بڑے نواب صاحب انور قدوائی کی یاد میں(آخری قسط)

بڑے نواب صاحب انور قدوائی کی یاد میں(آخری قسط)
بڑے نواب صاحب انور قدوائی کی یاد میں(آخری قسط)

  



1985 ئ میں غیر جماعتی جنرل الیکشن کے بعد قومی سیاست میں سینئر اور جونیئر قیادت نے اپنی اپنی پوزیشن کے مطابق سرگرمیاں شروع کر رکھی تھیں۔ حکومت اور اپوزیشن کی سیاسی جماعتیں بھی اپنے اپنے مورچوں میں ڈٹی ہوئی تھیں۔ جنرل ضیاء الحق نے مرکز اور صوبوں میں اپنی پسند کی حکومتیں بنوالی تھیں۔ وزیر اعظم کے عہدے کے لئے انہیں موزوں اور مناسب( اپنی تسلی کے مطابق) شخصیت کے انتخاب میں مشکل پیش آرہی تھی۔ حروں کے روحانی پیشوا پیر پگاڑا اس وقت جنرل ضیاء الحق سے بھرپور تعاون کررہے تھے۔ انہوں نے ایک شریف النفس، سادہ مزاج اور وفادار مرید محمد خان جونیجو کو ’’ادھار ‘‘ دے کر مسئلہ حل کردیا۔ پیر پگاڑا ، اپنے برادر نسبتی مخدوم زادہ حسن محمود کو پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنوانا چاہتے تھے لیکن جنرل ضیاء الحق کے قریبی ساتھیوں نے ان کی تجویز مسترد کردی۔ پیر صاحب کو بتایا گیا کہ محمد نواز شریف کا انتخاب کیا جاچکا ہے۔ اس پر وہ بہت دکھی ہوگئے۔ مخدوم زادہ حسن محمود تجربہ کار اور سیاسی داؤ پیچ کے بہت ماہر تھے۔ بطور اپوزیشن لیڈر انہوں نے پنجاب کے نوجوان حکمران کو بہت ’’وخت‘‘ ڈالے رکھا۔ ان کی وجہ سے اسمبلی کے اندر اور باہر کافی گہما گہمی رہی۔ اچانک ن کا انتقال ہوگیا تو پیر پگاڑا کا یہ اہم مورچہ بھی خاموش ہوگیا۔ پیر صاحب نے ہمت نہ ہاری، لاہور میں انہوں نے اپنا قیام بڑھا دیا اور اپنے پسندیدہ اخبار نویسوں سے ان کی ملاقاتوں کا سلسلہ بھی وسیع ہوگیا۔

پیر پگاڑا کے قریبی ساتھی اور ان کی سیاسی جماعت مسلم لیگ (فنکشنل) کے جنرل سیکرٹری رانا محمد اشرف منتخب اخبار نویسوں( نوائے وقت سے انور قدوائی، امروز سے چودھری خادم حسین اور جنگ سے سید فاروق شاہ) کو اطلا ع کیا کرتے تھے کہ آج پیر پگاڑا ’’گپ شپ‘‘ کریں گے، بعد میں ڈان سے اشرف ممتاز بھی اس گروپ میں شامل ہوگئے۔ پیر صاحب ان چار اخبار نویسوں کے سوا کسی کو اپنی گپ شپ میں شامل نہیں کیا کرتے تھے۔ گزشتہ قسط میں ہم بتا چکے ہیں کہ کچھ عرصہ کے لئے سینئر اخبار نویس عبدالقادر حسن کو جنرل ضیاء الحق کی ہدایت پر روزنامہ امروز کا ایڈیٹر مقرر کیا گیا تھا۔ تھوڑے عرصے بعد وہ کسی بات پر ہمارے رفیق کار چودھری خادم حسین سے ناراض ہوئے تو ان کی رپورٹنگ کی ڈیوٹی یکسر تبدیل کردی گئی۔ تمام اہم سیاسی جماعتوں کی رپورٹنگ ہمارے ذمے ڈال دی گئی۔ ہمارا مسئلہ یہ تھا کہ پیر پگاڑا دو مرتبہ لاہور آئے، تین بار انہوں نے ’’گپ شپ‘‘ کی لیکن ہم اس میں شامل نہ ہوسکے۔ ہم نے فون کر کے پیر صاحب کو بتایا کہ دفتر کی طر ف سے آپ کی رپورٹنگ ہمارے ذمے ہوگئی ہے۔ پیر صاحب نے جواب دیا کہ بھائی صاحب اس تبدیلی کے حوالے سے میری گپ شپ کی رپورٹنگ کے بندوبست کے بارے میں آپ جانیں اور آپ کا دفتر جانے۔ آپ خبر حاصل کرنے کا کوئی بندوبست کرلیں، آپ ہمارے گروپ میں شامل نہیں ہو سکتے۔ ہم نے انور قدوائی سے خبر حاصل کر کے فائل کردی۔ لیکن یہ مسئلہ کا حل نہیں تھا۔ یہ اسی دور کا ذکر ہے، جب ’’ جنگ ‘‘ کے رپورٹر سید فاروق شاہ انتقال کر گئے تو ان کی جگہ پرویز بشیر، پیر صاحب کے گروپ میں شامل ہو چکے تھے۔ پرویز بشیر نے بھی ہم سے تعاون کی حامی بھرلی کہ وہ بھی ’’گپ شپ‘‘ کی خبر دے دیا کریں گے۔ہم نے اپنے حلقہ احباب سے ایک زوردارشخصیت کو تلاش کیا، انہوں نے پیر صاحب کو فون کر کے ہمارے لئے سفارش کردی۔پیر صاحب انکار نہ کر سکے۔ ہم نے فون کر کے پوچھا تو پیر صاحب نے کہا کہ آپ آجائیں۔ مقررہ وقت پر’’ مخدوم ہاؤس‘‘ پہنچے تو اندر بلالیا گیا۔ مخصوص میز کے گرد چاروں مخصوص اخبار نویسوں کے ساتھ پیر صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔ ہمیں محبت سے ویلکم کیا اور پھر سب کو بتایا کہ ابتک ہمارا چار یاروں کا گروپ تھا، آج سے یہ پانچ دوستوں کا گروپ ہو گیا ہے۔ یہ کہتے ہوئے انہوں نے انور قدوائی کی طرف غور سے دیکھا اور ملازم کو چائے لانے کے لئے کہا۔

پیر پگاڑا نے انور قداوئی سے کہا ’’نواب صاحب! ٹھیک کیا ہے ناں؟‘‘ انور قدوائی نے گھمبیر لہجے میں کہا ’’آپ نے اچھا فیصلہ کیا ہے ویسے آپ بادشاہ لوگ ہیں، آپ کو اخبار نویسوں کی مجبوریوں کا اندازہ نہیں۔ مَیں تو آپ سے اتنا عرض کروں گا کہ آپ نے اخبار نویسوں کا داخلہ سختی سے منع کر رکھا ہے۔ دو تین اخبار نویسوں کو آپ نے ’’مخدوم ہاؤس‘‘ سے چلے جانے کا بھی کہہ دیا تھا۔ آپ مرضی کے مالک ہیں، جو بھی جیسا بھی نظام قائم کریں لیکن یہ بات ذہن میں رکھیں کہ آپ اہم سیاستدانوں میں شامل ہیں۔ آپ کی رپورٹنگ کرنا اخبار نویسوں کی مجبوری ہے۔آپ اس کا ضرور خیال رکھیں‘‘ یہ سن کر پیر پگاڑا نے گہرا سانس لیا اور موضوع بدلنے کے لئے پوچھا ’’بھئی آپ لوگ بتاؤ، کیا خبر ہے؟‘‘

قدوائی صاحب کی گفتگو سُن کر حوصلہ ہوا کہ انہوں نے اپنے اخبار نویس ساتھیوں کی مجبوری سے پیر پگاڑا کو آگاہ کر دیا۔ بقول اُن کے ’’ہتھ ہولا‘‘ رکھنے کی بات کر دی۔ بعض اوقات وہ اپنی گفتگو میں پنجابی کے الفاظ شامل کرتے تو سننے والے اُن کی ’’گلابی اُردو‘‘ کا مزہ لیتے رہتے۔ مثلاً وہ جب کسی موضوع پر بحث ختم کرنا چاہتے تو کہا کرتے تھے۔ ’’چلو، چھڈو جی۔۔۔ بس ہن سٹو، سٹو!‘‘ 1993ء کے الیکشن کے بعد تحریک نجات کے دوران میاں نواز شریف نے بہاولپور کا دورہ کیا۔ کسی نے اُنہیں لال سوہانرا جنگل میں شکار کھیلنے کا مشورہ دیا۔ اُن کے میزبان سید تسنیم نواز گردیزی نے رات کو خصوصی لائٹس کے ساتھ شکار کا پروگرام ترتیب دیا۔ کافی دیر تک اِدھر اُدھر گھومتے رہے لیکن ہرن دکھائی نہ دیا۔ البتہ تین چار سورنظر آگئے۔ ان کا نشانہ لیا گیا لیکن وہ زد میں نہ آئے۔ قدوائی صاحب کو نیند آ رہی تھی۔ بوجھل لہجے میں انہوں نے کہا ’’میاں صاحب! آپ کا رعب ہی بہت ہے۔ سب جانور شیر کی آمد پر ادھر اُدھر ہو جایا کرتے ہیں۔ اسی لئے کوئی ہرن وغیرہ دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ جہاں تک سور کے شکار کی بات ہے، تو انہیں دفع کریں۔ ان کو سونے دیں ۔ آپ کے لئے ملک اور قوم کے دشمنوں کا شکار ہی کافی ہے۔‘‘ اس پر میاں نوازشریف نے ہنستے ہوئے کہا۔ قدوائی صاحب! آپ در اصل ان سوروں سے ڈر گئے ہیں۔ ہم اِن سوروں کو بھی ماریں گے اور ملک و قوم کے دشمنوں سے بھی نپٹیں گے۔‘‘ یہ سن کر سبھی نے ایک قہقہہ لگایا۔

انور قدوائی بے حد خوش قسمت تھے کہ حکمرانوں کے علاوہ اہم سیاستدانوں کی قربت انہیں حاصل رہی۔ خاص طور پر شریف برادران سے ان کی بڑی دوستی ہوگئی۔ نوازشریف جب تک پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہے، اُن کے ساتھ قریبی رابطہ رہا جب وہ اپوزیشن لیڈر بن کر قومی اسمبلی میں چلے گئے اور 1990ء میں وزیر اعظم بنے تو اس دوران شہباز شریف سے انور قدوائی بہت زیادہ رابطے میں رہنے لگے۔ تاہم نوازشریف اور شہباز شریف دونوں کا انہیں اعتماد حاصل رہا۔ برسوں کے اعتماد کو قدوائی صاحب نے کبھی ٹھیس نہیں پہنچائی۔ ان کی دوستی سب کے لئے فخر کی بات ہوا کرتی تھی۔ ان کی یادوں کا سلسلہ وسیع ہے، بہت سی یادیں ہیں، جو ان کی ذات کے حوالے سے اہمیت رکھتی ہیں۔ بلاشبہ وہ ایک کامیاب اننگز کھیل کر اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ تمام دوستوں کی طرف سے اُن کی مغفرت اور جنت میں درجات کی بلندی کی دعا لبوں پر رہتی ہے۔ وہ اس دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی ہم دوستوں کے لئے بڑے نواب صاحب اور موڈی دوست کے طور پر یاد رہیں گے۔

مزید : کالم