شیخ نمر کو سزائے موت، سعودی گرینڈ مفتی بھی میدان میں آگئے، واضح اعلان کر دیا

شیخ نمر کو سزائے موت، سعودی گرینڈ مفتی بھی میدان میں آگئے، واضح اعلان کر دیا
شیخ نمر کو سزائے موت، سعودی گرینڈ مفتی بھی میدان میں آگئے، واضح اعلان کر دیا

  

جدہ(مانیٹرنگ ڈیسک) شیعہ عالم شیخ نمر کا سرقلم کیے جانے پر سعودی عرب کے مفتی اعظم بھی میدان میں آ گئے ہیں اور انہوں نے واضح اعلان کر دیا ہے کہ شیخ نمر سمیت 47لوگوں کے سرقلم کیے جانے کا فیصلہ اللہ کی کتاب قرآن مجید اور حضورﷺ کی سنت کے عین مطابق تھا۔ سعودی گزٹ کی رپورٹ کے مطابق مفتی اعظم کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کے سرقلم کیا جانا شریعت کے عین مطابق اور ریاست کے تحفظ کے لیے ضروری تھا۔

مفتی اعظم نے مزید کہا کہ ’’ایسے فیصلے لوگوں میں تمیز نہیں کرتے۔‘‘ انہوں نے بیان میں حضورﷺ کی ایک حدیث کا بھی حوالہ دیا کہ ’’حضورﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کو اس لیے سانحات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ وہ انصاف کے معاملے میں امیر اور غریب میں فرق روا رکھتے تھے۔‘‘انہوں نے کہا کہ ’’یہ دہشت گرد بہت بڑے جرم کے مرتکب ہوئے تھے، انہوں نے کئی لوگ قتل کیے تھے اور بم تیار کیے تھے۔ انہوں نے ریاست کو عدم تحفظ کا شکار کرنے کی کوشش کی، ریاست کو غیرمستحکم کیا اور معاشرے میں دہشت پھیلائی۔ جو کچھ ان لوگوں نے کیا وہ بہت بڑی بدی اور گناہ تھا۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ’’ہر قتل کے مقدمے کی سماعت 9ججوں سے ہو کر مکمل ہوتی ہے اور سعودی عرب کا نظام انصاف مکمل طور پر شریعت پر مبنی ہے اور تمام جج اپنے فرائض منصبی میں آزاد ہیں اور ان کے شرعی فیصلوں پر عملدرآمدریاست کے تحفظ و استحکام اورشہریوں، سیاحوں اور حج و عمرے کے لیے آنے والوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس فیصلے پر عمل درآمد کا مقصد دوسروں کو بھی ایسے سنگین جرائم سے باز رکھنا تھا۔‘‘

مزید : بین الاقوامی