عمران خان نے چور کہہ کر 35لاکھ تاجروں کے دل دکھائے :آل پاکستان انجمن تاجران

عمران خان نے چور کہہ کر 35لاکھ تاجروں کے دل دکھائے :آل پاکستان انجمن تاجران

اسلام آباد(آئی این پی)آل پاکستان انجمن تاجران نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کی طرف سے حکومت کی رضا کارانہ ٹیکس ادائیگی سکیم کے خلاف تنقید کرنے اور تاجروں کو چور کہنے اور کالا دھن کو سفید کرنے جیسے الفاظ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن نے سکیم کو پڑھے اور سمجھے بغیر ہی اپنے سیاسی مفادات کی خاطر بیانات دینے شروع کر دیئے ہیں، رضاکارانہ ٹیکس ادائیگی سکیم حکومت کی طرف سے تاجروں کے لئے سال نو کا بہترین تحفہ ہے اور ایک نئی تبدیلی کا آغاز ہے ، سکیم کا مقصد ٹیکس کے فرسودہ نظام ختم کر کے 35لاکھ تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لائیں گے ، ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی سیاسی مقاصد کی خاطر تاجروں کا نقصان مت کریں ، عمران خان نے تاجروں کو چور کہہ کر 35لاکھ تاجروں کے دل دکھائے، عمران خان اگر سیاسی مقاصد پورے کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں تو اب تاجروں کے کندھے مت استعمال کریں ، چھوٹا تاجر14سے16گھنٹے ڈیوٹی کر کے دکان چلاتا ہے اور سسٹم کی خرابی کی وجہ سے ٹیکس ادا نہیں کر سکا تو اس میں اس کا کیا قصور ہے ، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ متحدہ اپوزیشن کے اجلاس میں تاجران کے نمائندگان کو بھی بلائیں اور سکیم کو سیاسی مفادات کی خاطر متنازعہ نہ بنائیں ،ہفتہ کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران آل پاکستان انجمن تاجران کے سیکرٹری جنرل نعیم میر نے راولپنڈی کے تاجر رہنماؤں اور اسلام آباد شاہد غفورپراچہ، اجمل بلوچ، عرفان چوہدری اور مختلف مارکیٹوں کے تاجران ہمراہ حکومت کی طرف رضا کارانہ ٹیکس ادائیگی سکیم کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ رضا کارانہ ٹیکس ادائیگی سکیم حکومت کی طرف سے سال نو کا خوبصورت ترین تحفہ ہے جو آل پاکستان انجمن تاجران کی کوششوں کی بدولت وزیراعظم پاکستان ،وزیر خرانہ اورریونیو کے مشیر ہارون اخترکے ساتھ گزشتہ 6ماہ سے مذاکرات کے بعدممکن ہوا، انہوں نے کہا کہ حکومت کو جو تجاویز ہم نے دیں تھیں ممکن ہوا ہماری اکثر تجاویز کو حکومت نے مانا اور ایک بہترین پیکج سامنے آیا، انہوں نے کہا کہ یہ سکیم تمام تاجروں کے لئے ایک نیا دن اور تبدیلی کا آغاز لائے گی ، سکیم کے بعدکے بعد تاجر اپنی تجارت کو دستاویز ی شکل دیکر سٹریم لائن کر سکیں گے ،انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے سکیم کو ٹیکس ایمنسٹی سکیم قررا دینے اور کالا دھن کو سفید کرنے کے بیانات دینے کے حوالے سے شدید مذمت کرتے ہوئے افسوسناک قرار دیااور کہا کہ یہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم نہیں ہے یہ 35لاکھ تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی ایک سکیم ہے ، انہوں نے کہا کہ اس وقت 35لاکھ میں سے صرف سوا لاکھ تاجر ٹیکس نیٹ میں شامل ہیں ،انہوں نے کہا کہ یہ سکیم تمام تاجروں کو قومی معیشت کا حصہ بنانے کی سکیم ہے جو ٹیکس کے فرسودہ نظام کی بدولت ٹیکس جمع نہیں کراتے تھے اور سکیم کے تاجروں کو ٹیکس کے فرسودہ نظام سے نجات دلاءں گے اور تاجروں کو رضا کارانہ طور پر ٹیکس نیٹ میں شامل کر کے ملکی معیشت کو رواں دواں کریں گے تا کہ ملک کو آئی ایم ایف جیسے اداروں کا محتاج نہ بننا پڑے، انہوں نے کہا کہ سکیم کے تحت اگلے 3سالوں میں 10لاکھ تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لائیں گے ،انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مفاد کی خاطر حکومت کے ساتھ انجمن تاجران بھر پور تعاون کرینگے ۔انہوں نے اپو زیشن جماعتو ں کی جانب سے سکیم کے خلاف بیانات دینے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انجمن تاجران کی کسی سیاسی جماعت سے کوئی وابستگی نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ کل جس انداز سے تاجروں کے لئے چور کے الفاظ استعمال کئے گئے انہوں نے سیاستدانوں سے مطالبہ کیا کہ وہ تاجران کو اپنی سیاست کی بھیجنٹ نہ چڑھائیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے سندھ میں اپنے اپنے سیاسی ایشوز ہیں اور سیاسی فائدہ اٹھانے کی خاطر تاجروں کا نقصان مت کریں۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی طرف سے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کہاکہ عمران خان کی اپنی سیاسی مجبوریاں ہوں گی لیکن ان کے تاجران کے حوالے سے چوری اور کالا دھن کے بیان سے 35 لاکھ تاجروں کا دل دکھا ہے۔ انہوں نے کہاکہ چھوٹا تاجر 14 سے 18 گھنٹے تک ڈیوٹی کر کے دکان چلاتا ہے اگر سسٹم کی خرابی کی بدولت وہ ٹیکس نہیں جمع کرا سکا تو اس کو چور کہنا زیادتی ہے۔

مزید : صفحہ اول