بھٹو کی سالگرہ کے حوالے سے!

بھٹو کی سالگرہ کے حوالے سے!
 بھٹو کی سالگرہ کے حوالے سے!

  

جب بھی کوئی بحران آئے۔ اس کی نوعیت کے مطابق اس سے متعلق حضرات و خواتین کی یاد آ جاتی ہے۔ اگرچہ بعض میدانوں کے چند لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہر دم یاد رہتے ہیں لیکن اکثر یہ ہوتا ہے کہ ایسے لوگ جو انفرادیت کے حامل ہوں وہ خاص مواقع پر یاد آ جاتے ہیں۔ ابھی چند روز پہلے سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی برسی تھی اور ان کی شخصیت کے حوالے سے بہت کچھ سوچ بچار ہوا اور اب پرسوں (منگل) ان کے والد اور پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی سالگرہ کا دن ہے، وہ زندہ ہوتے تو اٹھاسی برس کے ہو گئے ہوتے۔ آج خبر پڑھنے اور اس سے بھی پہلے بردار ضیاء کھوکھر کی طرف سے یاد دہانی کے بعد سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو ازخود یاد آ گئے اور یہ خیال گزرا کہ اگر 4-5 جولائی 77ء کی شب اور پھر 4اپریل 79والے سانحات نہ ہوئے ہوتے تو آج ہمارے ملک کی حالت یہی ہوتی؟ جواب آسان اور مشکل ہے ، آسان یوں کہ یہ سانحہ نہ گزرا ہوتا تو ہمارے پاکستان کے حالات ہی مختلف ہوتے اور مشکل یوں ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو جیسے ذہین اور کرشماتی شخصیت کے حامل لیڈر کے ساتھ جو ہوا، اسے کس خانے میں فٹ کریں گے کہ آج تو ان جیسی شخصیت اور اہلیت کا حامل لیڈر بھی نہیں ملتا۔

ذوالفقار علی بھٹو جتنے مقبول رہنما تھے اتنے ہی انہوں نے اپنے مخالف بھی پیدا کئے اور وہ ایسے ہیں کہ آج بھی ان کو معاف کرنے کو تیار نہیں ہیں، یہ ذہین و فطین آدمی بہت پراعتماد بھی تھا اور ایک راوی کے مطابق یہ اعتماد ہی ان کو تختہ دارتک لے گیا۔اس حوالے سے یاد آتا ہے کہ ایک پولیس آفیسر سردار عبدالوکیل خان ہوتے تھے۔بہت سمارٹ اور تیز طراز آفیسر تھے۔ جب احمد رضا قصوری کے والد نواب محمد احمد خان کا قتل ہوا اور احمد رضا قصوری نے ایف آئی آر میں اپنے ہی لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کا نام لکھوا دیا اور یہ ایف آئی آر سربمہر کر دی گئی۔ اس وقت سردار وکیل خان نے ذوالفقار علی بھٹو سے وقت لے کر ملاقات کی اور ان سے گزارش کی کہ ایف آئی آر کھول کر مقدمہ کی تفتیش کرالی جائے اور اسے ختم کرایا جائے۔ بھٹو بہت پراعتماد تھے انہوں نے جواب میں کہا ’’میں نے کیا کیا ہے جو ڈروں، کوئی بات نہیں رہنے دو‘‘ سردار وکیل کہتے تھے اس مقدمہ میں کچھ بھی نہیں تھا، اگر بھٹو کھلی تحقیقات کرا لیتے تو مقدمہ خارج ہو جانا اور یہ نوبت نہ آتی کہ بعد میں اسی ایف آئی آر کی بنیاد پر ان کو پھانسی پر لٹکایا گیا۔ یہ کیس بھی عجیب ہے جس میں ایک وعدہ معاف گواہ سرمسعود محمود بنا، اسے چھوڑ دیا گیا اور فیڈرل سیکیورٹی فورس کے جن چار ملازمین سے بیان لئے گئے ان کو بھی پھانسی پر چڑھا دیا گیا۔ یوں ایک نواب محمد احمد خان کے بدلے پانچ افراد کو موت دی گئی اور وہ انہی میں فخر ایشیا ذوالفقار علی بھٹو تھے جن کو مرکزی ملزم قرار دیا گیا ان کے خلاف اعانت مجرمانہ (109) کی دفعہ لگائی گئی لیکن وہ سزائے موت کے حق دار ٹھہرے۔ آج وہ تو زندہ ہیں ان کے نام لیوا تو ہیں لیکن باقی حضرات کو کون یاد کرتا ہے؟

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

ذوالفقار علی بھٹو بہت ہی کرشماتی شخصیت کے مالک تھے ہم جیسے صحافی جو ان کے ساتھ اپنے اخبار کی طرف سے بطور رپورٹر ڈیوٹی دیتے رہے، اس سحر میں گرفتار ہوئے اور ہیں ان سے ہم سب کا جو ہماری عمر کے نوجوان تھے تعارف تو ایک پراثر ٹیڈی نوجوان کی حیثیت سے ہوا جو ماڈرن لباس زیب تن کرتے تھے لیکن جب وہ وزیرخارجہ ہوئے تو ان کے جوہر کسی اور ہی انداز میں کھلے اور پھر وہ ایک بہترین مقرر کے طور پر سامنے آئے۔

ہمیں آج بھی وہ سب یاد ہے جب معاہدہ تاشقند کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے فیلد مارشل محمد ایوب خان کے ساتھ اختلاف کیا اور وزارت چھوڑ دی تو کیسی کیسی خبریں اور آراء سامنے آتی رہی تھیں، پہلی بات جو ہمارے کانوں تک پہنچی وہ یہ تھی کہ مغربی پاکستان کے گورنر ملک امیر محمد خان ہین اور ان کے ہوتے ہوئے بھٹو لاہور آنے کی جرات نہیں کریں گے لیکن جب وقت آیا تو یہ سب کجھ نہ ہوا اور بھٹو جادو سر چڑھ کر بولنے لگا۔1966ء کا وہ دن بھی بہت یاد گار ہے اور آج بھی ہمارے سمیت بہت سے حضرات کے ذہنوں پر نقش ہے جب ذوالفقار علی بھٹو بذریعہ ٹرین لاڑکانہ جاتے ہوئے لاہور سے گزرے تو ان کا والہانہ استقبال ہوا اور غالباً اسی پرجوش ہجوم کو دیکھ کر وہ پھر سے لاہور آئے اور بالآخر پیپلزپارٹی کا سفر بھی لاہور ہی سے شروع کیا۔

ان دنوں ضلع لاہور کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر/ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ محترم لودھی صاحب اور لاہور کے سٹی مجسٹریٹ سید ناصر علی شاہ تھے، دونوں ہی شہر کے امن و امان کے ذمہ دار تھے اور ان کی جوڑی مشہور بھی بہت ہوئی تھی ناصر علی شاہ تو ہمارے بہت سے انقلابی طالب علم لیڈروں سے خاص دوستی بنانے میں کامیاب تھے ان میں اکثر آج بڑے لوگ ہیں، جس روز ذوالفقار علی بھٹو نے لاہور سے گزرنا تھا، اس روز لاہوریئے کھلے دل سے ان کے استقبال کے لئے ریلوے سٹیشن جا پہنچے تھے۔ ہمیں یاد ہے کہ لوگ جوق در جوق آ رہے تھے۔ محترم لودھی اور ناصر علی شاہ ایک کمانڈر کی حیثیت سے لاہور ریلوے سٹیشن کے مرکزی حصے کے باہر (گھڑیوں کے نیچے) کھڑے دیکھ رہے تھے۔ ایک مرحلے پر پلیٹ فارم پر جانے کے لئے دھکم پیل ہو گئی اور ایک دو شیشے بھی ٹوٹ گئے ایسے میں ناصر علی شاہ نے پکار کر لاٹھی چارج کرنے کو کہا، یہ بھی ایک دلفریب نظارہ تھا، جب محترم لودھی ایک دم گھبرا کر بولے نہیں ،نہیں۔ کوئی کچھ نہ کرے پھر گویا ہوئے ‘‘ او! شاہ! جی کیا غضب کررہے ہیں، دیکھتے نہیں ہجوم کتنا ہے مرواؤ گے کیا‘‘ یوں پولیس کو روک دیا گیا اور لوگ پلیٹ فارم پر پہنچ گئے، گاڑی آئی پلیٹ فارم پر لگی تو نوجوان گاڑی کی چھت پر بھی سوار ہو گئے اور پرجوش نعرے لگنے لگے ۔ لوگوں نے ذوالفقار علی بھٹو سے باہر آنے کا مطالبہ کیا وہ ہچکچاہٹ کا شکار تھے لوگ بضد اور نعرے لگا رہے تھے اور یوں ان کو اپنے کمپارتمنٹ سے باہر آ کر لوگوں کے جذبات کو دیکھنے کا موقع ملا اور یہ سب ان کی حوصلہ افزائی کے لئے کافی تھا، پھر انہوں نے بہت مختصر الفاظ میں وعدہ کیا کہ وہ جلد ہی لاہور آئیں گے ، ان کو کافی دیر رکنا پڑا اور لوگ دیوانہ وار نعرے لگاتے رہے۔گاڑی تاخیر سے روانہ ہوئی اور مشکل سے لوگوں کو چھت اور گاڑی کے آگے سے ہٹایا گیا تھا۔ بہرحال ریلوے سٹیشن کے اندر کچھ دھکم پیل اور باہر معمولی بدمزگی کے سوا کوئی واقعہ یا حادثہ نہیں ہوا اور یہاں بھی لودھی (مرحوم) کی بروقت کارروائی کام آ گئی۔ بعد ازاں بھٹو طالب علم لیڈر راشد بٹ(مرحوم) کے ایماء پر آئے اور لارڈز ریسٹورنٹ مال پر خطاب بھی کیا، ان دنوں راشد بٹ کے علاوہ امان اللہ خان، فاروق بیدار بخت، احمد رضا خان قصوری اور شیخ جاوید الرحمان بہت سرگرم تھے اور بعد میں بھی رہے۔ ایک رپورٹر کی حیثیت سے ہم نے شروع سے آخر تک ذوالفقار علی بھٹو کی سرگرمیوں کی کوریج کی ہوئی ہے، نہ صرف لارڈز ریسٹورنٹ، بلکہ وائی ایم سی اے اور ضلع کچہری میں بھی ان کی آمد اور تقریروں کو سنا اور رپورٹ کیا تھا، بعدازاں پیپلزپارٹی کے قیام اور پھر بطور چیئرمین پیپلزپارٹی کے ساتھ ساتھ صدر مملکت اور وزیراعظم کے طور پر بھی کوریج کی۔ سالگرہ کی خبر پڑھتے ہی کئی واقعات ایک فلم کی طرح سامنے آ گئے ہیں تاہم سب کچھ لکھنے کے لئے گنجائش نہیں۔ بھٹو بہت مقبول تھے اور انہوں نے ملک کے لئے واقعی بہت کچھ کیا۔ ان کے کئے کئی اہم کام اب بھی مفید ہیں اور ہم استفادہ بھی کر رہے ہیں ان کے چاہنے والے ہیں تو ان کو گناہ گار قرار دینے والے بھی تاہم بہت خوبیوں کے مالک تھے۔

مزید : کالم