سندھ اپیکس کمیٹی کا اجلاس،کیا آپریشن کا رخ موڑا جارہا ہے؟

سندھ اپیکس کمیٹی کا اجلاس،کیا آپریشن کا رخ موڑا جارہا ہے؟

  

(تجزیہ: کامران چوہان)سال نو کے پہلے سندھ اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ نے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے وفاق کے کردار پر شدید تحفظات کا اظہارکرکے ایک نئی بحث کا آغاز کردیا ہے ۔ کراچی آپریشن کے کپتان نے سندھ حکومت کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ 62 کالعدم تنظیموں ، 94مدارس جبکہ مختلف مکاتب فکر کے 581افراد کو سندھ حکومت کی سفارش پر فرسٹ شیڈول میں شامل کیا گیا۔ وفاقی وزیر داخلہ پر اشارتاًتنقید کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کالعدم تنظیموں کے لوگ کھلے عام اپنے اجلاس اور جلسے منعقد کررہے ہیں۔ وفاقی حکومت اس حوالے سے کوئی واضح پالیسی اختیار نہیں کررہی ہے۔سندھ اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں پہلی مرتبہ یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ وزیراعلیٰ سمیت تمام افراد کا فوکس کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر رہا اور سید مراد علی شاہ نے واضح ہدایات جاری کیں کہ وہ ’’اسٹریٹ کرائم فری‘‘ کراچی چاہتے ہیں ۔ سائیں نے ڈی جی رینجرز اور آئی جی سندھ کو مل بیٹھ کر ڈرگ مافیا کے خلاف آپریشن کو حتمی شکل دینے اور بھرپور آپریشن کی بھی ہدایت دی۔ یہ بات انتہائی قابل ذکر ہے کہ کراچی آپریشن اپنے منطقی انجام کی جانب گامزن ہے جس کے ثمرات سے شہر باسی بھی مستفیدہورہے ہیں ۔عروس البلاد کی ماند پڑی روشنیاں پھرسے بحال ہورہی ہیں جبکہ خوف کے بادل بھی چھٹ گئے جس کی تماتر کامیابیوں کا سہراقانون نافذکرنے والے اداروں کے سرہے ۔ سندھ اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں اس بار اسٹریٹ کرائم، ڈرگ مافیا اور اسلحہ کی خرید و فروخت کے معاملات زیر بحث آئے ۔ کیونکہ گزشتہ کئی اجلاسوں میں ٹارگٹ کلنگ ،کالعدم تنظیموں کی کارروائیوں اور سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز کی سرکوبی اور ان کے خلاف آپریشن کی حکمت عملی پر غورکیا جاتا تھا۔ مگرحالیہ اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں عسکری ونگز، کالعدم تنظیموں اور ان کے سیاسی سہولت کاروں کے حوالے سے کوئی واضح پالیسی دیکھنے میں نہیں آئی ہے جس سے تاثر پیدا ہوسکتا ہے کہ عسکری قیادت کی تبدیلی کے بعد کراچی آپریشن کا رخ موڑ جارہا ہے اور معاشی دہشت گردی میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی اس تیزی کے ساتھ نہیں کی جائے گی جس طرح ماضی میں کی جاتی رہی ہے ۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سندھ اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں ان (سہولت کاروں) کے خلاف بھی حکمت عملی طے کی جاتی۔ ماضی میں کئی حکومتی افسران، صنعتکار اورسیاسی شخصیات کے مبینہ فرنٹ مینوں کی کرپشن کی داستانیں منظر عام پر آچکی ہیں جن لوگوں نے صرف قومی دولت ہی نہیں لوٹی بلکہ شہر کے امن کوسبوتاژ کرنے والے عسکری گروہوں کومنظم کرنے میں بھی کردارادا کیا ۔ ان سہولت کاروں کو کیفر کردار تک پہنچائے بغیر کراچی آپریشن اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکے گا۔ اسی لئے سندھ اور وفاق کو اس جانب بھی توجہ مبذول کرنی ہوگی۔

مزید :

علاقائی -