بھارت کشمیریوں کو آزادی دے

بھارت کشمیریوں کو آزادی دے
 بھارت کشمیریوں کو آزادی دے

  

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جنوبی ایشیا میں امن کا خواب اس وقت تک پورا نہیں ہوسکتا جب تک مسئلہ کشمیر حل نہ کیا جائے۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر زبردستی قبضہ کر رکھا ہے، کشمیر کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں رہا، بلکہ کشمیر کے عوام کو یہ فیصلہ کرنا تھا کہ وہ رائے شماری میں (ریفرنڈم) اپنی رائے دے کر پاکستان یا بھارت کے ساتھ الحاق کریں اور اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں میں بھی اس بات پر زور دیا گیا ہے، لیکن 70سال سے کشمیری عوام اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر ہیں، اس کے برعکس بھارت کے ظالم اور وحشی حکمرانوں نے ان قرار دادوں پر عمل کرنے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کئے گئے وعدوں کی پاسداری کرنے کی بجائے کشمیر کے عوام کی تین نسلوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں اور تمام سیاسی و اخلاقی اور بین الاقوامی قوانین کو نظر انداز کر کے کشمیر کو بڑی ڈھٹائی سے اپنا اٹوٹ انگ قرار دے رہا ہے۔

برطانیہ نے ہندوستان کی تقسیم کا جوفارمولا بنایا تھا، اس کے تحت مسلم اکثریت کی حامل ریاست کو پاکستان میں شامل ہونا تھا، لیکن بھارتی حکمرانوں نے جبرو تشدد اور مکاری سے کام لیتے ہوئے جموں و کشمیر پر قبضہ کرلیا اور اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے اقوام متحدہ میں واویلا مچایا اور عالمی برادری کے سامنے یہ وعدہ کیا کہ کشمیری عوام ریفرنڈم کے ذریعے جس کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کریں گے، وہ بھارت کوقبول ہوگا، مگر بھارت مکرو فریب اور ٹال مٹول سے کام لیتا رہا اور آج تک کشمیری عوام کو ر ائے شماری کے حق سے محروم رکھا ہوا ہے۔ کشمیری عوام کو داد دینی پڑتی ہے کہ انہوں نے کبھی بھی اپنے حق رائے دہی پر سمجھوتہ نہیں کیا، بلکہ 70برس کے دوران ان کی جدوجہد آزادی اور پاکستان سے الحاق کی خواہش روز بروز شدت اختیار کررہی ہے۔ اب تک لاکھوں کشمیری شہید اور زخمی ہوئے، کشمیری عورتوں کی عزتیں پامال کی گئی سینکٹروں کشمیری نوجوانوں کو ماورائے عدالت موت کے گھاٹ اتار دیاگیا۔

کشمیریوں کی جدوجہد آزادی 70برس سے جاری ہے، یہ تحریک اس دوران کئی نشیب و فراز سے گزری ہے ،مگر بھارت کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو کچلنے میں ہمیشہ ناکام رہا ہے۔ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو موجودہ حالات میں، خصوصاً نوجوان نسل کی قربانیوں سے نئی توانائی میسر آئی اور مشعل آزادی اتنی تیزی سے جل رہی ہے کہ آج سارا بھارت متاثر دکھائی دے رہا ہے جبکہ عالمی اداروں کو بھی نوٹس لینا پڑ رہا ہے۔ بھارتی ظلم وستم کے رد عمل میں کشمیری عوام کی جدوجہد نے ایک نیا رخ اختیار کرلیا ہے اور پورا مقبوضہ کشمیر آزادی کے نعروں سے گونج رہا ہے ،دادی میں ہر طرف سبز ہلالی پرچم لہرا رہے ہیں، آزادی کی اس نئی لہر کو ختم کرنے کے لئے بھارتی فوج نے بے رحمانہ تشدد شروع کررکھا ہے، اس دوران سوسے زائد کشمیریوں کو شہید کیا جاچکا ہے، ہزاروں افراد پیلٹ گنوں سے نابینا اور معذور ہو چکے ہیں، ریاست جموں و کشمیر میں دوماہ سے زیادہ عرصے سے کرفیو نافذ ہے، اس صورت حال کا منطقی نتیجہ یہ نکلا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں اور صورت حال دن بدن مخدوش ہو رہی ہے شاید بھارت سرکار بھارتی عوام سے جان چھڑانے اور کشمیر مسئلہ کشمیر کو التوأ میں رکھنے کے لئے پاکستان کے ساتھ سرحدوں پر ہنگامی حالات پیدا کردے تاکہ بھارت میں وقتی طور پر حکومت مخالف عوامی رویہ کم ہو جائے۔ یہ بات بھی اب کھل کر سامنے آگئی ہے کہ سابق بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے ساتھ مل کر موجودہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان کو توڑ کر بنگلہ دیش بنانے میں اہم کردار ادا کیا، اس کا چند دن پہلے مودی نے خود اعلان کیا تھا۔ انہیں معلوم ہے کہ کشمیر کا تنازعہ طے کئے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں مگر وہ ڈھٹائی سے کام لے رہے ہیں۔ دنیا کی طاقتور اور امن پسند قوموں کو کشمیریوں پر بھارتی مظالم کی تحقیقات کے لئے آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اب کشمیریوں کی نئی نسل ناجائز تسلط کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے، کشمیری نوجوان اب تحریک آزادی کی علامت بن کر سامنے آرہے ہیں۔

بھارتی فوج ظالمانہ اور وحشیانہ ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے ، انصاف کا تقاضا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کو غیر فوجی علاقہ قرار دیا جائے تاکہ بھارت کی فوج کے ظلم وستم سے جموں و کشمیر کے نہتے اور آزادی مانگنے والے کشمیری محفوظ رہ سکیں۔ پاکستان کسی صورت میں یہ برداشت نہیں کرسکتا کہ اس تحریک میں سازشوں کے ذریعے مداخلت کر کے اس کے اندر عدم استحکام پیدا کیا جائے۔ پاکستانی عوام پہلے ہی دہشت گردی کا شکار ہیں۔ پاکستان اللہ کے فضل و کرم سے ایٹمی قوت ہے، پاکستانی فوج صبر تحمل کا مظاہرہ کررہی ہے۔ ابھی تک پاک آرمی صرف اپنے دفاع کے لئے اقدامات کرتی ہے اگر دنیا کی بڑی طاقتوں نے، جن میں امریکہ اور اس کے اتحادی شامل ہیں، بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام پر ظلم و ستم بند کرانے کے لئے دباؤ نہ ڈالا تو خطے میں حالات بہت خراب ہو سکتے ہیں۔ امریکہ کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر وہ سپر پاور ہو کر طاقت کے زور پر عراق پر قبضہ نہیں کرسکا، افغانستان پر تمام اتحادی فوجیں مل کر قبضہ نہیں کرسکیں تو بھارت، جموں و کشمیر کے عوام کی آزادی کو مزید کب تک سلب کئے رکھے گا۔کشمیری عوام کی خواہش کو دبانے کے لئے پاکستان کو ڈرانے کے لئے ہندوستان اسلحہ بارود کے ڈھیر لگا رہا ہے، پاکستانی حکومت اس مسئلے کو نظر انداز نہیں کرسکتی، اب یہ دنیا پر واضح ہو چکا ہے کہ بظاہر امن و آشتی، جمہوریت، سیکولر ازم اور انسانی حقوق کا نعرہ لگانے والا بھارت دراصل تو سیع پسندانہ ،جارحانہ اور عسکری عزائم رکھتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کے عوام پر انتہائی ظلم وستم کررہا ہے،اور پوری عالمی برادری دیکھ رہی ہے۔ یہ بھارت کے لئے بدنامی اور رسوائی کا معاملہ ہے ۔

مودی سرکار کو یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ پاکستان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر کے گلو خلاصی نہیں کرواسکتی۔ بھارتی قیادت کو احساس ہونا چاہئے کہ حالیہ ڈھائی ماہ کے دوران ہزاروں کشمیریوں کو زخمی، ایک سو سے زیادہ افراد کو شہید اور سینکڑوں کو معذور کرنے کے باوجود کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو کمزور نہیں کرسکا۔ بھارت کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی کے ساتھ ملانے کی کوشش کررہا ہے۔ لیکن بھارت اپنے تمام اندرونی خلفشار کو پاکستان سے جوڑنے کی کوششوں میں بری طرح ناکام ہوا ہے ۔ اسے اپنے ملک کے اندر فوجی بیرکوں اور فوجی اڈوں پر بھارت کے مخالفین کی کارروائیوں کو پاکستان کے نام لگانے پر بہت شرمندگی حاصل ہوئی ہے، اب ہندوستان میں رہنے والے کئی افراد نے مودی سرکار کی حرکتوں کی مذمت کی ہے۔ پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت نے مسئلہ کشمیر کو دنیا بھر میں اجاگر کرنے کا فیصلہ کررکھا ہے اور کشمیری عوام کی ہر طرح اخلاقی امداد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان ایک پُرامن ملک ہے جس کو خود بھی دہشت گردی کا مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے۔ اب عالمی برادری آگاہ ہو چکی ہے کہ مسئلہ کشمیر پورے جنوبی ایشیا کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے، اس لئے بھارت کو پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے کشمیریوں کی آزادی اور دوسرے مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔ بھارت کو اب یہ سمجھ لینا چاہئے کہ کشمیریوں کی آزادی کو اب طاقت سے مزید دبایا نہیں جاسکتا۔ پاکستان کے ساتھ جنگ سے مزید تباہی ہوگی جو دونوں ملکوں کے لئے فائدہ مند نہیں۔ مذاکرات کا راستہ ہی واحد پُر امن حل ہے، بھارتی پارلیمنٹ ممبئی اور پٹھانکوٹ کے بعد اب اڑھی حملے کے ڈرامے نے بھارت کی چالاکیوں کو دنیا کے سامنے بے نقاب کردیا ہے، ان تمام ڈراموں کا مقصد صرف کشمیریوں کی جدوجہد آزادی سے عالمی توجہ ہٹانا تھا، اسی لئے بھارت نے پاکستان کے طول وارض میں دہشت گردی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔

مزید :

کالم -