موٹر وے اور زمانی مسافتیں

موٹر وے اور زمانی مسافتیں
 موٹر وے اور زمانی مسافتیں

  

اگر کسی عام آدمی سے اچانک پوچھ لیا جائے کہ وہ اپنی زندگی میں کیا کچھ کرنا چاہتا ہے اور اس کے لئے کونسا انداز اپنائے گا تو یہ سوال اسے وقتی طور پہ شش و پنج میں ڈال سکتا ہے ۔ وجہ یہ ہے کہ آپ کی پیدائش سے لے کر ابتدائی گھریلو ماحول ، تعلیم و تربیت ، یار دوست اور اساتذہ ، یہاں تک کہ پیشے یا کاروبار کے انتخاب تک کتنے ہی چھوٹے بڑے مراحل ایسے ہیں جن سے مستقبل کا منظرنامہ ترتیب پاتا ہے ۔ اسی لئے ناصر کاظمی کے ہم عصر شاعر شاہد نصیر نے کہا تھا :

داستان حیات کو شاہد

حادثے آپ دیتے ہیں ترتیب

مگر داستان حیات کے یہ اسباب ہیں ذرا ذاتی نوعیت کے ۔ وگرنہ دنیا میں یہ بھی ہوا کہ کسی ایک واقعے کے رونما ہونے سے ایک پوری نسل کی سوچ یک لخت تبدیل ہو گئی یا ایک پورے سماجی طبقے کا مزاج بدل گیا ۔ جیسے پاکستان کا قیام جس نے ہم میں سے بہت سے لوگوں کی کایا ہی پلٹ دی ، اور کپتانی سے جرنیلی ، مجسٹریٹی سے ججی اور نائب تحصیلداری سے صدر کے منصب تک کا سفر آسان ہو گیا ۔ نئی صدی کے آغاز پر جن واقعات نے بالائی پاکستان میں ہمارے تصور حیات پہ گہرا اثر ڈالا ان میں لاہور کو اسلام آباد سے ملانے والی موٹر وے بھی ہے ، جس کی شاخیں اب ایک طرف پشاور اور دوسری جانب فیصل آباد کو چھوتی ہیں ۔ میں مخالفانہ اعداد و شمار کی یلغار کا سامنا تو نہیں کر سکتا ، البتہ اس رائے سے متفق ہوں کہ موٹر وے نے کچھ اور دیا یا نہیں ، مسافروں کو تیز تیز اور بڑا بڑا سوچنے کی عادت ضرور ڈال دی ہے ۔ جن پاکستانیوں نے آزادی کا سفر نارتھ ویسٹرن ریلوے کی مسافر گاڑیوں پہ طے کیا تھا ، وہ ایمان سے بتائیں کہ لالہ موسی سے پھلرواں اور ملک وال جانے والی ’تراپڑ تراپڑ‘ ٹرین سے اتر کر ڈائیوو کی بس پر سالٹ رینج کی چڑھائی چڑھنے تک کتنی ذہنی مسافتوں کا فرق ہے ۔

برانچ لائنوں پر زندگی کے سفر کے عادی اس بات کو آسانی سے سمجھ گئے ہوں گے ، مگر میرا اشارہ تو ان علاقوں کی طرف ہے جنہیں اب موٹر وے کا کیچ منٹ ایریا کہنا چاہئیے ۔ کم ہی لوگ مانیں گے کہ انیس سو پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں ، لاہور سے راولپنڈی روانہ ہونے والے مسافر بھی اگلے پچھلے گناہ بخشوا کر اور مناسب مقدار میں سامان خورد و نوش سے لیس ہو کر نکلا کرتے تھے ۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد سڑکوں پر لاریاں نہ ہونے کے برابر تھیں ، اس لئے ریلوے مسافروں کو اس ہدایت پہ عمل کرنا پڑتا :

نہ گنجایش کو دیکھ اس میں نہ تو مردم شماری کر

لنگوٹی کس ، خدا کا نام لے ، گھس جا سواری کر

عبث گننے کی یہ کوشش کہ ہیں کتنے نفوس اس میں

کہ نکلے گا ، بہر عنوان ، تیرا بھی جلوس اس میں

مغربی پاکستان کے صدر مقام اور ملک کے عبوری دارالحکومت کے درمیان ریل کار کے اجراء کے بعد صورتحال میں تھوڑی سی تبدیلی آ گئی ۔ یہ ایڈوانس بکنگ والی تین تین بوگیوں پر مشتمل ہلکی پھلکی گاڑیاں تھیں جنہیں ریلوے کا عملہ ’سبک رفتار‘ اور ’سبک خرام‘ جبکہ عام لوگ ’ڈبہ‘ کہہ کر پکارتے اور خوش ہوتے کہ اب پونے دو سو میل کا یہ سفر آلو والے پراٹھوں اور نان پکوڑوں کے زور پہ نہیں بلکہ سائنس کی مدد سے صر ف پانچ گھنٹے میں تمام ہو جاتا ہے ۔ پھر بھی راستے میں اتنے ’کراس ‘ پڑا کرتے کہ 1970ء کی دہائی کے وسط میں راولپنڈی جاتے ہوئے ایک چھوٹے سے پوٹھوہاری اسٹیشن گہنگریلہ کے پلیٹ فارم پر ، جہاں سہ پہر کو والی بال کا نیٹ لگا ہوتا ، تین مرتبہ کھیل میں شریک ہو نے کا اتفاق ہوا ، اور ذرا واقفیت ہو جانے کے بعد یہ الفاظ سننے کو ملے کہ بابو کو سیکنڈ لائن میں رکھو ، اچھا کھیلتا ہے ۔

آبائی شہر سیالکوٹ سے وزیر آباد جنکشن تک کی ستائیس میل کی مسافت میں ، جو ہمارے لئے کسی بھی لمبے سفر کا نقطہء آغاز ہوتی ، والی بال جیسی منظم تفریحی سہولت تو نظر نہ آئی ، لیکن اس سفر کی ایک خاص بات ذرا سی توجہ سے آپ بھی محسوس کر سکتے ہیں ۔ وہ ہے ہر اسٹیشن کے نام کے درمیان ٹھیک دو دو ماتروں کا فاصلہ جیسے یہ الفاظ بھاپ والی ٹرین کی چھک چھک پہ تال دے رہے ہوں ۔۔۔ اگوکی ، ساہووالہ ، سمبڑیال ، بیگو والہ ، گھڑتل ، سوہدرہ ۔ بیچ میں موسم کے مطابق گندم اور دھان کے لہلہاتے خوشے ، کالے انجن کو خوشدلی سے سلیوٹ کرتے ہوئے دیہاتی بچے اور ریلوے لائن کے ہم سفر کشمیر کے برف پوش پہاڑ ، جن کے سفید ، خاکستری اور بسنتی رنگ شفاف ماحول میں سورج چڑھنے اور اترنے کے عمل میں اپنے ملبوس بدلتے رہتے ۔ لیکن گاڑی کی لے تھی کہ اکتارے پر فقیر کا نغمہ سن کر بھی اس میں کوئی تیزی نہ آنے پاتی ۔

اب موٹر وے کی ’موٹر یت‘ نے مکانی فاصلے میں اضافہ کر کے زمانی مسافت کو کم تو کر دیا ہے ، لیکن اس کی بدولت مسافروں میں ایک نئی طرز کی طبقاتی تقسیم بھی جنم لے رہی ہے ۔ ہمارے والد کے ایک دوست جن کی بیشتر زندگی فوجی چھاؤنیوں میں گزری ، بنی نوع انسان کو کرنیل اور غیر کرنیل کے زمروں میں بانٹتے تھے اور جسمانی صحت ، وضع قطع اور فیصلہ سازی کے انداز کو بنیاد بنا کر یہ بھی کہا کرتے کہ کچھ لوگ عہدے کے کرنل ہوتے ہیں اور بعض طبیعت کے لحاظ سے ۔ یعنی اس کا تعلق محض آپ کے دنیوی رتبے سے نہیں ، بلکہ دوبئی جانے کی طرح یہ بھی ایک کیفیتی معاملہ ہے ۔ اب شاہدرہ اور ٹھوکر نیاز بیگ سے آغاز سفر دو مختلف تجربات ہیں ۔ اسی طرح ٹول پلازہ سے انٹری ڈالنے اور شاہراہ اعظم کے اس مقام سے راولپنڈی پہنچنے والوں میں واضح فرق ہے جہاں چند سال پہلے تک کچہری کے پاس یہ بورڈ لگا ہوا تھا ’بند ہے ، برائے ٹرک ہائے و گڈا جات ۔‘

جب دو بڑے شہروں کے درمیان دو متوازی مگر الگ الگ زمینی راستے موجود ہوں تو ’ڈاچیوں کی مہاریں‘ بھی جدا جدا ہاتھوں میں آ جائیں گی ۔ یہاں تک تو بات سمجھ میں آ گئی اور میرا تمدنی لبرلزم بھی آپ کا ساتھ دیتا رہا ۔ لیکن دو روز پہلے ایک نہائت عزیز دوست نے جو پانچ برسوں میں کم و بیش ہر مہینے ایم ٹو پر عین ایک سو بیس کلو میٹر فی گھنٹہ کی قانونی رفتار سے مسلسل کار چلانے کا ریکارڈ قائم کر چکے ہیں ، یہ کہہ کر طبیعت صاف کر دی کہ انہیں جی ٹی روڈ کے ذریعے لاہور سے اسلام آباد جانے کا راستہ ہی معلوم نہیں ۔ میرا یہ دوست کوئی چھوٹا بچہ نہیں ۔ ماشا اللہ پنتالیس پچاس کے پیٹے میں ہیں ، تعلیم ایم اے ہسٹری اور عہدہ اتنا معزز کہ ایک گریڈ اور اوپر چلے جائیں تو کسی نہ کسی سوء موٹو مقدمے میں بلا تکلف طلب کیا جا سکتا ہے ۔

خدا موٹر وے پر سفر کرنے والوں کی رفتار میں اور برکت ڈالے ۔ مجھے تو صرف یہ ڈر ہے کہ اگر ہمارا جغرافیہ یوں ہی تاریخ کی قیمت پہ پھلتا پھولتا رہا تو شاہراہ اعظم سے ہوتے ہوئے جہلم کے لاری اڈے پر پنڈی کی سواریوں کے بیچ دئے جانے کی عبرت انگیز داستانیں سننے اور سنانے والا کوئی نہیں رہے گا ۔ جی ہاں ، جب اڑتالیس نشستوں والی بس میں بارہ آدمی سفر کر رہے ہوں تو ڈیزل کا خرچہ پورا نہ ہو سکنے کے پیش نظر ڈرائیور اور کنڈکٹر بارہا اپنی سواریاں کسی اور بس والے کے ہاتھ’’ فروخت‘‘ کر دیا کرتے تھے ۔ اس کے لئے انہیں دوسری بس کی انتظامیہ سے ’اوسلو طرز کے مذاکرات ‘ کرنے پڑتے تھے ۔ لیکن گفت و شنید مکمل ہوتے ہی آپ کا سامان اگلی بس کی چھت پہ پہنچ چکا ہوتا اور چھت کے نیچے آپ اور کچھ شریف النفس بکریاں ایک ہی گھاٹ پہ سفر کر رہی ہوتیں ۔ موٹر وے پر چلنے والی نئی بس کمپنیاں اب صرف ’توڑ‘ کی سواریاں بٹھاتی ہیں اور راستے میں انفرادی سطح پہ کوئی غیرمہذب لین دین نہیں کرتیں ۔ اصل میں ان کا ’مک مکا‘ اونچی سطح کا ہے ۔

مزید : کالم