حادثات اموات کی ایک بہت بڑی وجہ ہیں،ڈاکٹرسعید منہاس

حادثات اموات کی ایک بہت بڑی وجہ ہیں،ڈاکٹرسعید منہاس

کراچی(اسٹاف رپورٹر)طبی ماہرین نے کہا ہے کہ حادثات اموات کی ایک بہت بڑی وجہ ہے جس میں سب سے زیادہ اموات 14 سے 44 سال کی عمر کے افراد کی ہوتی ہیں۔ دنیا بھر میں ایسے حادثات ترقی پذیر ممالک میں زیادہ ہورہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ہونے والی ہر پانچویں موت کی وجہ کوئی نہ کوئی حادثہ ہے۔ ان خیالات کا اظہارجناح اسپتال کے اسسٹنٹ پروفیسر آرتھوپیڈک ڈاکٹر سعید منہاس، انچارج شعبہ حادثات ڈاکٹر سیمی جمالی اور دیگر نے پاک چائنامیڈیکل کانگریس کے سلسلے میں پی ایم اے ہاؤس میں منعقد ہونے والے پہلے عوامی آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار کا عنوان، حادثات، ابتدائی طبی امداد ، تھا۔ ڈاکٹر سعید منہاس نے کہا کہ سڑکوں اور گاڑیوں کی خراب صورت حال حادثات سے اموات کی بڑی وجہ ہے۔ اس کے علاوہ دیگر وجوہات میں قدرتی یا کسی انسانی وجہ سے ہونے والی تباہی ہے۔ ببڑی شاہراہوں کے قریب واقع اسپتالوں میں زیادہ تر قدرتی تباہی یا بسوں و دیگر گاڑیوں کے بڑے حادثات کے زخمیوں کو لایا جاتا ہے۔ شہری اور دیہی علاقوں میں جھلس کر شدید زخمی ہونے کے واقعات بھی عام ہیں۔ ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک کے درمیان ایسے حادثات کے باعث ہونے والی اموات میں بڑے فرق کی وجوہات اسپتال تک پہنچنے کا وقت، فوری ابتدائی طبی امداد کی فراہمی، درکار آلات کی دستیابی اور ماہر صحت کارکنان کی موجودگی شامل ہیں۔ حادثات سے ہونے والی اموات کو روکنے کے لیے ہیلتھ منیجرز کی بہتر تربیت، ٹراما ٹریننگ، تعلیم، نیشنل ٹراما رجسٹری، پری ہاسپیٹل ٹریننگ، ایمرجنسی روم اسپیشلسٹ ، ری سسی ٹیشن بے اور ڈیزاسٹر پلان میں بہتری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ڈیزاسٹرز میں دیگر شعبوں کے ساتھ ساتھ آرتھوپیڈک سرجری کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے اور پاکستان میں ٹراما کے نظام میں بہتری لانے کے لیے بھی آرتھوپیڈک سرجنز اور ایسوسی ایشن کو کلیدی کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی سمیت بڑے شہروں میں حادثات کی اکثر وجہ موٹرسائیکل سوار ہوتے ہیں اور وہی اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ٹریفک حادثے کی صورت میں موٹرسائیکل سوار کی موت یا زخمی ہونے کا امکان دوسری گاڑی کے مقابلے میں 20گنا زیادہ ہو جاتا ہے اور نوجوان اس کا سب سے زیادہ شکار بنتے ہیں۔ جناح اسپتال کے شعبہ حادثات کی انچارج ڈاکٹر سیمی جمالی نے بتایا کہ انہوں نے سول اسپتال کراچی میں اپنی ہاؤس جاب کی تھی اور وہ تصور کر سکتی ہیں کہ وہاں شعبہ حادثات اور دیگر شعبوں تک پہنچنا کتنا مشکل کام ہوتا ہے اور اب بھی اسی طرح کی صورت حال ہے۔ انہوں نے کہاکہ اپنے تجربے کی روشنی میں انہوں نے جناح اسپتال کے شعبہ حادثات کو مریضوں کے پہنچنے کے لیے انتہائی آسان بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ وہ اب 250سے زائد بڑے ڈیزاسٹر دیکھ چکی ہیں اور ان کے متاثرین کو علاج بھی فراہم کر چکی ہیں۔ ہر ایسی بڑی ایمرجنسی میں ٹراما منیجمنٹ بہت بہتر ہونی چاہیے اور صحت کارکنان کے رویے بھی متاثرین کے ساتھ اچھے ہوں۔ اس سے اموات کو کم کرنے میں بہت مدد مل سکتی ہے۔ ڈاکٹر سیمی جمالی نے کہاکہ ڈیزاسٹرز میں لوگ ڈاکٹرز اور دیگر عملے کو زدوکوب کرتے اور تشدد کانشانہ بناتے ہیں ، ان سمیت تمام عوام کو یہ آگاہی دینے کی ضرورت ہے کہ ایسا کرنے سے ان کے اپنے مریض کا ہی نقصان ہو گا۔ ایسی صورت میں ڈاکٹرز اور دیگر عملہ کام چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے جس سے مریض کو بروقت طبی امداد نہیں ملتی۔ عملے پر تشدد کرنے والوں کے خلاف حکومت کو بھی زیروٹالرنس رکھنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ زخمیوں کو قریبی اسپتال تک پہنچانے کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔ وی آئی پی موومنٹ اور ٹریفک جام کی وجہ سے اکثر ایمبولینسز بھی پھنسی رہتی ہیں۔

مزید : کراچی صفحہ آخر