ایجوکیشن سسٹم بدنظمی کا شکار، سربراہان اور اساتذہ کی سینکڑوں سیٹیں خالی: نت نئے تجربات کا سلسلہ نہ رک سکا

ایجوکیشن سسٹم بدنظمی کا شکار، سربراہان اور اساتذہ کی سینکڑوں سیٹیں خالی: نت ...

لاہور( لیاقت کھرل) سال 2015ء میں سکولز ایجوکیشن کا نظام مجموعی طور پربدنظمی کا شکار رہا۔ نئے سکولوں کی تعمیر پر پابندی برقراررہی۔ پانچ ہزار سے زائد سکولوں کو ختم کر کے ضم کیا گیا۔ تعلیمی ادارے 70 ہزار سے 80 ہزار اساتذہ کی آسامیوں سے محروم رہے، جبکہ اس کے علاوہ 2600 سے 2700 سکولز سربراہوں (ہیڈ ماسٹروں اور ہیڈ مسٹریس) سے محروم رہے ہیں۔ سکولوں میں ضلعی سربراہوں اور ضلعی مانیٹرنگ ٹیموں کے خوف سے اساتذہ میں مایوسی اور محرومی کی فضا برقرار رہی اور ضلعی مانیٹرنگ ٹیمیں محض دھونس اور بلیک میلنگ اور ڈراوے کی بنیاد پر کارروائی ڈالنے کی کوشش کرتی رہی ہیں اور سال بھر میں تعلیمی معیار کی بہتری کے لئے کوئی ٹھوس اور فعال کردار ادا نہیں کر سکی ہیں۔ ’’پاکستان‘‘ کو محکمہ تعلیم سے سال 2015ء کے حوالے سے ملنے والے اعدادو شمار اور تفصیلات کے مطابق لاہور سمیت پنجاب بھر میں قائم 52 ہزار سے زائد تعلیمی ادارے (سکولز) سال 2015ء میں بدنظمی کا شکار رہے ہیں اور تعلیمی اداروں میں نت نئے تجربات کا سلسلہ جاری رہا ہے جس سے جہاں انٹرولمنٹ کا پروگرام ناکام رہا وہاں پنجاب بھر سے تعلیمی اداروں میں 70 ہزار سے 80 ہزار اساتذہ کی آسامیاں خالی رہی ہیں اور اساتذہ کی ترقیوں میں رکاوٹ کے باعث 2600 سے 2700 ایسے سکولز ہیں جہاں ہیڈ ماسٹرز اور ہیڈ مسٹریس تعینات نہ ہونے سے سال بھر قائم مقام سربراہوں سے کام چلایا گیا ہے چند سکولوں کی اَپ گریڈیشن تو کی گئی لیکن 5000 سے زائد سکولوں کو ختم کر کے مرج (ضم) کیا گیا جس سے بچوں کو تعلیم کے حصول میں دشواری سے دوچار ہونا پڑا، جبکہ تعلیمی فنڈز کے نام پر اربوں روپے محض فائلوں کی نذر ہو کر رہ گئے اور 26 فیصد ایسے سکولز ہیں جو کہ سال 2015ء میں بھی چار دیواری، بیت الخلاء جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم رہے ہیں جبکہ 800 سے زائد ایسے سکولز ہیں جو کہ گزشتہ سال بھی قبضہ گروپ کی گرفت میں رہے ہیں، لاہور کے 1265 سکولوں سمیت پنجاب بھر میں 900 سے زائد تعلیمی اداروں کی عمارتوں کو بوسیدہ اور پرانی ہونے کی وجہ سے انتہائی خطرناک قرار دیا گیا، لیکن محکمہ تعلیم نے خاموشی سے سال گزار دیا۔ سال بھر میں اساتذہ کی ترقیوں میں رکاوٹ سے اساتذہ محرومی کا شکار رہے۔ تعلیمی اداروں میں ضلعی افسران ( ای ڈی اوز) اور مانیٹرنگ اینڈ ایویلوایشن ٹیمیں بھی سال بھر کوئی فعال کردار ادا نہ کر سکیں اور محض دھونس ، دھاندلی ، بلیک میلنگ اور ڈراوے کی بنیاد پر کارروائی ڈالنے کی کوشش کی گئی، جبکہ ضلعی افسران کی عدم دلچسپی کی وجہ سے آئی ٹی کے اساتذہ سال 2015ء میں پڑھانے کی بجائے کلریکل کام سرانجام دیتے ہے ہیں۔ آئی ٹی اساتذہ تو بھرتی کیے گئے لیکن ان کو اصل فرائض (پڑھانے سے) دور رکھا گیا۔ تمام بورڈز نے سال 2013ء کا امتحانی نظام بحال کر دیا، جبکہ آن لائن سسٹم سے بھی مسائل کم نہ ہوئے۔ سال 2015ء میں نئے تجربات میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کو بحال کیا گیا، جس کا سال 2016ء میں نفاذ عمل میں لایا جا رہا ہے جبکہ سال بھر کوالٹی ڈرائیو، اور ایل این ڈی کے نام سے پہلی سے تیسری اور پھر پانچویں کلاس کے بچوں کے لئے نوٹس تیار کرنے سے تعلیمی گراف گرا ہے جبکہ ضلعی افسران ( ای ی اوز) اور پنجاب ایگزامینیشن کی پانچویں اور آٹھویں کے امتحانات میں نااہلی کھل کر سامنے آنے سے بچوں کی تعلیم کا بیڑہ غرق ہوا، جس سے تعلیم کے شعبہ میں نئے مسائل نے جنم لیا اور سائنس لیبارٹریاں جہاں کروڑوں روپے لگائے گئے ، سائنس اساتذہ کی شدید کمی اور پریکٹیکل کا سلسلہ بند ہونے سے کروڑوں روپے مالیت سے تیار ہونے والی لیبارٹریاں تباہ ہو کر رہ گئی ہیں۔

مزید : صفحہ آخر