پاکستان میں بھارت کی معاونت سے ہونے والی دہشت گردی

پاکستان میں بھارت کی معاونت سے ہونے والی دہشت گردی

  

دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے کہا ہے کہ پاکستان کو بھارت کی معاونت سے ہونے والی دہشت گردی کا سامنا ہے، بھارتی ایجنٹ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور اس کا اعترافی بیان بھارتی سپانسرڈ دہشت گردی اور بھارت کی پاکستان میں مداخلت کا واضح ثبوت ہے دہشت گردی بھارت کی ریاستی پالیسی ہے اور وہ دہشت گردی کی مذمت کی آڑ میں درحقیقت دہشت گردی کرانے، اس کی معاونت کرنے اوردہشت گردو ں کو وسائل فراہم کرنے میں ملوث ہے، یہ واضح ہو چکا کہ بھارت کے بے بنیاد الزامات کا مقصد درحقیقت پاکستان میں اپنی دہشت گردی کی سرگرمیوں کی پردہ پوشی کرنا ہے، بھارت کی طرف سے جیشِ محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر پر پابندیوں سے متعلق اقوامِ متحدہ میں جمع کرائی گئی قرار داد بھارت کا سیاسی حربہ تھی، داعش اور القاعدہ سے متعلق سلامتی کونسل کی پابندی کمیٹی 1267 نے بھارت کی جانب سے سیاسی مقاصد کے لئے کرائی گئی قرار داد مسترد کردی۔ یہ بھارتی قرار داد خلافِ میرٹ غیر سنجیدہ اور بے بنیاد الزامات پر مبنی تھی جس کا مقصد اپنے متعصبانہ قومی ایجنڈے کو آگے بڑھانا تھا۔ قرار داد کا مسترد کیا جانا دراصل سیکیورٹی کونسل کی اس انتہائی اہم کمیٹی کو سیاسی اور کمزور بنانے کی بھارتی کوششوں کی ناکامی بھی ہے، سلامتی کونسل نے اس قرار داد کو مسترد کر کے بھارتی عزائم خاک میں ملادئے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم اپنے ملک میں بھارتی مداخلت اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے مزید ثبوت اقوامِ متحدہ میں پیش کرتے رہیں گے۔

بھارت کو اچھی طرح معلوم ہے کہ پاکستان دنیا بھر میں سب سے زیادہ دہشت گردی سے متاثرہ ملک ہے اور پندرہ سال سے مسلسل اس عفریت کا سامنا کررہا ہے لیکن بھارت چونکہ خود مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کی پالیسی کو اپنائے ہوئے ہے اور اس کی خواہش ہے کہ دنیا کو بھارت کا یہ قبیح چہرہ معلوم نہ ہو، پاکستان چونکہ بھارتی مظالم سے دنیا اور عالمی ادارے کو آگاہ کرتا رہتا ہے اور یہ مطالبہ بھی کرچکا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں فیکٹ فائنڈنگ کمیشن روانہ کیا جائے تاکہ بھارتی مظالم کا پردہ فاش ہو سکے وزیر اعظم نواز شریف نے بھی کشمیر کا معاملہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اٹھادیا تھا، جس کا بھارت سے کوئی جواب تو نہ بن پڑا لیکن بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات لگا کر کشمیر سے دنیا کی توجہ ہٹانے کی کوشش کی، کشمیر کا یہ معاملہ اب اس حد تک نازک صورت اختیار کرچکا ہے کہ خود بھارت کے اندر انسان دوست حلقے اس پر صدائے احتجاج اٹھا رہے ہیں۔ اس دوران مودی نے اپنے ملک میں 500 اور 1000 روپے کے نوٹ بند کردئے اور لوگوں کو یقین دلایا کہ اس طرح کالے دھن کو باہر نکالنے میں مدد ملے گی ایسا تو نہ ہوسکا لیکن کروڑوں لوگ ایسی مشکلات سے دوچار ہوئے جن سے نکلنے کا راستہ اب تک نہیں مل رہا، لائنوں میں لگ کر نوٹ بدلوانے والے سوسے زائد لوگ زندگی کی بازی ہار گئے، یہ بحران اب تک جاری ہے البتہ بھارت کے عوام کی توجہ کشمیر کے مسئلے سے نہیں ہٹ سکی اور کشمیر میں تحریک حریت بدستور جاری ہے۔

بھارت کا یہ خیال تھا کہ کشمیر میں جعلی کرنسی پھیلائی گئی ہے اور جب بڑے نوٹ بند ہوں گے تو اس سے کشمیری حریت پسندوں کی تحریک بھی ماند پڑ جائے گی کیونکہ جب تحریک چلانے والوں کو پیسے کی سپلائی رک جائے گی تو تحریک خود بخود دم توڑ جائے گی لیکن ایسا بھی نہیں ہوسکا کشمیری نوجوانوں کی تحریک اب بھی پورے زور و شور سے چل رہی ہے اور یہ خیال بھی باطل ثابت ہو چکا ہے کہ کشمیر ی نوجوان کسی مالی فائدے کے لالچ میں تحریک چلا رہے ہیں بھارت کا یہ الزام بھی تھا کہ یہ باہر سے آئے ہوئے لوگ ہیں جو کشمیریوں کو تشدد پر اکساتے ہیں حالانکہ جو کشمیری نوجوان تحریک میں شہید ہوئے ان کے نام پتے معلوم و معروف ہیں، ان کے خاندانوں تک کا پوری وادی کے لوگوں کو علم ہے، سرزمین کشمیر کا چپہ چپہ گواہ ہے کہ یہ لوگ کشمیر میں پیدا ہوئے ، وہیں پلے بڑھے، وہیں تعلیم حاصل کی اور پھر اپنا جوان خون آزادی و حریت کے جذبے پر وار دیا، یہ برہان وانی شہید کہیں باہر سے گیا ہوا نوجوان نہ تھا، اس کی شہادت کے خلاف جو لوگ احتجاج کے لئے نکلے انہیں بھی ہر کوئی پہچانتا ہے، جنازوں کے ان جلوسوں میں جامِ شہادت نوش کرنے والے کشمیر کے لئے کوئی اجنبی نہیں ہیں۔

بھارت کی یہ ساری کوششیں ناکام ہو گئیں اور دہشت گردی کی کسی واردات میں بھی پاکستان پر الزام ثابت نہ کیا جاسکا تو بھی بھارت نے افغانستان کے ساتھ مل کر پاکستان کو بد نام کرنے کی مہم جاری رکھی، پہلے سارک کانفرنس کا بائیکاٹ کردیا پھر اس کے بعد امرتسر کی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں افغان صدر اشرف غنی نے پاکستان پر جو الزام لگائے وہ بدیہی طور پر اتنے غلط تھے کہ کانفرنس کے اندر بھی روسی مندوب نے انہیں غلط ثابت کردیا اور کہا کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے اور اس پر قابو پانے کے لئے جدوجہد کررہا ہے اس سلسلے میں روس کے ساتھ مشترکہ جنگی مشقیں بھی ہوئی ہیں۔ چین، ترکی اور دوسرے مندوبین نے بھی اشرف غنی کی تقریر کو پسند نہیں کیا، چنانچہ بھارت افغانستان سے گٹھ جوڑ کر کے پاکستان کے خلاف جو قرار داد منظور کرانا چاہتا تھا وہ بھی منظور نہ ہوسکی۔ اسی طرح مولانا مسعود اظہر کے خلاف جتنی مرتبہ بھی بھارت نے کوششیں کیں سب چین نے ناکام بنادیں، یہاں تک کہ اقوامِ متحدہ میں بھی اسے کامیابی نہ ہو سکی ۔

بھارت اگر اخلاص کے ساتھ دہشت گردی کا خاتمہ چاہتا ہے تو اس کی عملی شکل یہی بنتی ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعاون کرے، دونوں ملک مل کر ایسی معلومات کا تبادلہ کریں کہ دہشت گرد تنظیمیں کس کس طرح سر گرم عمل ہیں اور ان کا طریقِ کار کیا ہے، ان کے ٹھکانے کہاں کہاں ہیں اور انہیں فنڈز کہاں کہا ں سے ملتے ہیں، دونوں ملک اگر مل کر کوششیں کریں تو دہشت گردی کے نیٹ ورک توڑے جاسکتے ہیں پاکستان نے اپنے وسائل کو بروئے کار لاکر جو کوششیں کی ہیں ان میں بھی اسے کافی کامیابی ملی ہے، متحدہ کوششوں سے مزید کامیابیاں مل سکتی ہیں لیکن بھارت تو خود پاکستان میں تربیت یافتہ جاسوس بھیج رہا ہے جو پاکستان میں تخریبی اور دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں مقامی گروہوں کی تربیت کرتے ہیں، انہیں اسلحہ گولہ بارود اور رقوم مہیا کرتے ہیں، کلبھوشن یادیو پاکستان میں یہی کچھ کررہا تھا اور اس کی گرفتاری کے باعث دہشت گردی کے نیٹ ورک توڑے گئے ہیں یہ سارے ثبوت پاکستان کے پاس موجود ہیں اور یو این او کے حوالے بھی کئے جارہے ہیں۔ بھارت کے اندر زعفرانی دہشت گردی کا سلسلہ کافی پرانا ہے، یہ ہندو تنظیمیں کئی ریاستوں میں سرگرم عمل ہیں، بہتر ہے کہ بھارت اپنے ہاں ان کی سرگرمیوں کو کنٹرول کرے اور اپنے ہاں ہونے والی ہر واردات میں پاکستان پر الزام تراشی کا مشغلہ ترک کر دے افغانستان کے راستے دہشت گردوں کو پاکستان میں بھیجنے کا سلسلہ بھی بند کر دے تو خطے سے دہشت گردوں اور دہشت گردی کا خاتمہ کرنے میں بڑی مدد مل سکتی ہے، الزام تراشی کی روش سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔

مزید :

اداریہ -