سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی انسانی حقوق نے ہندو میرج بل 2016منظور کرلیا

سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی انسانی حقوق نے ہندو میرج بل 2016منظور کرلیا

  

اسلام آباد(اے این این) سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق نے متفقہ طور پر ہندو میرج بل 2016 منظور کرلیا، جسے سال نو کے موقع پر اقلیتوں کے لیے نئے سال کا تحفہ قرار دیا جا رہا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)کی سینیٹر نسرین جلیل کی سربراہی میں قائم سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس پارلیمنٹ ہاس کے کمرہ نمبر چارمیں ہوا، جہاں بل پر مکمل بحث کی گئی۔ بحث کے دوران ماہر قانون ساز سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ بل آئین پاکستان کی روح کے مطابق ہے۔ بعد ازاں کمیٹی نے بل کو متفقہ طور پر منظورکرلیا، بل کی منظوری کے وقت تمام سینیٹرز، عہدیداروں اور وزرا نے ڈیسک بجا کر اس کی منظوری دی۔ قومی اسمبلی کے اقلیتی ممبر ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی نے بل کی منظوری کو ہندو برادری کے لیے سال نو کا تحفہ قراردیتے ہوئے کہا کہ انہیں آج پاکستانی ہندو ہونے پر فخر ہو رہا ہے، اب وہ اپنی شادیوں اور طلاقوں کو قانونی طور پر حل کر سکیں گے۔ سینیٹر اعتزاز احسن نے اس موقع پر بل کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ بل اسلامی اصولوں کے خلاف نہیں ہے، کیوں کہ مذہب اسلام اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے کی بات کرتا ہے۔ اس بل کے تحت ہندو برادری کے لوگ اپنی شادیوں کو رجسٹر کرانے سمیت طلاق کے لیے عدالتوں سے رجوع کر سکیں گے جبکہ ہندو بیواؤں کو دوسری شادی کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔ ہندو میرج بل 2016 کی شق 17 کے مطابق ہندو بیوہ اپنے شوہر کے موت کے 6 ماہ بعد اپنی مرضی سے دوسری شادی کر سکے گی۔ بل کے تحت ہندو برادری کے لوگ مسلمانوں کی طرح نکاح نامے کی طرز کی دستاویزات بھی حاصل کرسکیں گے جبکہ بل کی خلاف ورزی کے لیے سزائیں بھی تجویز کی گئی ہیں۔ اس بل کے تحت پاکستان میں رہنے والی ہندو برادری کو جامع اور وسیع خاندانی قانون کے فوائد حاصل ہوں گے۔ خیال رہے کہ ہندو میرج بل 2016 اس سے پہلے ستمبر 2016 میں قومی اسمبلی سے منظور ہوچکا ہے۔ اسی طرح کا ایک بل سندھ اسمبلی نے بھی منظور کر رکھا ہے جس کے تحت ہندو برادری میں کم عمری کی شادیوں پر پابندی لگا کر شادی کی کم سے کم عمر 18 برس کردی گئی ہے۔ سندھ اسمبلی سے منظور کردہ بل کے میں شادی کی رجسٹریشن یونین کونسل میں کرانی لازمی قرار دی گئی ہے اور جو جوڑا رجسٹریشن نہیں کرائے گا ،اس پر ایک ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ بل کے متن کے مطابق شادی میں 2 گواہوں کی موجودگی اور والدین کی رضامندی بھی ضروری قرار دی گئی ہے جبکہ سکھ، پارسیوں اور دیگر اقلیتوں کی شادیاں بھی اسی بل کے تحت رجسٹرڈ ہوں گی۔

ہندو میرج بل

مزید :

صفحہ اول -