نجکاری کے خلاف مزدروں کی جدوجہد میں شامل ہیں،حافظ نعیم الرحمن

نجکاری کے خلاف مزدروں کی جدوجہد میں شامل ہیں،حافظ نعیم الرحمن

کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے وفاقی حکومت کی طرف سے پی آئی اے، پاکستان ریلوے،پاکستان اسٹیل مل ،نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور پورٹ قاسم سمیت 69قومی اداروں کی نج کاری کے فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ جماعت اسلامی قومی اداروں کی نج کاری کے خلاف مزدوروں کی جدوجہد میں مزدوروں کے شانہ بشانہ ہوگی اور مزدور برادری کے ساتھ مل کر قومی اداروں کے تحفظ کے لیے نج کاری کی کوششوں کی مزاحمت کرے گی۔دریں اثناء حافظ نعیم الرحمن سے این ایل ایف کے ایک وفد نے ملاقات کی اور حکومت کی جانب سے قومی اداروں کی جن کاری کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں اور اقدامات کے بارے میں بتایا اور آگاہ کیا کہ این ایل ایف کے تحت 6جنوری کو کراچی سٹی اسٹیشن پر نج کاری کے خلاف ایک عظیم الشان ’’اینٹی نج کاری مزدور کنونشن ‘‘منعقد کیا جارہا ہے اور اس کی تیاریاں تیزی سے جاری ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ان حالات میں این ایل ایف کے تحت ’’اینٹی نج کاری مزدور کنونشن ‘‘وقت کی ضرورت ہے اور یہ کنوشن نج کاری کے خلاف مزدوروں کے اتحا د ویکجہتی کا مظہر اور حکومت کے لیے نوشتہ دیوار ثابت ہوگا ۔کنونشن سے جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق خصوصی خطاب کریں گے ۔حافظ نعیم الرحمن نے مزدوروں اور محنت کشوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی سیاسی وابستگیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کنونشن میں جوق در جوق شریک ہوں ۔نج کاری کے خلاف اس مہم میں تحریک کو مضبوط اور توانا بنائیں ۔انہوں نے کہا کہ سرمایہ دارانہ نظام نے لوگوں کو بھوک اور افلاک کے سوا کچھ نہیں دیا ۔آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے اشاروں پر قومی اداروں کو فروخت کیا جارہا ہے ۔محنت کش اپنی نوکریوں کے تحفظ اور ادارے کی بقا کے لیے میدان عمل میں نکلیں اور نج کاری کے خلاف کراچی سے ایک بڑی جدوجہد اور تحریک کا آغاز کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے آئی ایم ایف کی کاسہ لیسی نہیں چھوڑی تو عوام مزدور دشمن حکمرانوں کو اقتدار میں نہیں رہنے دیں گے ۔

مزید : کراچی صفحہ آخر