چائلڈ لیبر قوانین کی خلاف ورزی کرنیوالے بھٹہ مالکان کیخلاف کاروائی کریں گے امین وینس

چائلڈ لیبر قوانین کی خلاف ورزی کرنیوالے بھٹہ مالکان کیخلاف کاروائی کریں گے ...
 چائلڈ لیبر قوانین کی خلاف ورزی کرنیوالے بھٹہ مالکان کیخلاف کاروائی کریں گے امین وینس

  

 لاہور( وقائع نگار)سی سی پی او لاہور کیپٹن (ر)محمد امین وینس نے کہا ہے کہ بھٹوں میں چائلڈ لیبر ایک قانونی جرم اور گناہ ہے اور پاکستان کے روشن مستقبل کے معماروں سے زبردستی جسمانی مشقت کروانے والے مجرم اور پاکستان کے روشن مستقبل کاراستہ روکنے والے ہیں۔چائلڈ لیبر قوانین کے مطابق کسی بھی بھٹہ میں 14 سال سے کم عمر کے بچوں سے مزدوری کرواناجرم ہے جس کے خلاف قانون میں واضح سزاکے احکامات موجود ہیں ۔ لاہور میں تمام بھٹہ مالکان کو 7 دن کی مہلت دی جاتی ہے کہ وہ اپنے بھٹوں میں سے چائلڈ لیبر کا از خود خاتمہ کردیں اور بھٹوں میں اپنے بچوں کو رکھنے والے والدین کو مجبور کریں کہ بچوں کو سکول بھیجیں، ورنہ سخت قانونی کاروائی کی جائے گی ۔تمام ایس پیز ، ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز کو ہدایت دی جاتی ہے کہ اپنے علاقہ جات میں ہر بھٹے کا آڈٹ کروائیں اور جہاں چائلڈ لیبر جیسی لعنت موجود ہو وہاں فوری کارروائی کی جائے ۔ایک ہفتے کے بعد جن بھٹوں میں چائلڈ لیبر پائی گئی اس بھٹے کے مالک اور ٹھیکیدار ذمہ دار ہونگے۔ہر ہفتے بعدبھٹوں سے متعلقہ ایک جائزہ میٹنگ کی جائے گی جس میں بھٹوں میں چائلڈ لیبر کے حوالہ سے تمام تر امور پر تبادلہ خیال کیاجائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے الحمرا ہال میں بھٹوں میں چائلڈ لیبر روکنے کے حوالے سے محکمہ محنت و انسانی وسائل پنجاب کے ساتھ ملکر منعقدہ سیمینارمیں کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری پنجاب برائے محنت و انسانی وسائل علی سرفرازا ،ڈی سی او لاہور کیپٹن (ر)محمدعثمان ،ایس ایس پی وی وی آئی پی سکیورٹی اطہر اسماعیل، ایس ایس پی سی آئی اے محمد عمر ورک ، ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ محنت و انسانی وسائل سید مبشر شاہ، صدر بھٹہ ایسوسی ایشن شعیب خان نیازی ، تمام ڈویژنل ایس پیز اور اسسٹنٹ کمشنرز کے علاوہ بھٹہ مالکان اور مزدوروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔سیکرٹری پنجاب برائے محکمہ محنت و انسانی وسائل علی سرفراز نے اس موقع پر کہاکہ ہم لاہور پولیس کا شکریہ ادا کرتے ہیں جس نے بھٹوں میں چائلڈ لیبر روکنے جیسے اہم موضوع پر سیمینار منعقد کروایا ۔ حکومت پنجاب کی بھٹوں میں چائلڈ لیبر کو روکنے کے حوالہ سے واضح قانون سازی ہے کہ پورے پنجاب کے بھٹوں میں 14 سال سے کم عمر بچوں سے چائلڈ لیبر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی ،انہوں نے کہا بھٹوں میں 14 سال سے کم عمرکے بچوں سے چائلڈ لیبر کے حوالہ سے زیرو ٹالرینس کا مظاہرہ کیا جائے گا۔ سیمینارمیں اس حوالے دیگرشرکاء نے بھی خطاب کیا۔

مزید : علاقائی