بھارتی دفاعی تجزیہ نگاروں نے حملے کی ذمہ داری نواز ،مودی ملاقات پر ڈال دی

بھارتی دفاعی تجزیہ نگاروں نے حملے کی ذمہ داری نواز ،مودی ملاقات پر ڈال دی
بھارتی دفاعی تجزیہ نگاروں نے حملے کی ذمہ داری نواز ،مودی ملاقات پر ڈال دی

  

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک )پٹھان کوٹ ائیر بیس حملے پر بھارتی دفاعی تجزیہ نگاروں نے اپنے سیکیورٹی اداروں اور حکومت پر سوالات اٹھانا شروع کردئیے ہیں ،ان کا کہنا ہے کہ پٹھان کوٹ ائیر بیس پر حملہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے اچانک لاہور کے دورے پر جا کر وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کا نتیجہ ہے۔

بھارتی خبر رساں ایجنسی ”پریس ٹرسٹ آف انڈیا “کے مطابق بھارتی دفاعی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے پٹھان کوٹ ائیر بیس حملے پر بھارتی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مزید بہتر طریقے جوابی کارروائی کی جا سکتی تھی ۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“کے سابق سربراہ اے ایس دولت نے سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پٹھان کوٹ ائیر بیس حملے میں بھارتی خفیہ ایجنسی نے بہت سے قابل ضرورت اقدامات نہیں کیے ،سیکیورٹی فورسز بھی دہشت گردوں کو بروقت کاﺅنٹر کرنے میں ناکام رہیں ۔انہوں نے استفسار کیا کہ دہشت گرد کسی کی نظر میں آئے بغیر بھاری اسلحے کے ساتھ اتنے حساس علاقے میں کس طرح داخل ہوئے ۔

بھارتی دفاعی تجزیہ نگاروںکے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیا ن حال ہی میں شروع ہونے والے مذاکرات ختم ہو جانے چاہئیں۔انہوں نے الزام عائد کیاہے کہ نریندر مودی اور نواز شریف کی ملاقات پر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے رد عمل کے طور پر پٹھان کوٹ ائیر بیس پر حملہ کیا ہے ۔

دفاعی تجزی نگار کموڈور ریٹائرڈ جی جے سنگھ نے الزام عائد کیا کہ پٹھان کوٹ حملہ پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کی جانب سے اعلان ہے کہ پاکستان میں نواز شریف انچار ج نہیں بلکہ فوج انچار ج ہے۔جی جے سنگھ کا نے کہا کہ نواز شریف نمائشی وزیر اعظم ہیں جن کو پیغام دیا گیا ہے کہ تم کچھ بھی کر لو ،ملک ہم چلا تے ہیں ۔

مزید : بین الاقوامی