نیا سال نئی ریزیلوشن

نیا سال نئی ریزیلوشن
 نیا سال نئی ریزیلوشن

  

میں نے بھولے سے پوچھا، نیا برس شروع ہو گیاتم اس برس کیا نیا کرنا چاہتے ہو، جواب ملا، کاروبار میں اضافہ کرنا ہے اور وزن کم کرتے ہوئے پرسنالٹی کو امپرووکرنا ہے، میں ہنس دیا۔ یہ عزم ، یہ ارادہ تو ہر برس ہی ہوتا ہے مگراس پر عمل نہیں ہوپاتا، اس برس تو کچھ نیا ہونا چاہئے ،کیا خوب ہو کہ ہم باقاعدگی سے نماز ادا کرنے کا پکا ارادہ کر لیں اور سوچ لیں کہ ہم نے روزانہ کم از کم دس، پندرہ منٹ تک قرآن پاک کی تلاو ت ضرور کرنی ہے، یہ ایک پارے کا ایک چوتھائی ہو یا نصف۔بھولے نے میری طرف دیکھا، وہ ایک اچھا شخص ہے، دینی شعائر اورتقاضوں کا احترام کرتا ہے، دھیرے سے بولا، زندگی بہت مصروف ہے سچی بات تو یہ ہے کہ پانچ وقت نماز کے لئے وقت نکالنا کافی مشکل ہوجاتا ہے مگر میں یہ بات کسی کو نہیں کہتا ۔ قرآن پاک پڑھنا اہم ہے مگر قرآن پاک کو صرف پڑھنا تواہم نہیں ہے، اصل اہم تو اسے سمجھنا ہے، اس کے مطابق اپنی زندگیاں بسر کرنا ہے۔ آج کے دور میں مشکل تو یہ ہے کہ جو دکاندار نماز دکھاوے کی پڑھتا ہے ، کاروبار کے لئے اللہ رسول کے ناموں کی قسمیں کھاتا ہے،اسی سے زیادہ ڈر ہوتا ہے کہ اس کے معاملات میں جھوٹ ہو گا،سودے میں ملاوٹ ہو گی۔

بھولے کی باتیں عمومی طور پر درست تھیں مگرمجھے یوں لگا کہ جیسے ہم سب اپنے رب سے دور بھاگنے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں، دوسروں کو نہیں خود کو دھوکے میں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمیں ماننا ہوگا کہ مذاہب اچھائی کا راستہ دکھاتے ہیں، برائی سے منع کرتے ہیں اور اسلام ان سب سے آگے بڑھتے ہوئے پورے کے پورے سماجی اور معاشرتی نظام کا بہترین لائحہ عمل پیش کرتا ہے۔ میں نے بھولے سے کہا، تم اب تک کی گزاری ہوئی اپنی زندگی کے کامیاب ترین تین ماہ میرے ساتھ شئیر کرو، جن میں تم یہ محسوس کرو کہ تم نے بہت محنت کی ہو، کام کوبہت زیادہ وقت دیا ہو، بہت زیادہ کامیابیاں سمیٹی ہوں اورپھر نماز کی پابندی کرتے ہوئے تین ماہ میں اپنے وقت کے استعمال اور فوائد کا حساب کتاب کر لینا، نماز کسی طور وقت ضائع نہیں کرتی، یہ اسے منظم اور مرتب کرتی ہے۔اگر تم خود کو فجر کی نماز کے وقت اٹھنے کا عادی بنا لوتو کاروبار کے لئے تمہارے پاس ڈھیروں وقت موجود ہوتا ہے مگر ہمارے تاجراپنے دن کا آغاز ہی ظہر کے وقت کرتے ہیں اور پھر رات گئے تک دکانوں پر بیٹھے گاہکوں کا انتظا ر کرتے رہتے ہیں جبکہ دنیا بھر کے مہذب معاشروں میں رات ہوتے ہی ہسپتالوں اور ہوٹلوں کے علاوہ کاروبار کے تمام مراکز بند کر دئیے جاتے ہیں۔ ایک دوسری بات بھی آزما کر دیکھ لی جائے کہ وقت نماز پڑھے بغیر بھی گزر جاتا ہے اور وقت نماز پڑھنے کے ساتھ بھی گزر جاتا ہے مگر دوسری صورت میں دنیاوی فائدوں کے ساتھ ساتھ آخرت کے لئے ایک سرمایہ کاری ہو جاتی ہے۔ یہ عین ممکن ہے کہ کچھ کاروباری لوگ اللہ اور رسول کے نام کو دھوکا دینے کے لئے استعمال کرتے ہوں مگر آج کے گئے گزرے دور میں بھی نمازپڑھنے والوں کا احترام اور اعتماد موجود ہے اور بے شک نماز بے حیائی اور برائی کے کاموں سے بھی روکتی ہے۔

بھولے نے کہا، میں خود کو مولوی نہیں کہلوانا چاہتا، میں ایک آزاد خیال او رلبرل انسان ہوں،میں خود کو انتہا پسند بھی نہیں کہلوانا چاہتا ،مجھے اس کی بات سن کر ہنسی آئی،میں نے کہا، بھولے ہم مسلمان ہیں یا نہیں ہیں، درمیان کا کوئی راستہ نہیں ۔ ہم نماز اور قرآن کے منکر ہو کر مسلمان ہونے کے دعوے کریں یہ کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ میں تو ہو سکتاہے مگر رب کے حضور نہیں۔ اسلام میں مولویت کا ایساکوئی تصور نہیں جیسے عیسائیت رہبانیت کا تصور پیش کرتی ہے۔ ہر وہ کام جو ایک مولوی کرتا ہے اصل میں وہ ہر مسلمان کو کرنے چاہئیں۔ نماز پڑھنا، روزہ رکھنا، صلہ رحمی کرنا، حسن اخلاق سے کام لینا اور اپنے روزمرہ کے معاملات کو جھوٹ اور بے ایمانی سے پاک رکھنا کسی طور بھی مولویت یا انتہا پسندی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ہمارے دین کی فتوحات کی بنیاد فتح مکہ سے رکھی گئی، کیا کوئی ثابت کرسکتا ہے کہ اس فتح تک پہنچنے کے لئے دنیا کی عظیم ترین شخصیت نے کسی قسم کے ظلم اور جبر کا سہارا لیا ہو بلکہ خود انہیں ایسا ستایا گیا کہ دنیا کے کسی شخص کو شائد ہی ایسے ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑا ہو۔میرا دل اس وقت خون کے آنسو روتا ہے جب تمام عالموں کے لئے رحمت بنا کر بھیجے جانے والے کے مذہب اور جہاد کے تصور کوانتہا پسندی اور دہشت گردی کے ساتھ جوڑا جاتا ہے، یہ سب ہمیں اپنے سچے مذہب اور بہترین معاشرتی نظام سے دور رکھنے کی سازش ہے جس میں ہمارے کچھ اپنے بھی آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ میری نئے سال کی ریزولیوشن میں پورے معاشرے کی نہیں ، صرف اپنی ذات کی اصلاح ہے جومجموعی طور پر پورے معاشرے کی اصلاح کی بنیاد بن سکتی ہے۔ ہم کہتے ہیں مصروفیت نما ز کی اجازت نہیں دیتی جبکہ فجرکی نماز صرف نیند کو ڈسٹرب کرتی ہے کسی کام کو نہیں ۔یہ ممکن ہے کہ ظہر کی نماز پندرہ سے بیس منٹ تک کا وقت لے مگر یہ وہ وقت ہوتا ہے جب ہم میں سے بہت سارے دوپہر کے کھانے کی بریک لیتے ہیں، عصر چائے کے وقت کے ساتھ ہے اور اگر آپ کسی سرکاری اور غیر سرکاری ادارے میں ملازمت کرتے ہیں تو مغرب کی نماز بھی آپ کی شام کو تازہ دم کر سکتی ہے۔ عشاء کی نماز اگرباجماعت ادانہ ہو سکے تو رات کو تمام کاموں کو نمٹاتے ہوئے آخر میں اپنے رب سے رجوع کرناکتنے فضل اور برکت کی بات ہے۔

مجھے بھولوں کے پیش کردہ اس موقف سے بھی اتفاق نہیں ہے کہ ہمیں قرآن پاک کو اسی وقت پڑھنا ہے جب ہم اس کے عالم ہوں، ماہر ہوں۔مجھے تو یہ سب نماز اور قرآن نہ پڑھنے کے بے بنیاد جواز لگتے ہیں۔ قرآن پڑھنے کا ثواب ہے اور اٹک اٹک کر پڑھنے کا دوگنا ہے۔میں اس تشریح کا ہرگز منکر نہیں کہ قرآن پاک ہمارے لئے تعویذوں کو لکھ کر گلوں میں باندھنے یاپانی میں گھول کر پلانے کے لئے نازل نہیں ہوا، قرآن تو ہمارے لئے ضابطہ حیات ہے اور اس کو سمجھنا از حد ضروری ہے مگر دوسری طرف اس امر سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ سمجھ آئے یا نہ آئے، قرآن پاک کا پڑھنا بہت فضیلت اور برکت کا باعث ہے۔ ہمیں تو اپنے رب کی خوشنودی کی منزل تک پہنچنا ہے، اس کے لئے راستہ عقل کا ہو یا محبت کا، اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ ہم آج کل اپنے سمارٹ فونز پر روزانہ گھنٹوں صرف یہ بے معنی اور فضول شے جاننے میں ضائع کر دیتے ہیں کہ دوسرے کیا کہہ رہے ،کیا کر رہے ہیں لیکن اگر قرآن پاک پڑھنا شروع کر دیا جائے تو شروع میں اٹھارہ بیس منٹ اور بعد میں بارہ ، پندرہ منٹوں میں آدھا پارہ پڑھا جا سکتا ہے۔ ہر دو ماہ میں ایک مرتبہ قرآن پاک ختم کیا جاسکتا ہے اور اگر آپ کسی ایک سورۃ کو روزانہ پڑھنا شروع کر دیں چاہے وہ پانچ رکوع طویل سورۃ یٰسین ہی کیوں نہ ہو تو چند مہینوں میں بغیر کسی کوشش کے زبانی یاد ہو سکتی ہے ۔ سورۃ یٰسین کو ایک مرتبہ پڑھنے کا ثواب دس مرتبہ قرآن پاک پڑھنے کے برابر ہے اور جب آپ اس سورۃ کے دوست بن جائیں تو محض تین منٹ کے اندر یہ ثواب حاصل کر سکتے ہیں۔ تین رکوع پر مشتمل سورۃ رحمان قرآن پاک کی دلہن ہے اور اس کی ہمسایہ سورۃ واقعہ آمدنی میں اضافے کے لئے بھی اکسیر سمجھی جاتی ہے۔ سورۃ کہف آدھے پارے سے زیادہ اور پون پارے کے برابر ہے اور اسے جمعے کے روز پڑھے جانے کی تاکید کی گئی ہے۔ سورۃ الملک، سورۃ التغابن، سورۃ الجمعہ جیسی بہت ساری قرآنی سورتیں محض کچھ عرصہ تک بار بار پڑھنے سے زبان پر رواں ہوجاتی ہیں۔

میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ! یہ دن عمل کا ہے اور حسا ب کچھ نہیں اور وہ دن حساب کا ہو گا اور عمل کچھ نہیں ہوگا۔یہ درست ہے کہ دین کا لبادہ اوڑھنے والوں میں سے بعض نے مایوس کیا ہے مگر ایک حقیقت ہے کہ ایک چور نمازی ہو نے کی اداکاری کر سکتا ہے مگر ایک نمازی کے چور ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ہم اپنے کردار اور عمل سے ثابت کر سکتے ہیں کہ اسلام جیسے دین پر عمل کرنے والے اپنے افعال و کردار میں باقیوں سے بہت بہتر ، دنیا و آخرت میں باقیوں سے بہت زیادہ کامیاب ہوتے ہیں۔ یہ بات اس لئے سو فیصد سچ ہے کہ بات دنیا کے سب سے سچے اور باخبر شخص نے ہمیں بتائی ہے اور ہمارا ایمان ہے کہ ان کی بتائی ہوئی کوئی بھی بات ،کوئی بھی راستہ غلط نہیں ہوسکتا۔ اگر ہم نئے برس میں کامیابیوں اور فلاح کے راستے پر چلنا چاہتے ہیں تو اس مرتبہ یہی ریزیلوشن سہی

مزید :

کالم -