خواتین کے استحصال کے خلاف حکومت پنجاب کے عملی اقدامات

خواتین کے استحصال کے خلاف حکومت پنجاب کے عملی اقدامات
 خواتین کے استحصال کے خلاف حکومت پنجاب کے عملی اقدامات

  

معاشرے کی ابتداء اس وقت ہوئی جب حضر ت آدمؑ اس دنیا میں ظہور پذیر ہوئے اور انہی کی پسلی سے انسانیت کی والدہ حضرت اما ں حوا ؑ جلوہ فرما ہوئیں۔مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سماجی فلاح وبہبود،معاشرتی نظم وضبط،سیاست،معاشرتی استحکام اور دیگر شعبوں میں خواتین کے کردار کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔خواتین کی اہمیت سے انکار تو کوئی معاشرہ بھی نہیں کر سکتا۔عورت ہر روپ اور ہر رشتے میں عزت، وقار،وفاداری اور ایثار کا پیکر ہے۔حیاء اور نسوانیت عورت کا اصل وصف اور حقیقی حسن ہے اورپھر یہی خوبیاں نمو پا کر خلوص ،ہمدردی،ایثار اور مستقبل مزاجی جیسے باوقار جذبوں کی شکل میں عیاں ہوتی ہے۔خواتین کا احترام دراصل نوع انسانی کے احترام کے مترادف ہے۔اسلام نے جدید ترقی یافتہ نظام کی بنیاد رکھی۔جہاں حقوق کو غضب کرنا،ظلم وجبر،تکبر،طاقت کے بے جا استعمال کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔بیٹیوں کی ولادت کو باعث شرم سمجھنا اور اس جیسے دیگر اطوار کی حوصلہ شکنی بھی کی ہے۔انسان تو انسان بلکہ ہر جاندار کے حقوق کا احترام سکھایا ہے۔عورت کو ایسا باعزت مقام عطا کیا جو کہ رہتی دنیا تک ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔

لیکن بدقسمتی دیکھئے کہ آزادی اور ترقی کے باوجود عورت پر تشدد ابھی تک ختم نہیں ہو سکا ہے۔جسمانی تشدد کے علاوہ،عورتوں کے ساتھ جارحانہ برتاؤ بھی روا رکھا جاتا ہے جو نہ صرف ان کو ہراساں کرتا ہے بلکہ نفسیاتی طور پر تباہ بھی کر دیتا ہے۔ عورت پر ظلم وجبر،زبردستی کا خاتمہ اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے نہ صرف ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے بلکہ عملی اقدمات بھی کئے جارہے ہیں، لیکن یہ مرض ہے کہ تھمنے کو ہی نہیں آرہا ہے۔دراصل عورتوں کے ساتھ امتیازی سلوک ایک عام رویہ ہے جو معاشرے میں پایا جاتا ہے۔اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے حکومتی اقدامات کے علاوہ معاشرے کو اپنے رویے پر بھی خاص توجہ دینا ہوگی۔عورتوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے وومن پروٹیکشن بل2006،ہراساں تحفظ ایکٹ اور پاکستان پینل کوڈ 186کا ترمیمی بل کوڈ آف کریمینل پروسیجر1989 پر عملدرآمد کیا جارہا ہے۔عورتوں کی بے حرمتی،اغواء برائے تاوان،اجتماعی زیادتی،جنسی تشدد،جیل جانے اور بچے چھین کر گھروں سے نکال دینے کے سینکڑوں واقعات سامنے آتے رہتے ہیں ،جن میں حکومتی اقدامات کے ذریعے سال بہ سال نمایاں کمی واقع ہورہی ہیں۔

عورت صدیوں سے اپنے تشخص کی تلاش میں سرگرداں ہے۔عزت کے نام پر قتل،کاروکاری اور ونی جیسی فرسودہ رسومات آج بھی کہیں نہ کہیں جاری ہیں۔جسے پولیس بروقت کارروائی کرتے ہوئے ضروری اقدامات کرتی ہے۔پارلیمنٹ میں عورتوں کو غیرت کے نام پر قتل کرنے کی روک تھام کے لئے کاروکاری کا بل پاس کرایا گیا ہے ،جس سے خواتین کے ساتھ بدسلوکی،زیر حراست تشدد،ماورائے عدالت قتل میں غیر معمولی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔1994 میں اقوام متحدہ کے کنونشن میں بھی اس بات کا اعادہ کیاگیا ہے کہ عورتوں کے خلاف تعصب کا خاتمہ کیا جائے گا۔معاشرتی ترقی میں خواتین کی شمولیت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔خاندان میں عورتوں پر تشدد کے واقعات وقتا فوقتا سامنے آتے رہتے ہیں جو بلاتفریق دیہی وشہری علاقوں میں جاری ہیں۔حکومت پنجاب نے اس امر میں بھی اپنی ذمہ داری کا پورا احساس کرتے ہوئے غیر معمولی اقدامات کئے ہیں جسے قانون نافذ کرنے والے ادارے بروقت بلاتفریق کارروائی کے ذریعے مجرموں کو کیفرکردارتک پہنچانے میں ہرممکن اقدامات کررہے ہیں۔ دیہی علاقوں میں وٹہ سٹہ اور قرآن سے شادی کی جاہلانہ رسومات کے اکا دکا واقعات سامنے آہی جاتے ہیں جس پر سخت سے سخت کارروائی کی جاتی ہے۔ اسلام نے عورت کو ایسا باعزت مقام عطا کیا ہے کہ ہر مذہب اس کا معترف ہے۔ ماں کے پیروں کو جنت سے افضل قرار دیاگیا ہے ۔ایک ماں اپنا بچہ تھامے کھیتوں،کانوں،گھروں اور کارخانوں میں کام کرتی ،بھٹے میں تپتی ہوئی اینٹیں اٹھاتی ،ٹریفک سگنلز اور سڑکوں کے کنارے چھوٹی چھوٹی چیزیں بیچتی ہے۔جہاں اسے تشدد،زیادتی اورظلم وجبر کا سامنا رہتا ہے۔دیہی ہو یا شہری ،پڑھی لکھی ہو یا ان پڑھ،ہاؤس وائف ہو یا ورکنگ وویمن سب اسی ظالمانہ رویے کا شکار ہیں۔ علم حاصل کرنا ہرمسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے، جبکہ وطن عزیزکے تعلیمی اداروں میں خواتین کے تعداد مردوں کے مقابلے میں خاصی تھوڑی ہے۔جس کے لئے معاشرے میں شعور اجاگر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔حکومت پنجاب نے صوبہ بھر میں طالبات کے لئے الگ تعلیمی ادارے قائم کئے ہیں، جن میں بلا امتیاز ہر طالبہ کے لئے یکساں مواقع فراہم کئے گئے ہیں۔حکومت وقتافوقتا میڈیا کے ذریعے علم کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے اطلاعاتی مہم کا آغاز کرتی رہتی ہے جو کہ معاشرے میں شعور کی بیداری کے لئے تعلیم کی قدروقیمت کو اجاگر کرنے میں مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں۔ہمارے معاشرے میں خواتین کا دفاتر،کارخانوں،فیکٹریوں اور ایسے دیگر مراکز پر کام کرنے کو معیوب سمجھا جاتا ہے۔جس کی ایک وجہ تو ہماری معاشرتی روایات اور اقدار ہیں، لیکن دوسری بڑی وجہ خواتین کو ایسے اداروں میں جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔حکومت پنجاب نے نہ صرف خواتین کے تحفظ کے لئے اقدامات کئے ہیں بلکہ اداروں میں انسان دوست ماحول کو یقینی بنانے کے لئے سخت قوانین متعارف کرانے کے ساتھ چیک اینڈ بیلنس کا نظام متعارف کروایا گیا ہے۔علاوہ ازیں خواتین کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کرکے مردوں کے برابر لانے کی ہدایات کی گئی ہیں۔جس کی نگرانی بھی کی جارہی ہے۔ اس ضمن میں معاشر ے کو بھی اپنی ذمہ داری کا پورا احساس کرتے ہوئے خواتین کے معاشی،قانونی اورمعاشرتی حقوق کا تحفظ اور نگرانی کرناہوگی۔

تقریبا ایک دہائی پہلے تک خواتین کا سیاست اور انتظامی معاملات میں عمل دخل معیوب سمجھا جاتا تھا،لیکن اب تمام تمام شعبہ ہائے زندگی میں خواتین اپنا لوہا منوا رہی ہیں۔ سیاست میں خواتین کے لئے کوٹہ سسٹم متعارف کرایا گیا ہے ،جس سے معاشرے میں خواتین کی نمائندگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ خواتین جنرل نشستوں سے منتخب ہو کر بھی قانون ساز اداروں کا حصہ بن رہی ہیں۔خواتین کوووٹ ڈالنے کا بھی پورا حق دیاگیا ہے جس کا خواتین احسن انداز میں استعمال کررہی ہیں ۔خواتین فوج،رینجرز،پولیس اور دیگرایسے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں اپنا مثبت کردار ادا کررہی ہیں۔موٹروے اور ٹریفک پولیس میں بھی خواتین اپنا لوہا منوارہی ہیں۔صوبہ میں خاتون صوبائی محتسب بھی اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہے۔اس کے علاوہ خواتین وکالت،ڈاکٹری،میڈیا،ٹیچنگ اور دیگر ایسے باعزت وباوقار شعبوں سے وابستہ ہیں اور ایسے اداروں میں اپنی بھرپور خدمات بھی انجام دے رہی ہیں جو کہ معاشرے میں تبدیلی اور تغیر کا منہ بولتا ثبوت ہے۔جائیداد میں حصہ یا لین دین میں بھی خواتین کے حقوق کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے قوانین موجود ہیں ،جو خواتین کے حقوق یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے غیر سرکاری تنظیمیں بھی مثبت کردار ادا کرتی آئی ہیں۔قومی وبین الاقوامی تنظیموں نے ہر فورم پر خواتین کے حقوق کی پامالی کے خلاف نہ صرف آواز بلند کی ہے بلکہ اپنی خدمات بھی انجام دی ہیں۔ حکومت پنجاب بھی غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ اپنا ہر ممکن تعاون یقینی بنا رہی ہے۔حکومت کے ان اقدامات کی روشنی میں یہ امید کی جا سکتی ہے کہ وہ دن دور نہیں جب وطن عزیز سے خواتین کا استحصال ،امتیازی سلوک اور ظلم وجبر کے اس ناسور کامکمل طورپر خاتمہ ہو جائے گا۔

مزید : کالم