2 سال کی عمر میں بازار میں اپنے والدین سے بچھڑجانے والی لڑکی 17 سال بعد اپنے والدین سے کیسے جاملی؟ جان کر آپ بھی قدرت پر عش عش کر اٹھیں گے

2 سال کی عمر میں بازار میں اپنے والدین سے بچھڑجانے والی لڑکی 17 سال بعد اپنے ...
2 سال کی عمر میں بازار میں اپنے والدین سے بچھڑجانے والی لڑکی 17 سال بعد اپنے والدین سے کیسے جاملی؟ جان کر آپ بھی قدرت پر عش عش کر اٹھیں گے

  

بیجنگ (نیوز ڈیسک) بچپن میں والدین سے بچھڑ جانے والے بچوں کی حالت ان سوکھے پتوں جیسی ہوتی ہے جنہیں طوفانی ہوائیں اڑا کر جانے کہاں سے کہاں پہنچادیتی ہیں اور پھر کبھی ان کا اپنے اصل ٹھکانے کی طرف لوٹنا ممکن نہیں رہتا۔ چین میں ایک دو سالہ بچی کے ساتھ بھی یہی سانحہ پیش آگیا اور بیچاری نانیانگ شہر کی ایک پرہجوم مارکیٹ میں اپنے والدین سے بچھڑگئی۔ نیوز سائٹ نیٹ ایز کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ اکتوبر 1998ء میں پیش آیا اور تانگ شوداؤ نامی یہ بچی 17 سال تک اپنے والدین سے دور رہی۔ تقریباً دو دہائیوں بعد، جب یہ 19 سال کی ہوچکی تھی، تو اس کی قسمت نے ایک اور پلٹا کھایا اور یہ معجزاتی طور پر یہ اپنے والدین کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہوگئی۔

مزید جانئے: سعودی عرب میں آدمی ایسا لباس پہن کر شاپنگ مال میں آگیا کہ پولیس نے گرفتار ہی کرلیا، ایسا کیا پہنا تھا کہ اب کوڑے کھانا پڑیں گئے؟ جان کر آپ کو بھی حیرت ہوگی

تانگ شوداؤ کو اس کے والدین تک پہنچانے والی چیز وہ جدید تکنیک ہے جسے ہم ’ڈی این اے پروفائلنگ‘ کے نام سے جانتے ہیں۔ تانگ کے والدین نے اس کی ہر جگہ تلاش کرنے کے بعد مقامی پولیس سٹیشن میں رپورٹ کی تھی اور ساتھ ہی اپنے ڈی این اے کے سیمپل بھی جمع کروائے تھے۔ دوسری جانب تانگ بھی جب ذرا بڑی ہوئی تو اسے بتادیا گیا تھا کہ اسے پالنے والے اس کے حقیقی والدین نہ تھے اور اس کے دل میں بھی اپنے والدین کو ڈھونڈنے کی شدید خواہش تھی۔ اس نے بچھڑے ہوئے بچوں کو والدین سے ملانے والی ایک ویب سائٹ پر اپنے ڈی این اے کی معلومات اپ لوڈ کردی تھیں۔

مزید جانئے: وہ شہری جس نے اتنے بچے پیدا کئے کہ جج نے واپس جیل بھیجنے کا فیصلہ کرلیا

اس ویب سائٹ نے حکومتی اداروں کے پاس موجود ڈی این اے سیمپلز کے ساتھ موازنے کے دوران بالآخر تانگ کے والدین کو ڈھونڈ لیا۔ تانگ کو جب یہ خوشخبری دی گئی تو اسے اپنی خوش قسمتی پر یقین نہیں آرہا تھا اور وہ بار بار سوال کررہی تھی کہ کیا واقعی اس کے والدین مل گئے ہیں۔ چینی میڈیا کے مطابق غم کے مارے والدین کو بھی ان کی بچی کے ملنے کی خبر کردی گئی ہے اور عنقریب وہ اپنی لخت جگر کو ایک بار پھر اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ سکیں گے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس