تعمیر و ترقی میں مصروف عمل

تعمیر و ترقی میں مصروف عمل
 تعمیر و ترقی میں مصروف عمل

  

وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف کے ترقیاتی ویژن کے تحت لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل احد خان چیمہ کی زیر نگرانی ایل ڈی اے نے سال 2015ء کے دوران شہر کی تعمیر و ترقی کے سلسلے میں متعدد اہم سنگ میل عبور کئے ۔ عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کے باعث 12سال سے پلاٹوں کا قبضہ حاصل کرنے کے منتظر ایل ڈی اے ایونیو ون کے متاثرین کا طویل انتظار ختم کرنے کے لئے سکیم کی ری پلاننگ کر کے 1599اضافی پلاٹ تخلیق کئے گئے جو دو مرتبہ قرعہ اندازی منعقد کرکے متباول پلاٹوں کے طور پر متاثرین کو الاٹ کر دئیے گئے ۔مقدمات کے فیصلے کے بعد باقی 1616متاثرین کو بھی پلاٹ دینے کا انتظام کیا جائے گا ۔ایل ڈی اے کی سکیموں میں غیر قانونی طریقے سے حاصل کردہ پلاٹوں/دیگر جائیدادوں کے نیک نیت حقیقی خریداروں کے مفادات کے تحفظ اور خلاف قواعد تعمیر کردہ عمارتوں اور ہاؤسنگ سکیموں کے مالکان کے ایل ڈی اے کے ساتھ تنازعات کے منصفانہ تصفیے کے لئے لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کمیشن تشکیل دیا گیا۔ ایل ڈی اے کے دفتری امور کی مکمل کمپیوٹرائزیشن‘ رہائشی سکیموں میں واقع پلاٹوں کا ریکارڈ مرحلہ وارکمپیوٹرائز کرنے اور تمام 80ہزار فائلوں کی سکیننگ کے لئے ڈویلپمنٹ اینڈ امپلی مینٹیشن آف انٹیگریٹڈ کمپیوٹرائز سسٹم کے منصوبے پر عمل درآمد کا آغاز کیا گیا جس پر28کروڑ50لاکھ روپے کی لاگت آئے گی ۔ پلاٹوں کی ٹرانسفر کے دوران شہریوں کو درپیش مشکلات کے ازالے اور کم از کم وقت میں ا ن کی درخواستوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لئے 'ریکارڈ سفٹنگ سیل 'قائم کیا گیا جو تمام پراپرٹی فائلوں کا ایک ایک کر کے تفصیلی جائزہ لے رہا ہے ۔نئی رہائشی سکیم ایل ڈی اے سٹی کی ایل ڈی اے سے جاری شدہ فائلوں کی ٹرانسفر شروع کر دی گئی اور اس مقصد کے لئے ایل ڈی اے آفس جوہر ٹاؤن میں خصوصی طور پر علیحدہ دفتر قائم کیا گیا۔ ایل ڈی اے نے 270 موٹر سائیکلیں خرید کر ملازمین کو قرعہ اندازی کے ذریعے الاٹ کیں۔ ملازمین سے ان کی قیمت بلا سود قسطوں میں وصول کی جا رہی ہے ۔

لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے انجینئرنگ ونگ نے پونے دو ارب روپے کی لاگت سے مولانا شوکت علی روڈ جوہر ٹاؤن کو براستہ پنجاب یونیورسٹی و کریم بلاک علامہ اقبال ٹاؤن ملتان روڈ سے منسلک کرنے کے لئے 3.4کلومیٹر طویل سڑک اور ٹھوکر نیاز بیگ سے مسلم ٹاؤن کی طرف جانے والی ٹریفک کے لئے نئے فل ڈیپتھ انڈر پاس کی تعمیر مکمل کی اور کریم بلاک علامہ اقبال ٹاؤن سے گزرنے والی دو رویہ سڑک کی توسیع و بحالی کا کام کرنے کے علاوہ کھاڑک نالے پر تین پل بھی تعمیر کئے گئے ۔

ایل او ایس فیروز فیروز روڈ سے ملتان روڈ تک 4ارب35کروڑ روپے کی لاگت سے 2 کلومیٹر طویل سڑک کی تعمیر مکمل کی گئی جس سے روزانہ70ہزار گاڑیوں کو فائدہ ہو رہا ہے ۔ دو اہم بین الاضلاعی سڑکوں ملتان روڈ اور فیروز پور روڈ کو آپس میں ملانے وا لی یہ دو رویہ سڑک لاہور میں اپنی نوعیت کی پہلی سڑک ہے جو40فٹ سے60فٹ تک چوڑی ڈرین کو ڈھانپ کر تعمیر کی گئی ہے۔ایل ڈی اے کی طرف سے 2ارب 40کروڑ روپے کی لاگت سے قرطبہ چوک سے لبرٹی چوک تک جیل روڈ اور مین بلیوارڈ گلبرگ پر 7کلومیٹر طویل سگنل فری راستے کی تعمیر کا کام جاری ہے جس کے تحت شادمان چوک اور فوارہ چوک میں دو انڈر پاسز کی تعمیر مکمل کی جا چکی ہے جبکہ مین بلیوارڈ گلبرگ سے شیر پاؤ پل کی جانب فلائی اوور کی تعمیر کاکام جاری ہے ۔دو ارب 42کروڑ روپے کی لاگت سے مین روڈ شیخوپورہ کی تعمیر نو ‘ توسیع اور بہتری کا منصوبہ مکمل کیا گیا ۔

لاہور میں پاکستان کے پہلے میٹرو ٹرین منصوبے اورنج لائن کا تعمیراتی کام بھی جاری ہے جس کے سول ورکس پر 55ارب روپے لاگت کا تخمینہ ہے ۔ پنجاب میں نجی سرمائے سے بی او ٹی کی بنیاد پر پہلا ترقیاتی منصوبہ مکمل کرنے کے لئے نجی کمپنی کے ساتھ کئے جانے والے معاہدے کے تحت نجی کمپنی 3ارب روپے سے کاہنہ کاچھا۔ڈیفنس روڈ ریلوے کراسنگ پر ڈیڑھ کلومیٹر طویل فلائی اوور تعمیر کررہی ہے ۔نجی شعبے کے اشتراک سے شاہدرہ سے رچنا ٹاؤن کا لاشاہ کاکو تک جی ٹی روڈ پر چھ کلومیٹر طویل ایکسپریس وے کی تعمیر کے لئے بھی ضروری انتظامات تیزی سے مکمل کئے جا رہے ہیں ۔ راوی ٹال پلازہ سے امامیہ کالونی ریلوے کراسنگ کے بعد رچنا ٹاؤن تک یہ ایکسپریس وے دونوں اطراف سے ٹریفک کے لئے تین تین لین پر مشتمل ہو گی جن کے درمیان میٹر و بس کے لئے دو لین پر مشتمل خصوصی راستہ بھی تعمیر کیاجائے گا ۔ننکانہ صاحب اور شیخوپورہ میں ہاکی سٹیڈیم کی تعمیر کا کام جاری ہے۔

ایل ڈی اے کی ذیلی ایجنسی ٹیپا نے شہر کے جنوبی علاقوں کو براہ راست موٹر وے سے ملانے کے لئے 2ارب 61کروڑ روپے کی لاگت سے موٹر وے شاہ پور کانجراں ملتان روڈ سے براستہ کینال روڈ ‘ رائے ونڈ روڈ‘ خیابان جنا ح تک لنک روڈ کی تعمیر مکمل کی جس سے ٹھوکر نیاز بیگ جنکشن پر ٹریفک کے دباؤ اور خیابان جناح سے موٹر وے تک جانے کے لئے 3.5کلومیٹر فاصلے کی کمی ہوئی ہے ۔ اس منصوبے کی تکمیل سے روزانہ65ہزار گاڑیوں کو فائدہ ہو رہا ہے اور سالانہ 57کروڑ روپے کی ایندھن کی بچت ہو گی ۔ان منصوبوں کی تکمیل سے شہر میں ٹریفک کی روانی میں خاطر خواہ بہتری آئی ہے ‘ روزانہ لاکھوں شہریوں کے وقت کی بچت ‘آمدورفت میں سہولت اور پٹرول میں کفایت ہو رہی ہے ۔

ایل ڈی اے کے ٹاؤن پلاننگ ونگ نے سال 2015ء کے دوران مستقل اور سالانہ کمرشلائزیشن فیس کی مد میں مجموعی طور پر3 ارب 9 کروڑ7لاکھ روپے سے زائد کی رقم وصول کی۔مستقل کمرشلائزیشن کروانے والی عمارتوں سے اس عرصے کے دوران 2 ارب80کروڑ53 لاکھ روپے وصول کئے گئے جبکہ سالانہ کمرشلائزیشن فیس کے طور پر ایل ڈی اے کوتقریبا 28کروڑ 54لاکھ روپے جمع کروائے گئے۔وصولی تیز کرنے کے لئے سال بھر کے دوران 2902پراپرٹیز کو سر بمہر کیا گیا جن سے بعد ازاں مطلوبہ فیس کی وصولی کی گئی ۔ عمارتوں کی مستقل کمرشلائزیشن کے لئے وصول ہونے والی تمام 2569 درخواستیں نپٹا دی گئیں ۔ٹاؤن پلاننگ ونگ نے عمارتی نقشوں کی منظوری کے لئے وصول ہو نے والی16702 میں سے15602 اورکمپلیشن سرٹیفکیٹ کے اجراء کے لئے وصول ہونے والی3123 میں سے3021 درخواستیں بھی نپٹادیں ۔ٹاؤن پلاننگ ونگ کی طرف سے مختلف رہائشی سکیموں اور کنٹرولڈ ایریا میں 670غیر قانونی عمارتو ں اور ناجائز تعمیرات کو مسمار کیا گیا ۔

ایل ڈی اے کے میٹرو پولیٹن پلاننگ ونگ نے شہریوں کی جمع پونجی کے تحفظ اور انہیں لاہور ڈویژن میں واقع غیر قانونی رہائشی سکیموں سے خبردار کرنے کے لئے اخبارات کے ذریعے بھر پور آگاہی مہم چلائی ۔ 4نئی پرائیویٹ رہائشی سکیموں کی منظوری دی ۔ ترقیاتی کاموں میں تاخیر کی بناپر 200پرائیویٹ رہائشی سکیموں کو شوکاز نوٹس جاری کئے گئے۔غیر قانونی سکیموں کے خلاف38ایف آئی آر درج کروائی گئیں اور وہاں قائم کی جانے والی تعمیرات کی مسماری کے لئے 45آپریشن کئے گئے ۔ ٹرانسفر یا مارگیج ڈیڈ نہ کروانے کی بناء پر40رہائشی سکیموں کے دفاتر سر بمہر کئے گئے ۔ پرائیویٹ رہائشی سکیموں کی طرف سے 10ٹرانسفر ڈیڈاور7مارگیج ڈیڈ کروائی گئیں۔منظور شدہ سکیم پلان کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مفادِ عامہ کے لئے مختص پلاٹوں پر غیر قانونی تعمیرات کرنے کی بناء پر 38پرائیویٹ رہائشی سکیموں کے خلاف تقریباً80آپریشن کئے گئے ۔

لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ون ونڈو سیل پر تمام ڈائریکٹرزنے روزانہ دن 11سے 12بجے تک اپنی حاضری یقینی بنا کر شہریوں سے بالمشافہ ملاقات کی اور ذاتی طور پران کے مسائل سن کر اور ان کی درخواستوں پر بلا تاخیر عمل درآمدکے لئے ضروری اقدامات کئے ۔ سال2015ء کے دوران شہریوں کی طرف سے ون ونڈو سیل پر مختلف نوعیت کی 68ہزار6سو87درخواستیں جمع کرائی گئیں جن میں سے64ہزار2 سو69 درخواستوں پر ضروری کارروائی کی گئی۔ ہر روز اوسطاً233درخواستیں وصول ہوئیں جبکہ218نپٹائی گئیں۔ اس طرح یہاں عوامی درخواستیں نپٹانے کی شرح93فی صد رہی۔ ایل ڈی اے کے سیکورٹی فیچرڈ ڈا کیو منٹ سیل کی طرف سے25اقسام کی مجموعی طور پر21860دستاویزات کا اجراء کیا گیا جن میں ٹرانسفر لیٹر‘سینکنشن پلان‘ ایلوکیشن لیٹر‘کمپلیشن لیٹر‘فزیکل پوزیشن ایکسچینج لیٹر‘ایگزمشن لیٹر‘پی ٹی ایم اور دیگر دستاویزات شامل ہیں۔

مزید : کالم