2016ء استحکامِ معیشت کا سال اور فیڈریشن

2016ء استحکامِ معیشت کا سال اور فیڈریشن
2016ء استحکامِ معیشت کا سال اور فیڈریشن

  

بزنس کمیونٹی نے 2015ء کے آخری دن بالآخر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے باضابطہ انتخابی نتائج پر اطمینان کا اظہار کیا اور نئے انتخابات کے نتیجے میں صرف دو سال پہلے قائم ہونے والے یونائیٹڈ بزنس گروپ نے اپنے چیئرمین افتخار علی ملک کی ولولہ انگیز قیادت میں ایک بار پھر فیڈریشن کے انتخابات بھاری اکثریت سے جیت لئے۔ نئے صدر کے لئے اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے سابق عہدیدار عبدالرؤف عالم کا انتخاب کیا گیا جنہوں نے یکم جنوری 2016ء سے اپنے عہدے پر کام شروع کر دیا ہے۔ سابق صدر میاں محمد ادریس نے صرف ایک سال کے عرصے میں حیرت انگیز کامیابیاں حاصل کیں۔ فیڈریشن کی کارکردگی کو اتنا اوپر اٹھا دیا کہ وزیر اعظم پاکستان محمد نوازشریف نے بھی چند روز پہلے ایکسپورٹ ایوارڈ کی تقریب میں اس کا بھرپور اظہار کیا اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ فیڈریشن کے نئے انتخابات مکمل ہونے پر وزیر اعظم محمد نوازشریف نے نو منتخب صدر عبدالرؤف عالم کو مبارکباد دی اور اس اُمید کا اظہار کیا کہ بزنس کمیونٹی حکومت کے ساتھ مل کر چلے گی اور معیشت کی بہتری کے لئے اپنا کردار بھرپور انداز میں ادا کرے گی۔

یونائیٹڈ بزنس گروپ کے چیئرمین افتخار علی ملک نے اسلام آباد میں نان فائلرز کے لئے انکم ٹیکس کی انقلابی سکیم ’’رضا کارانہ ٹیکس ادائیگی‘‘ میں شرکت کے بعد بتایاکہ وزیر اعظم محمد نوازشریف اور ان کی ٹیم ہر وقت ملکی معیشت کی حالت بہتر کرنے کے لئے اقدام کر رہی ہے۔ فیڈریشن اور بزنس کمیونٹی کو ساتھ ملا کر حکومت نے اس سکیم کا اجرا کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹیکس نیٹ میں وسعت کے بغیر پاکستان معاشی طور پر خود کفیل نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کو آئی ایم ایف اور عالمی مالیاتی اداروں کے پاس اس لئے جانا پڑتا ہے کہ حکومت کے پاس ترقیاتی سکیموں کے لئے سرمائے کی کمی ہو جاتی ہے۔ اس کمی کو قرضوں کے ذریعے پورا کیا جاتا ہے لیکن اس میں ایک قباحت یہ ہوتی ہے کہ قرضہ دینے والے مالیاتی ادارے اپنی شرائط بھی لاگو کر دیتے ہیں جو عوام کے لئے زیادہ فائدہ مند نہیں ہوتیں،اس لئے آئندہ چند سال میں ملک کو معاشی طور پر خود کفیل کرنے اور غیر ملکی قرضوں سے نجات حاصل کرنے کے لئے بہت ضروری تھاکہ ہم ٹیکس نیٹ کو وسیع کریں۔

اسلام آباد میں ایک زبردست تقریب میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے تعاون سے حکومت نے ہماری سفارشات کی روشنی میں نان فائلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لئے رضا کارانہ ٹیکس ادائیگی سکیم متعارف کرا دی ہے۔ اس موقع پر وزیر اعظم محمد نوازشریف نے اعلان کیا کہ آئندہ بھی بزنس کمیونٹی کے تمام مسائل مشاورت کے ساتھ حل کئے جائیں گے۔ اس سے پہلے بھی عملی طور پر حکومت نے ہر معاشی مسئلے پر بزنس کمیونٹی کو آن بورڈ رکھا ہے۔ رضا کارانہ ٹیکس ادائیگی سکیم کا پورے ملک کے نان فائلرز بھرپورخیر مقدم کریں گے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ نان فائلرز کے ٹیکس سسٹم کو فائلرز کے ٹیکس سسٹم سے بالکل الگ رکھا گیا ہے اور رضاکارانہ ٹیکس ادا کرنے والوں کو آڈٹ سے بھی استشنا دیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں اس سے بہتر سکیم کا اجرا ممکن نہیں تھا۔اب بزنس کمیونٹی ہر شہر، ہر چیمبر اور ایسوسی ایشن کے ذریعے سے نان فائلرز کی مکمل رہنمائی کی جائے گی تاکہ وہ خوشی خوشی ٹیکس نیٹ کا حصہ بنیں اور ہر قسم کے مسئلے سے محفوظ رہیں۔

وزیر اعظم نے چند روز پہلے نیشنل ہیلتھ پروگرام بھی متعارف کرا دیا ہے جو یقیناً پاکستان کے غریب مریضوں کے لئے ایک حیرت انگیز کارنامہ ہے گزشتہ 68 سال سے ہر لیڈر صرف زبانی اس نوعیت کا منصوبہ شروع کرنے کی بات کرتا تھا۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے صاف لفظوں میں کہہ دیا تھا کہ پاکستان ایک فلاحی جمہوری ریاست ہو گی۔ سچ تو یہ ہے کہ فلاحی پروگراموں کے لئے پیسے کی ضرورت پڑتی ہے اور حکومت کے پاس فلاحی پروگراموں کے لئے پیسہ صرف ٹیکسوں کے ذریعے ہی اکٹھا کیا جا سکتا ہے۔ نیشنل ہیلتھ پروگرام کے علاوہ پنجاب میں محمد شہباز شریف نے معذوروں کے لئے جو پروگرام شروع کیا ہے وہ بھی حیرت انگیز ہے اور اس پروگرام کی کامیابی سے لاکھوں معذور افراد کو فائدہ پہنچے گا ۔

یونائیٹڈ بزنس گروپ کے چیئرمین کے طور پر میں نے اپنا منشور یہی رکھا ہوا ہے کہ بزنس کمیونٹی کے ہر قسم کے مسائل حل کروانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ میں وزیر اعظم محمد نوازشریف اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار سمیت ان کی تمام ٹیم کا شکر گذار ہوں کہ انہوں نے بزنس کمیونٹی کے درمیان پائے جانے والے خلا کو بہت اچھے انداز میں پر کر دیا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی تقریب میں وزیر اعظم نے جس طرح سے بزنس کمیونٹی کو ساتھ لے کر چلنے کی بات کی ہے اور عملی طور پر بھی وہ بزنس کمیونٹی کی مشاورت سے اپنی پالیسیاں بنا رہے تھے، اب حکومت اور فیڈریشن کا جو نیا دور شروع ہوا ہے تو اس کے ثمرات بہت جلد بزنس کمیونٹی تک پہنچنے شروع ہو جائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسی وجہ سے یونائیٹڈ بزنس گروپ نے فیصلہ کیا ہے کہ 2015ء میں ہمارا نعرہ تھا: ’’پاکستانی معیشت کی بحالی‘‘ اور اب 2016ء میں ہمارا نعرہ ہوگا :’’استحکامِ معیشت ‘‘کیونکہ مستحکم معیشت کے بغیر خوشحال پاکستان کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ علامہ اقبالؒ اور قائد اعظم محمد علی جناحؒ یہی چاہتے تھے کہ پاکستان مسلمانوں کے لئے ایک خوشحال اور فلاحی جمہوری ریاست بنے۔ اب خواب پورے ہوں گے۔

مزید : کالم