شعور میں فتور کا ظہور

شعور میں فتور کا ظہور
 شعور میں فتور کا ظہور

  

محض کوشش؟صرف الزاما ت؟فقط غیر ذمہ دارانہ بیانات؟بے کیف و بے رنگ اور پھسپھسا الیکشن کمیشن کا علامیہ کہ عمران خان کے الزامات نے ادارے کا وقار اور اعتبار مجروح کیا ۔غیر ذمہ دارانہ بیانات اور باتوں سے عام انتخابات کی ساکھ خراب کرنے کی سعی نا محمودکی گئی ۔کپتان نے تو نپے تلے پیمانے کی جگہ جام کے جام لنڈھا دیئے تھے یارو!بااسالیب صاف یوں کہئے کہ عام انتخابات کے باب میں ان کے شعور کی تار ہل گئی تھی۔آپ ہیں کہ مہذب و مودب اور شائستہ و شستہ لہجے میں لب کھولے تو بس یہ کہ الزامات غیر ذمہ دارانہ ہیں۔ شعور کی تار اکیلے کپتان کی ہی نہیں ہلی ،کہانی نویسوں اور قصہ گوصحا فیوں کے شعور و خرد نے بھی وہ اودھم مچا ئے رکھی کہ بس توبہ بھلی۔پرسوں پرلے روز ایک قصہ گو واعظ کے کالم کاعنوان ہی یہ تھا ۔۔۔وزیراعظم بھی قوم پر رحم کریں۔نہ ہوا ہم میں سے کوئی نہ ہوا جو کہتا ۔۔۔قصہ گو کالم نویس بھی قوم پر رحم کریں۔ان کے شعور و خرد سے تو فتنہ محشر بھی پناہ مانگتا ہو گا۔شعورانتہائی نازک ،حساس اور خطرناک ہتھیار ٹھہرا۔یہ اگر امکاں کی لامتناہی دنیا آباد کر سکتا ہے تو دوسری جانب مجہول سمت اور فضول جہت کی ایک دبیز دھند بھی پیدا کر سکتا ہے ۔ایسی دبیز دھند سے نکلنا پھر عام انسانوں کے لئے آساں نہیں رہتا ۔

شعور کیا ہے؟

ابتدائے آفرینش سے تاایں دم عالموں، حکیموں، فلسفیوں اور سائنس دانوں کی حد سے زائد مساعی بھی اس راز سے پر دہ سرکا نہ سکی کہ شعور کیا ہے؟فی نفسہٖ روح کیا ہے ؟یہ کہاں پائے جاتے ہیں؟کہا جاتاہے کہ ہنوز یہ بات حتمی وثوق سے نہیں کہی جا سکتی کہ انسانی شعور کہاں واقع ہوا۔حیرت ہے !حیرت سی حیرت کہ انسانی وجود میں جو چیز سب سے اہم ٹھہری،ہم اس کے جائے وقوع کے باب میں ابھی تک بے خبر چلے آتے ہیں۔چھ ہزار سال کی بے پایاں علمی ترقی اور فراواں سائنسی تحقیق نے بہت زیادہ کیا بھی تو اتنا ۔۔۔بقو ل شخصے ہم انسانوں پر کم ازکم اتنا تو آشکار ہوا کہ شعور دماغ میں پایاجاتا ہے پیر میں نہیں۔پاکستانی نابالغ سیاست دانوں اور دانشوروں کا شعور شاید پاؤں میں پایا جاتا ہے کہ یہ کمبخت حکومت سے باتوں باتوں میں بہشت بنا دینے کی تمنا کیا کئے۔ ہسپتالوں کی حالتِ زار و زبوں میں بہتری،غربت میں کمی،اداروں کی نک سک ٹھیک ٹھیک سنوار دینا،الیکشن کمیشن کی آزادی اور شفاف انتخابات،عدلیہ کی خود مختاری و غیر جانبداری اور فیصلوں پر عملدرآمد۔۔۔بابایہ سب تدریجی اور ارتقائی عمل چاہتے ہیں،قصہ گوؤں کا وعظ نہیں۔

عرصہ ہائے دراز سے سائنس دان اس حقیقت کی تلاش میں سر گرداں رہے کہ کائنات کی تو جیہہ اور تفہیم کے لئے راس الکلیہ ہاتھ آئے۔جی ہاں ایک ایسا راس الکلیہ جسے اب تک کے دریافت شدہ مسلمات میں ام الکلیہ کی حیثیت حاصل ہو ۔کہا جاتا ہے دانائے حقیقت آئن سٹائن ایک ایسے ہی راس الکلیہ کی دریافت کا خواب لئے دنیا سے چلے گئے ۔اسٹیفن ہاکنگ کی مشہو ر زمانہ کتاب (A briefer history of time) میں بھی کچھ ایسی ہی آرزو کا اظہار ملا کئے۔بقول ان کے کاش! ایسے راس الکلیہ کا پتہ پڑسکتا تو پھر ہم ان سوالات کے جوابات بھی فراہم کر سکتے۔۔۔یہ کائنات جیسی کہ ہے،آخر بنائی کیوں گئی؟شعور کیا ہے اور کہاں ہے؟ روح کی حقیقت کیا ہے؟ہاکنگ تو یہاں تک پہنچے کہ حقیقت بس اتنی رہی کہ کوئی کہے کچھوؤں کے کوہِ بلند پر ہماری سپاٹ زمین ٹکی ہو ئی ہے ۔بقول راشد شازحالانکہ کچھوے کے کوہِ بلند کے حق میں بھی کوئی تجرباتی شہادت مو جود نہیں۔

کپتان اور کہانی نویسوں کے کچھوے کے کوہِ بلندکی حقیقت بھی اک مفروضے سے زیادہ نہیں کہ اس کے حق میں بھی کو ئی شہادت و ثقاہت نہیں۔ان کے موقف کی صداقت ثابت ہوئی تو یہی کہ عام انتخابات اور حکومتی اداروں کے باب میں ان کے پاس قصے کہانیوں کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔شعور میں فتور کا ظہور ہوا تو اسطورہ تراشا گیا کہ شریف برادران نے سارے ادارے خرید لئے ہیں۔نجم سیٹھی نے 35پنکچر لگا کر حکومت بنانے میں مدد دی ۔الیکشن کمیشن اور عدلیہ کو بھی نیزے کی انی پر رکھ لیا گیا کہ خردو شعور بھی چیخ اٹھا۔حد ہو گئی اللہ کے بندو!کسی نے بھی لمحہ بھر کو رک کر غور نہ کیا کہ سیٹھی نگران وزیراعلیٰ پنجاب کے طور پر زرداری کی عنایت تھے،شریف برادران کی نہیں۔ن لیگ نے تو میثاق جمہوریت کے تحت آخری لمحات میں سیٹھی پر صاد کیا تھا۔انسانی شعور حق و باطل میں تمیز کرنے کی توفیق دیتااور غورو فکر کی صلاحیت ودیعت کر تا ہے ۔کہانی نویسوں اور نا بالغوں کے لئے مصیبت اور مجبوری یہ کہ وہ شعور کا مطالعہ خوابیدہ شعور کے ذریعے کرنا چاہتے ہیں۔جس کی اپنی حقیقت بس اتنی سی رہی کہ یہ دس فیصد سے چودہ فیصد سے زیادہ بیدا ر نہیں ہوتا۔

کہا جاتا ہے ذہن (Mind)اور دماغ(Brain)دو الگ الگ حقیقتیں رہی ہیں۔دماغ کے خلیوں کا مطالعہ کرنا اور اس کو ٹھوس شکل میں لیبارٹری کی میز پر لانا ۔۔۔ سائنس دانوں اور طبیبوں کے لئے خواہ کتنا ہی نا قابل فہم عمل رہا ہو مگر ہے تو ممکن۔البتہ ذہن ہماری دسترس سے یکسر باہر ہے کہ ا س کے بارے میں قطعیت کے ساتھ کلام کرنا ممکن نہیں۔بلکہ بعضے کہتے ہیں ہمارے ارد گرد جو کچھ ظہور پذیر ہوتا ہے ۔۔۔اس سے وہی چیزیں ہمارے ادراک کے احاطے میںآتی ہیں جو ہمارے حواس خمسہ سے ٹکراتی ہیں۔ورنہ تو بے شمار سرگرمیاں حواس خمسہ سے باہر ہونے کے سبب ہمارے تجربات کا حصہ نہیں بن پاتیں۔لیکن اس کا یہ مطلب تھوڑی ہے کہ وہ سرے سے ظہور پذیر ہی نہیں ہوتیں۔آخری تجزیے میں اگر الیکشن کمیشن ،انتخابی نتائج اور دوسرے حکومتی اداروں کے فیصلے کپتان اورکہانی نویسوں کے لئے قابل قبول نہیں ۔۔۔ تو اس کا یہ مطلب کہاں کہ وہ حقیقت پر مبنی نہیں۔ہاں شعور میں فتور در آیا ہو تو پھر کیا کہئے!بھائی پھر تو کچھ بھی کہئے پر ’’انہیں‘‘کچھ نہ کہئے ۔

مزید :

کالم -