،مسلم لیگ جموں وکشمیر کے سربراہ مسرت عالم کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا‘ حکومت کا اعتراف

،مسلم لیگ جموں وکشمیر کے سربراہ مسرت عالم کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا‘ ...

سری نگر(کے پی آئی) مقبوضہ کشمیر حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ مسلم لیگ جموں وکشمیر کے سربراہ مسرت عالم کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے انہیں عوامی سلامتی ایکٹ کے تحت گرفتار کر لیا گیا ہے حکومت جموں کشمیر کے ترجمان نے بتایا کہ ہائیکورٹ کی جانب سے اس ایکٹ کے تحت ان کی گرفتاری کو کالعدم قرار دیئے جانے کے دو دن بعد پھر انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ وزیر تعلیم نسیم اختر نے جو حکومت کے ترجمان بھی ہیں بتایا کہ 65سالہ مسرت عالم بھٹ کو جو 2010ء سے بھارت مخالف احتجاج کی قیادت کر رہے ہیں رات جموں کے کوٹ بلوال جیل سے باہر نکلتے ہی دوبارہ حراست میں لے لیا گیا ۔ دریں اثنامسلم لیگ سربراہ مسرت عالم کی گرفتاری کیلئے ہر دفعہ ریاستی انتظامیہ ان پر پبلک سیفٹی ایکٹ عائد کرکے سپریم کورٹ ہدایات کی خلاف ورزی کرتی ہے۔

سپریم کورٹ نے20نومبر2013کو ایک کیس فاروق احمد بٹ بنام ریاست جموں و کشمیر میں ایک آرڈر پاس کیا ہے ۔آرڈر میں کہاگیا ہے یہ محسوس کیا گیا ہے کہ اگرمسرت عالم کی گرفتاری کے سلسلے میں حکومت جموں و کشمیر کوئی نیا حکمنامہ جاری کرتی ہے ،تو ایک ہفتے تک اس کا اطلاق نہیں ہوگا تاکہ وہ اس عرصے میں قانونی امداد حاصل کرسکے۔ مسرت کے ایک رشتہ دار نے بتایا کہ عدالت عظمی کے اس حکمنامے کی ہمیشہ خلاف ورزی کی گئی ہے۔انہوں نے کہارواں سال مسرت عالم کو تین مرتبہ پی ایس اے کے تحت گرفتار کیا گیا اور تینوں مرتبہ عدالت عظمی کے حکمنامے کی خلاف ورزی کی گئی۔ انہوں نے مزید کہاعدالت عالیہ نے یکے بعد دیگرے سبھی گرفتاریوں کو کالعدم قرار دیا لیکن انہیں غیر قانونی طور مقید رکھا گیا۔قانونی ماہرین کے مطابق ریاستی حکومت کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جاسکتی ہے۔معروف انسانی حقوق کارکن ایڈوکیٹ پرویز امروز نے کہاامسال کی گرفتاریاں حکومت کی لاپرو اہیوں اور کالے قوانین کے غلط استعمال کی عکاس ہیں۔ مسرت کو2010ایجی ٹیشن کے دوران گرفتار کرنے کے بعد مارچ 2015کو رہا کیا گیاتھا۔ ان کی رہائی کے خلاف پورے ہندوستان میں زبردست شور کیا گیا ،خصوصا انتہا پسند تنظیموں نے ان کی گرفتاری کیلئے حکومت پر دبا دالا۔ 24اپریل کو حکومت نے انہیں پی ایس اے کے تحت گرفتار کرلیا،تاہم ہائی کورٹ نے ان کی رہائی کے احکامات صادر کئے لیکن مسرت کو رہا نہیں کیا گیا۔ ریاستی سرکار نے رہائی کے خلاف اپیل دائر کی لیکن ابھی یہ اپیل زیر التوا ہی تھی کہ ریاستی سرکار نے ان پریکم ستمبر2015کو ایک اور پی ایس اے عائد کردیا۔اس طرح ریاستی سرکار نے سپریم کورٹ احکامات کی نہ صرف خلاف ورزی کی بلکہ اپنی ہی اپیل بے اثر کردی۔ قانونی ماہرین کے مطابق ریاستی سرکار کو نئی گرفتاری سے قبل اپیل واپس لینی چاہئے تھی۔ یکم ستمبر کی گرفتاری ایک مرتبہ پھر عدالت عالیہ نے منسوخ کردی لیکن مسرت کو رہا نہیں کیا گیا۔سپریم کورٹ احکامات کوپھر نظراندازکردیا گیا،ریاستی حکومت نے یکم نومبر کومسرت عالم پر پی ایس اے عائد کیا۔عدالت عالیہ نے گذشتہ روزقبل یہ پی ایس اے بھی کالعدم قرار دیکر رہائی کے احکامات صادر کئے۔یہ حکمنامہ جمعرات (31دسمبر)کو سپرانٹنڈنٹ سنٹرل جیل کورٹ بلوال کو روانہ کیا گیا۔تاہم مسرت عالم کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں معلوم ہوا ہے کہ مسرت کی گرفتاری کا حکمنامہ تیار ہے۔اگر مسرت پر ایک اور پی ایس اے عائد کیا جائے گاتو یہ مسرت پر 32واں پی ایس اے ہوگا جسے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے غیرقانونی قانون قرار دیا ہے۔

مزید : علاقائی