بلدیاتی نظام: منتخب نمائندوں سے توقعات

بلدیاتی نظام: منتخب نمائندوں سے توقعات

  

پنجاب حکومت کی طرف سے سول سروسز آرڈنینس 2016ء کے نفاذ کے بعد صوبے میں باقاعدہ بلدیاتی نظام کا بھی آغاز ہو گیا ہے۔مجموعی طور پر پنجاب کے 36اضلاع میں عوام کے منتخب نمائندوں نے اپنے عہدوں کا چارج سنبھال لیا ہے۔صوبے بھر میں بلدیاتی نمائندوں کے پہلے اجلاس سے شروعات ہوگئی ہیں۔بلدیاتی نظام میں منتخب نمائندوں کا بنیادی فریضہ عوام کو درپیش مسائل کو حل کرتے ہوئے شہری سہولتوں کی فراہمی ہے،کئی سال کے التوا کے بعد عوامی نمائندے،عوام کے لئے بنیادی سہولتوں کو یقینی بنائیں گے۔بلدیاتی نظام کو بہتر طور پر چلانے کے لئے حکومت پنجاب کی طرف سے مجموعی طور پر 391ارب روپے کے فنڈز مہیا کئے جائیں گے۔یہ رقم ماضی میں دی جانے والی رقم سے 44فیصد زیادہ ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے گزشتہ روز یقین دلایا تھا کہ بلدیاتی نمائندوں کو مکمل طور پر با اختیار بنایا جائیگا اور انہیں مالیاتی اختیارات بھی دیئے جائیں گے ۔جمہوری نظام میں بلدیاتی اداروں کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہوتی ہے کیونکہ عوام کے منتخب نمائندوں کو براہ راست عوامی مسائل حل کرنے کا موقع ملتا ہے۔تمام چھوٹے اور بڑے مسائل سے یہ بلدیاتی نمائندے اچھی طرح واقف ہوتے ہیں۔عام شہریوں کو اپنے منتخب نمائندوں سے رابطے کا موقع بھی ملتا رہتا ہے۔اب یہ نو منتخب بلدیاتی نمائندوں کا امتحان بھی ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے عوام کی امنگوں پر پورا اُتریں اور صوبے بھر میں تعمیر و ترقی کا سلسلہ شروع ہونے سے شہریوں کو سہولتیں میسّر ہو سکیں۔اِس پلیٹ فارم سے دہشت گردی کے خاتمے میں تعاون سے لے کر عوامی سطح کے مسائل احسن طریق سے حل ہو سکیں گے تو صوبائی حکومت کا بوجھ بھی کم ہو گا۔وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے واضح کر دیا ہے کہ بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات کے معاملے میں کوئی پریشانی نہیں ہو گی۔جبکہ مالیاتی خودمختار بھی حاصل ہوگی۔بلدیاتی نمائندوں کو جو ابد ہی کے لئے بھی تیار رہنا چاہیئے۔

بلدیاتی نظام شروع ہوتے ہی ضلعی سطح پر تعلیم اور صحت کی علیحدہ علیحدہ اتھارٹیز بنا دی گئی ہیں۔ ڈپٹی کمشنر کا عہدہ بحال ہونے کی وجہ سے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اینڈ ہیلتھ اتھارٹیز کے ایڈمنسٹریٹرز کا کام بھی ڈپٹی کمشنر کریں گے۔بنیادی طور پر منتخب عوامی نمائندوں کے ذریعے شہری مسائل حل کرنا مقصود ہے۔بلدیاتی نمائندوں کو اپنی ذمہ داریوں کا بخوبی احساس کرتے ہوئے صلاحتیوں کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔خدا کرے کہ بلدیاتی نظام کی گاڑی دھیرے دھیرے رفتار پکڑ کر عوامی مسائل کے حل کو کم کرنے کی منزل تک جلد پہنچنے کا ہدف مکمل کرلے اور درپیش رکاوٹوں کو دُور کرنے میں زیادہ مشکل پیش نہ آئے۔

مزید :

اداریہ -