ایک طرف شام سے دھڑا دھڑ لوگ بھاگ رہے ہیں، دوسری جانب وہ ملک جس کی سینکڑوں لڑکیوں کو دھوکے سے شام پہنچایا جارہا ہے؟ ایسا کون اور کیوں کررہا ہے؟ جواب کسی کو بھی پریشان کردے

ایک طرف شام سے دھڑا دھڑ لوگ بھاگ رہے ہیں، دوسری جانب وہ ملک جس کی سینکڑوں ...
ایک طرف شام سے دھڑا دھڑ لوگ بھاگ رہے ہیں، دوسری جانب وہ ملک جس کی سینکڑوں لڑکیوں کو دھوکے سے شام پہنچایا جارہا ہے؟ ایسا کون اور کیوں کررہا ہے؟ جواب کسی کو بھی پریشان کردے

  

کٹھمنڈو(مانیٹرنگ ڈیسک) شام کے میدان جنگ بننے کے بعد وہاں سے لاکھوں شہری اپنی جان بچا کر بھاگ رہے ہیں، ایسے میں انکشاف ہوا ہے کہ کچھ بے ضمیر انسانی سمگلر نیپال سے خواتین کو دھوکے سے شام پہنچا رہے ہیں اور وہاں ان سے زبردستی بطور گھریلوملازمہ کام لیا جارہا ہے۔ ان خواتین میں سے بعض کو انتہائی معمولی تنخواہ دی جاتی ہے اور اکثر سے بغیرتنخواہ کے ہی مشقت کروائی جا رہی ہے۔برطانوی اخبار ”دی گارڈین“ کی رپورٹ کے مطابق ان نیپالی خواتین میں سے اکثر کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ انہیں شام لیجایا جا رہا ہے۔ ایجنٹ انہیں بیرون ملک کام دلوانے کا جھانسہ دے کر لے جاتے ہیں اور انہیں شام میں فروخت کرکے رقوم کما رہے ہیں۔ ان خواتین کو شام پہنچ کر پتا چلتا ہے کہ وہ مصیبت میں پھنس چکی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق شام میں فروخت کی گئی ایک 25سالہ نیپالی لڑکی گیانو ریشمی میگر کا کہنا تھا کہ ”میں شام کے متعلق کچھ بھی نہیں جانتی تھی، مجھے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ یہاں جنگ چھڑی ہوئی ہے، مجھ سے ایجنٹ نے دبئی میں نوکری دلوانے کا وعدہ کیا تھا مگر اس نے مجھے شام کے دارالحکومت دمشق پہنچا دیا۔“ ایجنٹ میگر کو نیپال سے بھارت لایا اور وہاں سے عمان لا کر سرحد عبور کی اور شام میں فروخت کر دیا۔ میگر کو جب صورتحال معلوم ہوئی تو اس نے اپنے مالک سے واپس جانے کی التجا کی۔ مالک نے اسے جواب دیا کہ ”ہم نے تمہیں 6ہزار ڈالرز (تقریباً6لاکھ 29ہزار روپے) میں خریدا ہے، ہمیں ہماری رقم لوٹا دو اور گھر چلی جاﺅ۔“

میگر کو خریدنے والے خاندان نے اس کا دنیا سے ہر قسم کا رابطہ منقطع کر دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ ”میں صرف گھر کا کام کرتی اور سوتی تھی، اس کے علاوہ میں نے کچھ نہیں کیا، میں 7ماہ تک گھر سے باہر بھی نہیں نکلی تھی۔جب وہاں بم گرتے اور دھماکے ہوتے تھے تو میرے پوچھنے پر گھر والے بتاتے کہ یہ فوجی ٹریننگ ہو رہی ہے۔ 7ماہ بعد میری گھر کے انٹرنیٹ وائی فائی تک رسائی ہو گئی ۔ تب مجھے اصل صورتحال معلوم ہوئی، مجھے پتا چلا کہ میں دمشق میں موجود ہوں جہاں خونریز جنگ چھڑی ہوئی ہے۔“ میگر نے فیس بک پر اپنے گھر والوں کو اس صورتحال کی اطلاع دی اور بالآخر مصر میں موجود نیپال کے سفارتخانے نے اسے ریسکیو کیا اور دمشق سے نکال کر نیپال پہنچایا۔ وہ 17ماہ تک دمشق میں رہی۔سمگلر نے اسے 160ڈالر(تقریباً16ہزار 800روپے) ماہانہ تنخواہ کی یقین دہانی کروائی تھی مگر دمشق کے اس خاندان نے اسے صرف6ماہ تک تنخواہ دی۔میگر کا کہنا تھا کہ ”جب میں نے اپنے مالک سے تنخواہ کا مطالبہ کیا تو اس نے اپنے پرس سے 20ڈالر نکالے اور میرے طرف پھینک دیئے، اس کے بعد اس نے میرے چہرے پر تھوک دیا۔“

برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق نیپالی خواتین کی شام میں سمگلنگ اور فروخت منافع بخش کاروبار بن چکی ہے اور یہ دھندہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ ایک نیپالی سفارتی اہلکار کا کہنا تھا کہ ”بہت زیادہ نیپالی خواتین کو دمشق سمگل کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال ہم نے تخمینہ لگایا تھا کہ تقریباً300نیپالی خواتین شام میں موجود تھی اور اب ان کی تعداد 600تک پہنچ چکی ہے، یہ بہت زیادہ تعداد ہے۔“سفارتی اہلکار کا کہنا تھا کہ ”نیپال سے خواتین کو دمشق لانا بہت آسان ہے۔ ایجنٹ انہیں دبئی میں نوکری کا جھانسہ دیتے ہیں اور شام لے آتے ہیں۔“ اہلکار نے بتایا کہ ”نیپالی خواتین کو دمشق کے علاوہ شام کے دیگر جنگ سے تباہ حال علاقوں میں بھی بھیجا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ یہ خواتین عراق اور شمالی افریقہ میں بھی سمگل کی جا رہی ہیں۔“

عراق اور شام میں نیپال کا کوئی سفارت خانہ نہیں ہے۔ پاکستان میں موجود نیپال کے سفارتخانے کے ترجمان نے برطانوی اخبار سے بات کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ تقریباً3ہزار نیپالی خواتین کردستان اور عراق میں کام کر رہی ہیں۔ “ ترجمان کا کہنا تھا کہ ”یہ تخمینہ لگایا مشکل ہے کہ ان میں سے کتنی خواتین اپنی مرضی سے وہاں کام کرنے کے لیے گئی ہیں اور کتنی عورتوں کو دھوکے سے لیجایا گیا ہے۔“

مزید : بین الاقوامی