنا ہے، میڈیا کے ذریعے لوگوں کو زیادہ تر فوجی عدالتوں کے بارے میں معلومات ملیں مگر ہم نے دیگر کئی نکات پر بھی اتفاق کیا ہے، ہماری تجویز ہے کہ اگلے دو سالوں میں دہشتگردی کا مکمل خاتمہ کر دیں۔انہوں نے اعلان کیا کہ تحریک طالبان پاکستان پاکستان کی براہ راست مدد کرنے والا یا ان کی مالی مدد کرنے والا ہر شخص اب ہمارا نشانہ ہے اور تمام صوبائی حکومتیں اور وفاقی ادارے ایسے افراد کو تلاش کریں گے اور ان کیخلاف کاروائی ہو گی۔
وفاقی وزیر کہا کہ ملک میں قیام امن کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر کام کریں گی اور خفیہ اداروں کے مابین معلومات کا تبادلہ کرنے کا نظام مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ صوبوں میں قیام امن کی واضح ذمہ داری صوبائی حکومتوں پر ہے جس کو پورا کرنے کیلئے وفاقی حکومت ان کو معلومات اور فوجی و دیگر اداروں کی نفری فراہم کریں گے۔ اس سے پہلے بھی کئی واقعات پر وفاقی کی طرف سے صوبائی حکومتوں کے ساتھ تعاون کیا جاتا رہا ہے اور اگر آئندہ صوبائی حکومت کی طرف سے سکیورٹی میں غفلت کی گئی اور پھر اس کی ذمہ داری وفاق پر ڈالی گئی تو پھر ہماری طرف سے بھی جواب آئے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ملک کے اندر دس ہزار فوجی جوان سکیورٹی کی ذمہ داریاں دے رہے ہیں اور صوبائی حکومتوں کے کہنے پر اب مزید نفری بھی دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومتوں کیساتھ تعاون کرنے کیلئے ہر صوبے میں کمیٹی بنا دی گئی ہے، بعض صوبوں میں اس کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا ہے مگر بعض ابھی تک کترا رہے ہیں، میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یہ اجلاس سب کو کرنا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتوں سے متعلق غلط فہمی ختم ہونی چاہئے ،یہ کوئی کینگروکورٹس نہیں ہونگی بلکہ نئی قائم کی جانے والی فوجی عدالتیںکسی سیاسی جماعت، شخصیت، مدرسہ اورنہ ہی کسی عام پاکستانی کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کر سکیں گی، یہ عدالتیں صرف اور صرف شدت پسندوں کے مقدمات سننے کیلئے بنائی گئی ہیں اور صرف وہی لوگ ان کے سامنے پیش ہوں گے جو ہمارے بچوں کو ذبح کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہفوجی عدالتوں کا قیام کسی صورت پاکستان کے عدالتی نظام پر اظہار عدم اعتماد نہیںہے بلکہ ان کی مدد کرنے کیلئے ہیںاور دہشتگردی کے علاوہ دیگر تمام معاملات پر پاکستان کا انصاف کا نظام کام کرتا رہے گا۔
انہوں نے فوجی عدالتوں میں مقدمات سننے کے طریقہ کار کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہو گا کہ جو اس عدالت میں جائے گاوہ سیدھا پھانسی چڑھا دیا جائے گا بلکہ اس کا بھی ایک باقاعدہ طریقہ کار ہے جس کے تحت پاکستان کے اپنے فوجیوں کے خلاف مقدمے چلائے جاتے ہیںاور ان میں سے ہر کسی کو سزا نہیں ہوتی بلکہ اکثر رہا ہو جاتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پہلے سے موجود فوجی عدالتوں میں صرف یہ اضافہ ہوا ہے کہ سویلین دہشتگردوں کا بھی مقدمہ ان عدالتوں میں چلایا جائے گاجو ہمارے گھروں اور سکولوں پر حملے کرتے ہیں، کسی دوسرے سویلین کو ان عدالتوں سے کوئی خطرہ نہیں ۔
چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ جب عام عدالتوںمیں دہشتگردی کے مقدمات چلتے ہیں تو شدت پسند ان ججوں کو دھمکیاں دیتے ہیں اور ان کے بچوں کی جان کیلئے خطرہ بن جاتے ہیں، اس وجہ سے انصاف کی فراہمی کی راہ میں رکاوٹ آ تی ہے، اب ان لوگوں کے مقدمات فوجی افسران سنیں گے اور وہ بھی انہیں مکمل صفائی کا موقع دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم عوام سے بھی سکیورٹی کے معاملے پر تعاون کی اپیل کرتے ہیں اور اس ضمن میں 1717 فری سروس کا بھی آغاز کر دیا گیا ہے جس پر شکایت کرنے والوں کا نام راز میں رکھا جائے گا اور تعاون کرنے والے قومی خدمت سر انجام دے رہے ہوں گے۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -