عدالت نےانقلابی دھرنے کا معاوضہ نہ ملنے پر خاتون کو تھانے سے رجو ع کرنے کا مشورہ دیدیا

عدالت نےانقلابی دھرنے کا معاوضہ نہ ملنے پر خاتون کو تھانے سے رجو ع کرنے کا ...
عدالت نےانقلابی دھرنے کا معاوضہ نہ ملنے پر خاتون کو تھانے سے رجو ع کرنے کا مشورہ دیدیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور(نامہ نگار )عدالت نے انقلابی دھرنے میں بیٹھنے کی رقم نہ دینے کا الزام لگانے والی خاتون کو طاہر القادری کے خلاف کارروائی کے لئے تھانہ فیصل ٹاﺅن سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی . تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج محمد مسعود حسین نے 70روز تک انقلابی دھرنے میں بیٹھنے والی خاتون کو3500 روپے روزانہ دینے کا وعدہ کرکے مذکورہ رقم ادانہ کرنے پرتحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹرطاہر القادری ،بیٹے حسن محی الدین اور بیٹی فاطمہ سمیت رحیق عباسی کے خلاف دائر انداراج مقدمہ کی درخواست نمٹاتے ہوئے درخواست گزار کو دادرسی کے لئے تھانہ فیصل ٹاﺅن پولیس سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی ۔
عدالت میں درخواست حاجن مومنہ دختر منظورحسین نے درخواست دائر کررکھی تھی جس میںموقف اختیار کیا گیا تھا کہ سائلہ2007سے تحریک منہاج القرآن کی لائف ممبر ہے ، وہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے بعد تحریک کے مرکزی سیکریٹیریٹ میں قیام پذیر تھی کہ7اگست 2014ءکو حسن محی الدین ، فاطمہ اور رحیق عباسی نے اسے بلا کر کہا کہ یوم شہداءکے لئے وہ اپنی جاننے والی خواتین کو اکٹھاکرکے منہاج القرآن سیکریٹیریٹ لائے ۔ سائلہ نے اس پر مسماة شائستہ اور مسماة بے بی سمیت متعدد خواتین کو تحریک کے سیکریٹیریٹ میں بلا لیا ۔ یوم شہداءکے بعد ان خواتین نے واپس جانا چاہاتو حسن محی الدین ، فاطمہ اور رحیق عباسی نے انہیں یہ کہہ کر روک دیا کہ قائد تحریک طاہر القادری کا حکم ہے کہ انہیں دھرنے میں شرکت کے لئے اسلام آباد جانا ہے۔
سائلہ نے ا س پر احتجاج کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ مذکورہ خواتین میں سے مسماة شائستہ کینسر اور مسماة بے بی فالج کی مریضہ ہے جبکہ دیگرخواتین کا تعلق غریب طبقے سے ہے۔ ان کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اور ان کے وسائل بھی اس بات کی اجازت نہیں دےتے کہ وہ گھر بار چھوڑ کر شہر سے باہر جائیں۔ تینوں کے انکار پر سائلہ نے ان سے استدعاکی وہ اسے قائد سے ملوا دیں تاکہ وہ انہیں صورتحال سے آگاہ کر سکے۔ اس ملاقات میں طاہر القادری نے وعدہ کیا کہ بیمار خواتین کا علاج تنظیم اپنے خرچ پر کرائے گی اور خواتین کو ساڑھے 3 ہزار روپے فی کس روزانہ بھی دئیے جائیں گے۔ اس کے بعد انہوں نے سائلہ کو تنبیہ کی کہ وہ مذکورہ خواتین کو واپس نہ جانے دے اور ان کے شناختی لے کر منتظمین کے حوالے کردے ۔
سائلہ نے مذکورہ خواتین سے ان کے شناختی کارڈ لے کر حسن محی الدین ، فاطمہ اور رحیق عباسی کے حوال کر دئیے ۔ بعد ازاں ان خواتین کو دھرنے کے لئے70یوم تک اسلام آباد میں بیٹھنا پڑا۔ اس دوران تنظیم کا ایک عہدیدار جسے سائلہ سامنے آنے پر پہچان سکتی ہے روزانہ ان کی حاضری لگا تا ۔ دھرنے کے دوران شرکاءکو صرف دو وقت کا کھانا دیا جاتا ۔ انہیں کسی قسم کا خرچہ نہیں دیا جاتا تھا ۔ 70 دن بعد طاہرلقادری اچانک دھرنا ختم کرنے کا اعلان کرکے لاہور آ گئے ۔ سائلہ نے مذکورہ خواتین کے ساتھ لاہور پہنچ کر حسن محی الدین ، فاطمہ اور رحیق عباسی سے طے شدہ رقم اور شناختی کارڈوں کی واپسی کا مطالبہ کیا تو انہوں نے نہ صرف انہیں پہچاننے سے انکار کر دیا بلکہ زدو کوب کرتے ہوئے سیکریٹیریٹ سے باہر نکال دیا ۔ سائلہ نے اس معاملے میں فیصل ٹاﺅن تھانے سے بھی رابطہ کیا مگر ا س کی کوئی شنوائی نہ ہو سکی ۔
درخواست میں استدعاکی گئی تھی کہ عدالت بے سہارا خواتین کا استحصال کرنے پر تحریک منہاج القرآن کے سربراہ طاہر القادری ، ان کے بیٹے حسن محی الدین ، بیٹی فاطمہ اور رحیق عباسی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے احکامات جاری کرے ۔ عدالت نے گزشتہ روز مذکورہ درخواست کو اس بنا پر نمٹا دیا کہ اس پر فیصل ٹاﺅن تھانے کی جانب سے کوئی ڈائری نمبر نہیں درج تھا جس سے یہ ثابت ہوتا ہوکہ سائلہ نے تھانے سے رجوع کیا تھا ۔ فاضل عدالت نے سائلہ کو ہدایت کی کہ وہ پہلے متعلقہ تھانے سے رجوع کرے ،اگرسائلہ کی داد رسی نہیں ہوتی تو وہ پھر عدالت سے رجوع کرے ۔

مزید :

قومی -