جاتے چور کی لنگوٹی

جاتے چور کی لنگوٹی
جاتے چور کی لنگوٹی

  

ٹیکس چوروں کو رعایت ملنے کے بعد پہلا خیال یہ آتا ہے کہ مَیں ٹیکس کیسے چراؤں، میرے پلے تو ککھ بھی نہیں جو تنخواہ ہے اس پر پہلے ہی کٹوتی ہو جاتی ہے۔ گنجی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا کے مصداق مجھ جیسے اور شیدے ریڑھی والے جیسے عوام تو اس سکیم سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتے، جو حکومت نے بہت زیادہ کالا دھن رکھنے والوں کے لئے متعارف کرائی ہے۔ اخبارات بھی بڑے ظالم ہیں انہوں نے اس فیصلے پرجو شہ سرخیاں جمائی ہیں، اُن میں ٹیکس چوروں کو رعایت کے الفاظ استعمال کئے ہیں کوئی غیرت مند پاکستانی تو خود کو ٹیکس چور نہیں کہلوا سکتا، کیونکہ چور کوئی بھی ہو معزز اور با عزت نہیں رہتا، لیکن پاکستان میں سب چلتا ہے۔ یہاں جو جتنا بڑا لٹیرا اور چور ہے اُتنا ہی بڑا آدمی کہلاتا ہے۔ پاکستان میں مرد کی بدصورتی اس کی خالی جیب ہوتی ہے، بے کرداری نہیں، اسی لئے ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ کسی طرح اپنی جیب بھر لے۔ اب وزارتِ خزانہ نے سب ٹیکس چوروں کو اپنی خفیہ دولت جیبوں میں ڈالنے کا سنہرا موقع فراہم کیا ہے دیکھتے ہیں اس سے کون کون فائدہ اُٹھاتا ہے؟

پوچھنے والے پوچھتے ہیں کہ آخر کالا دھن سفید کرنے کے لئے صرف ایک فیصد ٹیکس ہی کیوں رکھا گیا ہے، 10 یا بیس فیصد کیوں نہیں رکھا گیا تاکہ قومی خزانے میں کچھ تو آتا۔ میرا خیال ہے کہ اس کے پیچھے یہ حکمتِ عملی کار فرما ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس سکیم کی طرف راغب کیا جائے تاکہ بعد ازاں انہیں ٹیکس نیٹ میں لایا جا سکے۔ گویا اس بار صرف فصل بوئی گئی ہے جو آنے والے برسوں میں کاٹی جائے گی۔ مثلاً اگر کوئی ایک شخص اپنی دس کروڑ روپے کی خفیہ دولت سامنے لے آتا ہے تو صرف دس لاکھ روپے ادا کر کے وہ اس دھن کو سیاہ سے سفید کر سکتا ہے۔ اگرچہ قومی خزانے کو صرف دس لاکھ روپے ملیں گے مگر سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ وہ شخص جو پہلے بالکل ٹیکس نہیں دیتا تھا دس لاکھ روپے دے کر ٹیکس نیٹ میں آ گیا یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اس کے پاس دس کروڑ روپے موجود ہیں ظاہر ہے وہ اس رقم کو کہیں کاروبار میں لگائے گا یا بنک میں رکھے گا تب بھی اسے ٹیکس تو دینا پڑے گا اور آئندہ برسوں میں وہ ٹیکس دینے سے انکار نہیں کر سکے گا کیونکہ دس کروڑ کی موجودگی تو وہ خود تسلیم کر چکا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ ٹیکس چوروں کو بڑا اچھا دانہ ڈالا گیا ہے۔ جس کے بعد وہ جال میں پھنس جائیں گے۔ اس سکیم کا دوسرا فائدہ یہ ہو سکتا ہے کہ کالا دھن سفید ہونے سے سرمایہ دار ملک میں صنعتیں لگائیں گے، یا نیا کاروبار شروع کریں گے جس سے روز گار میں اضافہ ہوگا اور ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔

میرے ان دلائل سے یقیناً آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ میں اسحاق ڈار کی زبان بول رہا ہوں۔ ہاں یہ دلائل اسحاق ڈار ہی دے سکتے ہیں، مگر کہنے کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں سیدھے ہاتھوں سے کبھی کوئی کام ہوا ہے، یہاں ٹیڑھی انگلیوں سے ہی گھی نکلتا ہے۔ ہمارے قومی اداروں کی جو کارکردگی ہے اسے دیکھتے ہوئے کون کہہ سکتا ہے کہ عام طریقے سے سب کچھ ہوتا رہے گا۔ ایف بی آر ایک محکمہ ہے جس کا کام ملک سے ٹیکس اکٹھا کر کے قومی خزانے کو بھرنا ہے مگر اس کی کارکردگی سب کے سامنے ہے اس نے کوئی بہتر کام کئے ہوتے تو آج ٹیکس ایمنسٹی جیسی سکیم نہ متعارف کرانی پڑتی۔ میں سوچ رہا ہوں کہ اگر ایسی سکیمیں نہ آئیں اور سب کچھ اُسی طرح چلتا رہے جیسا کہ چل رہا ہے تو ٹیکس چوروں کی تعداد بڑھ جائے گی کم نہیں ہو گی، کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں ٹیکس دینے کا کلچر ہی نہیں، لیکن بھائیو! جہاں ٹیکس جمع کرنے والے محکمہ کے لوگ خود لوگوں کو ٹیکس چوری کی ترغیب دیں اور راستے بتائیں وہاں کسی کو کیا تکلیف ہے کہ وہ ٹیکس دے۔ جب لوگوں کا آدھے سے بھی کم پیسوں میں کام ہو جاتا ہے تو انہیں کیا پڑی ہے کہ پورا ٹیکس بھی دیں اور پھر ٹیکس دفاتر کے چکر بھی کاٹیں۔ ایف بی آر نے گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ ایک بار پھر 31 جنوری تک بڑھا دی ہے بار بار ایسا کیوں کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کی وجہ وہ گوشوارہ ہے جو شیطان کی آنت بنا دیا گیا ہے۔ جس میں ایسی تفصیلات بھی پوچھی جاتی ہیں جن کا ان کے موجودہ اسٹیٹس سے کوئی تعلق ہی نہیں پھر وہ اتنا مشکل ہے کہ عام آدمی اسے پر کر ہی نہیں سکتا مجھے 21 ویں گریڈ کے اکاؤنٹس گروپ سے تعلق رکھنے والے ایک سی ایس پی دوست نے بتایا کہ خود انہیں اپنا گوشوارہ پر کرنے کے لئے ایک ہفتہ لگا۔ حالانکہ تمام معلومات بھی موجود تھیں اور اکاؤنٹس کے معاملات کو سمیٹنے کی صلاحیت بھی۔

مجھے تو لگتا ہے ایف بی آر والے خود ٹیکس نیٹ بڑھانے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، وہ معاملات کو اس قدر پیچیدہ بنا کر پیش کرتے ہیں کہ لوگ خوفزدہ ہو کر بھاگ جائیں۔ انہوں نے خود کو خوف کی علامت بنا کر رکھا ہوا ہے۔ اربوں روپے کی ٹیکس چوری ان کے بغیر ممکن نہیں۔ سب کچھ سامنے ہونے کے باوجود وہ کسی کے خلاف کارروائی نہیں کرتے البتہ اپنا گھر ضرور پورا کر لیتے ہیں۔ ایف بی آر اس قدر بے بس ادارہ ہے کہ کسی بڑی مچھلی پر ہاتھ ڈال ہی نہیں سکتا۔ ارکان اسمبلی اور وزراء کے گوشوارے سامنے آتے ہی صاف لگ رہا ہوتا ہے کہ حقائق چھپائے جا رہے ہیں لیکن ایف بی آر کی یہ مجال نہیں ان کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔ اسی طرح بڑے بڑے صنعت کار، تاجر، وڈیرے، سرمایہ دار ٹیکس نہیں دیتے۔ لاہور کی مختلف مارکیٹوں میں روزانہ اربوں روپے کا کاروبار ہوتا ہے لیکن اگر کوئی اس بات کا کھوج لگانے کی کوشش کرے کہ یہاں سے روزانہ ٹیکس کتنا اکٹھا ہوتا ہے تو وہ چند لاکھ روپے بھی نہیں نکلے گا۔ لاکھوں روپے روزانہ کی سیل کرنے والے تاجر ٹیکس دینے کے معاملے میں ہاتھ کھڑے کر لیتے ہیں۔ اگر کوئی کارروائی کی جائے تو شٹر ڈاؤن ہڑتال کی دھمکی دے کر حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ اب ایسے لوگوں کو آپ ٹیکس چھوٹ دے کر نیٹ میں لے بھی آئیں گے تو ریاستی مشینری کا استعمال کئے بغیر آپ کیسے ان سے ٹیکس وصول کر سکیں گے؟ جب ان کو یہ معلوم ہے کہ ہر چند سال بعد ٹیکس چوروں کے لئے ایک سکیم آ جانی ہے تو وہ کیوں ٹیکس دیں گے؟

اپوزیشن نے ٹیکس ایمنسٹی سکیم کو مسترد کر دیا ہے اور اس کے خلاف سخت مزاحمت کا فیصلہ کیا ہے۔ اپوزیشن سے یہی امید کی جا سکتی ہے۔ مگر کیا اس سکیم ک مخالفت سے بات بن جائے گی۔ اس کا ہمیں کیا فائدہ ہوگا؟ ٹھیک ہے کچھ لوگوں کا کالا دھن سفید نہیں ہوگا۔ مگر اس کا فائدہ تو پھر بھی کچھ نہیں، ٹیکس چوروں اور کالا دھن رکھنے والوں کا دھندہ توکل بھی جاری تھا اور آج بھی جاری ہے۔ ٹیکس چوری میں کتنے لوگ پھانسی چڑھ گئے ہیں یا انہیں سزائیں ملی ہیں کہ جن سے خوف کھا کے ملک میں لوگ ٹیکس دینے لگیں۔ یہاں تو ہر بڑا ٹیکس چور دندناتا پھر رہا ہے۔ وہ قومی خزانے کو دیتا کچھ نہیں مگر مراعات بھی لیتا ہے اور کالے دھن کے بل بوتے پر پاکستانی سیاست و معیشت پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ اپوزیشن اگر واقعی سنجیدہ ہے تو اس سکیم کی مخالفت پر پوائنٹ سکورنگ کرنے کی بجائے قانون سازی کی طرف توجہ دے۔ ایسے قوانین لائے جائیں جن کی وجہ سے ہر صاحبِ حیثیت کو اپنی دولت اور رہن سہن کے اخراجات کا حساب دینا پڑے۔ اس وقت جو قوانین رائج ہیں، وہ اس قدر ڈھیلے ڈھالے ہیں کہ کوئی بھی با اثر اہل ثروت اور اہل اقتدار اِن قوانین کو بے اثر کر کے رکھ دیتا ہے۔ خود مقتدر حلقوں نے اس قسم کے قوانین کو رائج کر رکھا ہے، تاکہ گاہے بگاہے بینکوں سے لئے ہوئے قرضے معاف کرا سکیں، اپنے اثاثوں کی اونے پونے مالیت ظاہر کر کے ٹیکس بچا لیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اربوں روپے کی آمدن کو جائز ثابت کر کے ترقی پر ترقی کئے چلے جائیں۔

پنجابی کا ایک محاورہ ہے کہ ’’جاندے چور دی لنگوٹی سہی‘‘ یعنی بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی ہاتھ آ جائے تو کافی ہے۔ ٹیکس چور مافیاز کو کالا دھن سفید کرنے کی یہ سکیم بھی اسی محاورے کا عکس نظر آتی ہے۔ جس میں ٹیکس چوروں سے ایک فیصد لے کر ان کی لنگوٹی کھینچنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ تو اب اعداد و شمار ہی بتائیں گے کہ کتنے چوروں نے اس سکیم سے فائدہ اٹھایا اور کتنا ٹیکس حکومتی خزانے میں جمع ہوا لیکن ایک بات طے ہے کہ ایک بار پھر اس ملک میں چور جیت گئے ہیں اور قانون ہار گیا ہے۔ اب یہ ٹیکس چور اربوں روپے کا کالا دھن سفید کرا کے معززین کہلائیں گے اور کوئی بعید نہیں کہ آنے والے انتخابات میں یہی کالا دھن بہا کر وہ اسمبلیوں میں پہنچ جائیں۔ اب یہ کوئی نہ کہے کہ پہلے کون سے سفید دھن والے اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں، صرف چند ہزار روپیہ ٹیکس دینے والے ہی تو حکمرانی کر رہے ہیں۔

مزید : کالم