تحریک انصاف کا ٹیکس نظام میں بہتری کیلئے سفارشات مرتب کرنے کا فیصلہ

تحریک انصاف کا ٹیکس نظام میں بہتری کیلئے سفارشات مرتب کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد (آئی این پی)پاکستان تحریک انصاف نے حکومت کی جانب سے تاجروں کیلئے متعارف کروائی گئی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پوری اسکیم کا جائزہ لینے اور ٹیکس نظام میں بہتری کیلئے سفارشات مرتب کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں شاہ محمود قریشی، اسد عمر، ڈاکٹر شیریں مزاری، جہانگیر ترین، نعمان وزیراور دیگر پر مشتمل کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے ۔ہفتہ کو جاری ہونے والے اعلامیئے کے مطابق قومی اسمبلی اور سینٹ میں پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا مشترکہ اجلاس شاہ محمود قریشی کی سربراہی میں اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں تحریک انصاف نے حکومت کی جانب سے پیش کی گئی ایمنسٹی اسکیم پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تحریک انصاف حکومتی ایمنسٹی اسکیم کا تفصیلاً جائزہ لے گی اور ٹیکس کے نظام میں بہتری کیلئے قابل عمل تجاویز مرتب کرے گی۔ ترجمان تحریک انصاف کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ حکومت کی ایمنسٹی اسکیم کے جائزے اور سفارشات کی تیاری کیلئے شاہ محمود قریشی، اسد عمر، ڈاکٹر شیریں مزاری، جہانگیر ترین، نعمان وزیراور دیگر پر مشتمل کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے ، جو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے آئندہ اجلاس سے قبل اپنی سفارشات کو حتمی شکل دے گی جنہیں چیئرمین تحریک انصاف کے رو برو منظوری کیلئے پیش کیا جائے گا۔ ان کے مطابق تحریک انصاف نے ہمیشہ سے ملک میں ٹیکس کے نظام کی اصلاح کیلئے قابل قدر جدوجہد کی ہے ،جبکہ ایمنسٹی اسکیم کے تجزیے کے بعد سفارشات کی تیاری کے ذریعے بھی ٹیکس کے نظام میں موجود نقائص کی نشاندہی اور ٹیکس کے دائرہ کار کو بڑھانا مقصود ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی کمیٹی حکومتی ایمنسٹی اسکیم کا اس انداز میں جائزہ لے گی کہ نہ صرف یہ کہ ٹیکس کے دائرہ کار سے باہر موجود تاجروں کے ٹیکس نیٹ میں داخلے کو سہل بنایا جا سکے بلکہ اس تاثر کو بھی ابھرنے سے روکا جائے گا کہ باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرنے والے افراد کی بجائے ٹیکس کی ادائیگی میں غفلت /اجتناب برتنے والوں سے ترجیحی برتاؤ کیا جا رہا ہے ۔ ترجمان کے مطابق تحریک انصاف کی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ ٹیکس وصولی کے نظام میں موجود نقائص اور ٹیکس اکٹھا کرنے والے عملے کی نااہلی کے باعث حکومت اس قسم کی ایمسنٹی اسکیمز لانے پر مجبور ہوتی ہے، چنانچہ اگر ٹیکس کے شعبے کو ٹھیک کرنے کیلئے اصلاحات لائے بغیر اس قسم کی اسکیمز لائی جاتی رہیں گی، تو ماضی کی طرح اب بھی یہ اسکیمیں ناکامی سے دوچار ہوتی رہیں گی۔

مزید : صفحہ اول