قائدِ اعظم اکیڈمی میں ایک دن

قائدِ اعظم اکیڈمی میں ایک دن
 قائدِ اعظم اکیڈمی میں ایک دن

  

کراچی شہر کی ایک سڑ ک جو بندر روڈ کہلاتی تھی اس پر بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کا مزار واقع ہونے کی وجہ سے اب وہ سڑک ایم اے جناح روڈ کہلاتی ہے گویا یہ سڑک قائد اعظم کے نام سے موسوم ہے اسی سڑک پر قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار کے مرکزی دروازے کے عین سامنے ایک پرانی عمارت میں قائداعظم اکیڈمی قائم ہے قائد اعظم اکیڈمی میں جانے کا موقع اب شاذوناذر ہی ملتا ہے ۔

25 دسمبر 2015کو قائد اعظم محمد علی جناح کے 139ویں ولادت کے موقع پر چینل نے یہ ذمہ داری عائد کی کہ قائد اعظم اکیڈمی پر ایک پیکیج بنایا جائے اس مقصد کے لئے جب وہاں پہنچے تو یہ جان کر بہت دکھ ہوا کہ اکیڈمی کا جناح ہال خالی ہے صرف ایک لائبریرین موجود تھا عملہ کے دیگر ارکان اپنی نشستوں پر برا جمان تھے ۔وہ قائداعظم اکیڈمی جہاں تحریکِ پاکستان ، قائداعظم محمد علی جناح اور تحریکِ پاکستان کے عظیم رہنماؤں پر لکھی گئی لاکھوں کتابیں اور دستاویزات موجود ہیں اسکے ہال میں سناٹا کیوں ہے یہ قوم آخر کس جانب چل پڑی ہے اپنے اسلاف کے بارے میں کچھ جاننا ہی نہیں چاہتی ہے یہ ہماری حکومتوں کی غلطیاں تو نہیں جس کے باعث آج کی نسل اس جانب راغب ہی نہیں ہے ہم اسی شش وپنج میں مبتلا تھے کہ ہمارے ساتھ موجود سینئیر صحافی نصیر احمد سلیمی نے اپنی یادیں تازہ کرنا شروع کردیں انہوں نے بتایا کہ 80/90کی دہائی میں یہاں ریسرچ کا کام بڑی شد و مد کے ساتھ ہوتا تھا یہاں روزانہ سیمینار ہوا کرتے تھے اور علمی اسکالر یہا ں آتے تھے اور اپنے مقالے پیش کرتے تھے یہاں موجود دستاویزات سے تحریکِ پاکستان کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے تھے ان کا کہنا تھا کہ خواجہ رضی حیدر جو معروف دانشور ہیں نے قائد اعظم اکیڈمی میں 27سال کام کیا انہیں یہاں کے ڈائریکٹر کا اضافی چارج بھی دیا گیا ان کے دور تک بھی اکیڈمی میں علمی ماحو ل رہا لوگ جوق در جوق یہاں آتے تھے انہوں نے کہا کہ خواجہ رضی حیدر جوخود بھی مصنف ہیں انکی پہلی کتاب "قائد اعظم کے 72سال "ہے انکی ایک کتاب "رتی جناح" کے نام سے بھی ہے قراردادِ پاکستان کی جتنی بھی تجاویز آئی تھیں خواجہ رضی حیدر نے انہیں مرتب کیا ۔خواجہ رضی حیدر 2007کے بعدقائد اعظم اکیڈمی سے چلے گئے خواجہ رضی حیدر کے بعد یہاں کوئی مستقل ڈائریکٹر ہی نہیں آیا اور جو یہاں آئے وہ علمی ذوق و شوق سے بے بہرہ تھے۔

قائداعظم اکیڈمی کی تاریخ یہ ہے کہ بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح کی ولادت کے 100سالہ جشن کو منانے کے لئے 1976میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی کمیٹی کا مقصد قائد کے شایان شان تقریبات کا انعقاد کرنا تھا کمیٹی کے چیئرمین سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو ،وائس چیئر مین عبدالحفیظ پیر زادہ تھے دیگر ارکان میں ڈاکٹر احمد حسن دانی ،ڈاکٹر رضی واسطی ،ڈاکٹر وحید الزماں ،بیگم شائستہ اکرام اللہ ،سید ہاشم رضا ،ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی ،شریف الدین پیر زادہ، مولاناظفر انصاری اور مختار زمن جیسے دانشور شامل تھے کمیٹی معروف مورخ اور ماہر آثارِ قدیمہ ڈاکٹر احمد حسن دانی کی سربراہی میں قائم کی گئی کمیٹی نے بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کے جشنِ ولادت کے 100 سال مکمل ہونے پر بڑی تقریبات کا انعقاد کیا مختلف سیمینار کروائے گئے پاکستان ٹیلی وژن نے صد سالہ جشن پر پروگرام نشر کئے حکومت نے یاد گاری ٹکٹ کا اجراء کیا الغرض اسے بانی پاکستان کے شایان شان منایا گیا مذکورہ کمیٹی نے اپنی سفارشات کی روشنی میں ایک قراداد پیش کی جس کے ذریعے قائد اعظم اکیڈمی کا قیام عمل میں لایا گیا ۔قائد اعظم اکیڈمی کا مقصد قائد اعظم محمد علی جناح ،تحریک پاکستان اور تحریک پاکستانِ کے رہنماؤں کے حوالے سے مستند تاریخ مرتب کرنا تھا ،کیونکہ زندہ قومیں اپنے اسلاف کی تعلیمات کو عام کرنے کے لئے آآ تاریخیں مرتب کرتی ہیں ،تاکہ آنے والی نسلیں تاریخی حقائق سے نہ صرف آگاہ ہو سکیں، بلکہ اپنے اسلاف کی تعلیمات اور جدوجہد کو مشعلِ راہ بناسکیں قائد اعظم اکیڈمی کو ایک خودمختار ادارے کے طور پر قائم کیا گیا تھا اکیڈمی خود مختار ادارے کے طور پر ریسرچ کے امور انجام دیا کرتا تھا شریف المجاہد ،ڈاکٹر وحید احمد ،ڈاکٹریعقوب مغل اور خواجہ رضی حیدر جیسے علم و ادب کا ماضی رکھنے والے دانشوروں نے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دیں ان افراد کے دور میں قائد اعظم اکیڈمی میں ریسرچ کا بے پناہ کام کیا گیا بڑے بڑے علمی اسکالر اکیڈمی تشریف لاتے اور سیمیناروں میں شریک ہوتے تھے تحریک پاکستان ،قائد اعظم اور تحریکِ پاکستان کے رہنماؤں کے بارے میں ریسرچ مقالے پیش کئے جاتے تھے ۔

قائد اعظم اکیڈمی کی موجودہ بلڈنگ 9 لاکھ روپے میں خریدی گئی تھی اکیڈمی کا سالانہ بجٹ 80لاکھ روپے مختص تھا جس سے عملے کی تنخواہ ادا کی جاتی اور باقی رقم سے ریسرچ کام ہوتا تھا خواجہ رضی حیدر2007تک قائد اعظم اکیڈمی کے ڈائر یکٹر رہے انکے بعد اکیڈمی کو بجٹ ملنا بند ہوگیا جس کے بعد اکیڈمی زبوں حالی کا شکار ہوتی چلی گئی ریسر چ تو دور کی بات عملے کی تنخواہوں کے لالے پڑ گئے حکومت کی توجہ اس جانب یکسر ختم ہوکر رہ گئی ہے لاکھوں کتابوں اور دستاویزات کی حفاظت خطرے میں ہے انہیں محفوظ بنانے کے لئے فیومیگیشن بہت ضروری ہے جو گذشتہ دو دہائیوں سے نہیں ہوئی خدشہ ہے کہ دستاویزات کو دیمک نہ لگ جائے ماضی میں قائد اعظم اکیڈمی کا سربراہ کوئی دانشور یا علمی شخصیت کو بنایا جاتاتھا ،لیکن موجودہ سربراہ محکمہ اطلاعات کا ایک افسر طارق اسد ہے جو دو گھنٹے اکیڈمی میں باقی اپنے محکمے میں صرف کرتا ہے ،کیونکہ اس کے پاس اضافی چارج ہے، البتہ طارق اسد نے ایڈمنسٹریشن کے حوالے سے کام ضرور کیا ہے اسکی کاوشوں سے اکیڈمی کے عملے کو نہ صرف تنخواہ باقاعدگی سے ملنے لگی ہے، بلکہ بعد از ریٹائر منٹ ملنے والی گریجویٹی بھی منظور ہوگئی ہے اس بات کا اعتراف اکیڈمی کا عملہ ببانگ دہل کرتا ہے اب معاملہ ہے کہ اکیڈمی میں موجود کتابوں کے بارے میں نوجوان نسل کوآگاہ کرنے اور نوجوان نسل کو اس جانب راغب کرنے کے لئے ٹھوس اقدمات کئے جائیں اس کے لئے ضروری ہے کہ کسی علمی و ادبی شخصیت کو اکیڈمی لاکر بٹھا یا جائے ۔قائد اعظم اکیڈمی میں ہزاروں کی تعداد میں کتابیں موجود ہیں تقسیمِ ہند ،تحریکِ پاکستان پر 2لاکھ دستاویزات ہیں مسلم لیگ کے حوالے سے ریکارڈ یہاں ہے صدرِ مملکت قائد اعظم اکیڈمی کے سرپرست ہوتے ہیں یہ ذمہ داری صرف سابق صدر مرحوم ضاالحق نے پوری کی وہ واحد صدر تھے جو دو بار اکیڈمی آئے وہ قائداعظم اکیڈمی کمپلکس کی تعمیر میں بھی بہت دلچسپی رکھتے تھے اسی لئے ان کے دورِ حکومت میں مزارِ قائد کے با لمقابل جوآج کل پارکنگ کے لئے مقرر ہے وہاں اکیڈمی کی تعمیر کے لئے باقاعدہ نقشے تیار کئے گئے PC-1 بھی ترتیب دیا گیا ،لیکن شومئی قسمت کہ وہ اس پر عمل در آمد نہیں کرواسکے اور آنے والی حکومت نے اسے ردی کی ٹوکری کی نذر کردیا ۔صدرِ مملکت ممنون حسین جو اکیڈمی کے سرپرست بھی ہیں ،لیکن اکیڈمی ان کی توجہ سے محروم ہے وہ ویسے تو قائد اعظم اور پاکستان کے بارے میں خاصی دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہیں، مگر قائد اعظم اکیڈمی کے بارے میں وہ شاید لاعلم ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ 25دسمبر کو مزارِ قائد تشریف لائے ،لیکن قائد اعظم اکیڈمی ان سے محروم ہی رہی 24دسمبر کو دنیا ٹی وی کے پروگرام میں معروف صحافی مجیب الرحمن شامی صاحب نے بھی اس جانب توجہ دلائی انہوں نے تو قائد اعظم اکیڈمی کے لئے اناللہ و انا الیہ راجعون بھی پڑھ دیا ،کیونکہ جب پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ کے دورِ حکومت میں بھی اس پر توجہ نہیں ہوگی تو پھر تو یقیناًاکیڈمی کی موت ہی واقع ہوجائے گی ۔

مزید : کالم