پاک چین راہداری منصوبے پر وفاقی حکومت نے چالاکیاں کیں، حق نہ دیا تو دوسرے آپشن استعمال کرینگے: پرویز خٹک

پاک چین راہداری منصوبے پر وفاقی حکومت نے چالاکیاں کیں، حق نہ دیا تو دوسرے ...
پاک چین راہداری منصوبے پر وفاقی حکومت نے چالاکیاں کیں، حق نہ دیا تو دوسرے آپشن استعمال کرینگے: پرویز خٹک

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)خیبر پختون خوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے کہا ہے کہ ہمیں پاک چین اقتصادی منصوبے پر تحفظات ہیں۔ وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں تین روٹ بنانے کا کہا گیا تھا لیکن اب چار بنائے جا رہے ہیں۔دنیا ٹی وی کے پروگرام”ٹونائٹ ود معید“ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین کے لوگ کہتے ہیں کہ یہ روٹ ہم اپنے پسماندہ صوبے کی ترقی کیلئے بنا رہے ہیں لیکن ہمارے یہاں دو صوبوں کا حق مارا جارہا ہے۔ہری پور سے ڈی آئی خان تک روٹ پر ایک اینٹ بھی نہیں رکھی گئی۔انہوں نے کہا کہاس بارے میں وزیراعظم کو خط بھی لکھا گیا لیکن ابھی تک جواب نہیں آیا۔اس منصوبے کو پارلیمنٹ میں نہیں لایا گیا جس سے وفاقی حکومت کی بدنیتی ثابت ہوتی ہے۔ہم سیدھے سادے لوگ ہیں وفاق کی چالاکیوں کو نہیں سمجھ سکے۔ہمیں معلوم نہ تھا کہ اتنے تجربہ کار لوگ اپنے ملک کے لوگوں کے ساتھ ہی چالاکیاں کرینگے۔پیپلز پارٹی سمیت صوبے کی تمام پارٹیوںنے ہمارے ساتھ چلنے کا وعدہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کو ہمارا حق دینا ہی پڑے گا ورنہ ہمارے پاس اور بھی آپشن ہیں۔اگر یہ منصوبہ ہمارا نہ ہوا تو کسی کا بھی نہیں ہوگا۔ہمیں روٹ کے پنجاب سے گزرنے پر اعتراض نہیں لیکن ہمارا حق نہ مارا جائے۔اگر ہمارے روٹ(گوادر تا ہری پور)پر تمام سہولیات نہ دی گئیں تو احتجاج کرینگے۔صرف ایک سڑک بنانا کافی نہیں۔ پہلے ہمارا روٹ شروع ہوگا اور پہلے ہی ختم ہوگاورنہ کسی اور روٹ پر بھی نہیں ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں چین سے ہونے والا کوئی معاہدہ نہیں دکھایا گیا۔مجھے کبھی اس بارے میں کسی اجلاس میں نہیں بلایا گیا۔سب اجلاسوں میں شہباز شریف کو بلایا جاتا ہے۔بڑا بھائی سب کچھ کھا جاتا ہے۔چھوٹے بائیوں کو کچھ نہیں ملتا وفاقی حکومت صرف پنجاب کو ہی پاکستان سمجھتی ہے۔اگر میرا بھائی وزیراعظم ہوتا تو میرے صوبے میں بھی اورنج لائن منصوبہ بنتا۔یہ سب بھائیوں کا چکر ہے اپنا حق لینے کیلئے بھائی کا وزیراعظم ہونا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے صوبے کے پسماندہ علاقوں میںسستی بجلی کیلئے2000میگاواٹ کے چھوٹے چھوٹے منصوبے بنائے ہیں اس بجلی کی قیمت دو یا تین روپے یونٹ ہوگی۔ہم نے ہسپتالوں کو اپ گریڈ کیا ۔تعلیمی میدان میں جلد انقلاب آجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا میں اشتہارات دینے سے کسی کو فائدہ نہیں ہوتا میں اس قسم کی ڈرامہ بازی کے خلاف ہوں۔

مزید : پشاور /اہم خبریں