مشکل فیصلے معاشی مشکلات کا واحد حل ہیں،میاں زاہد حسین

مشکل فیصلے معاشی مشکلات کا واحد حل ہیں،میاں زاہد حسین

  

کراچی (اکنامک رپورٹر)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینیئر وائس چےئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ ملکی برآمدات کئی سال سے مسلسل گر رہی ہیں جبکہ درآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے بجٹ خسارے میں اضافہ ہو رہا ہے اس لیے برآمدی شعبہ کو مستحکم کرنے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے ورنہ قرضوں پر انحصار جاری رہے گا۔2014-15 میں برآمدات میں آٹھ فیصد کمی آئی ، 2015-16 میں برآمدات میں 12.5 فیصد کمی آئی جبکہ سال رواں کے پہلے تین ماہ میں برآمدات میں نو فیصد کمی اور درآمدات میں دس فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس نے خسارے میں 29 فیصد اضافہ کیا ہے۔ میاں زاہد حسین نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ برآمدات کے علاوہ ترسیلات اور زرعی پیداوارکی صورتحال بھی تشویشناک ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ بعض بڑی صنعتوں کی پیداوار میں کچھ اضافہ ہوا ہے مگر پاکستانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ٹیکسٹائل کی پیداوار میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ نجی شعبہ کے قرضوں میں بھی کمی آئی ہے۔ محاصل کی صورتحال میں کچھ بہتری آئی ہے مگر یہ ضروریات سے بہت کم ہے۔ انھوں نے کہاکہ معیشت کو درپیش مسائل کاواحد حل مشکل فیصلوں میں مضمر ہے ورنہ معاشی ترقی کی رفتار تسلی بخش نہیں ہو سکے گی نہ ہی سماجی صورتحال میں بہتری آئے گی جو ملکی ترقی کیلئے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔میاں زاہد حسین نے مز یدکہا کہ ٹیکسٹائل کا شعبہ جو سب سے زیادہ زرمبادلہ کما رہا ہے اور چالیس فیصد شہری مزدوروں کوروزگار فراہم کر رہا ہے اس شعبہ کو ویلیو ایڈیشن کی ترغیب دی جائے اور وہ عالمی منڈی میں قیمت کے بجائے مصنوعات کے معیار کی بنیاد پر دیگر ممالک سے مقابلہ کرے۔ ملک کے ہر اہم شہر میں ٹیکسٹائل، کھیلوں کے سامان، چمڑے کی مصنوعات،آلات جراہی اور دیگر برآمدی مصنوعات کیلئے شوروم بنائے جائیں تاکہ غیر ملکی گاہکوں کو خریداری میں سہولت ہو۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -