مانسہرہ،موٹروے کی زد میں آنیوالی اراضی مالکان کا احتجاجی مظاہرہ

مانسہرہ،موٹروے کی زد میں آنیوالی اراضی مالکان کا احتجاجی مظاہرہ

  

مانسہرہ(بیورورپورٹ)مانسہرہ سی پیک منصوبے کے تحت ہزارہ موٹروے کی زد میں آنے والی سینکڑوں کینال نہری اراضی کے مالکان کا حقوق کے لیے احتجاجی مظاہرہ ، حقوق نہ ملنے کی صورت میں شاہراہ ریشم پر دھرنا دینے اور دفاتر کے گھیراو کا اعلان ، چینی سفارت کے سامنے احتجاج کی تجویز، اس سلسلے میں گزشتہ روز ڈھوڈیال ، ارغوشال ، ہاتھی میرا ، لبڑکوٹ، بجنہ اور شنئی کی سینکڑوں کینال اراضی کے مالکان نے حقوق کے لیے احتجاج کیااور ڈپٹی کمشنر مانسہرہ سے ملاقات کر کے مطالبات پیش کیے جسکے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے متاثرین موٹر وے ارشد عباسی ، مقدر خان ، محمد اشفاق جنرل کونسلر، محمد فرید سابقہ کونسلر ، محمد ظہور خان ، فریدوں خان و دیگر نے کہا کہ 1946-47کے بندوبست کے مطابق ہماری اراضی رکھ ، میرا ، پہاڑ وغیرہ تھی جو تاحال کاغذوں میں اسی طرح چلی آرہی ہے جبکہ 1970میں اپر سرن نہر کے زریعے ہماری زمین کو سیراب کیا گیا اور اسکے بعد ہم محکمہ آبپاشی کو نہری اراضی کا باقاعدہ آبیانہ ادا کرتے ہیں ہمارے پاس تمام ثبوت موجود ہیں اور ساری دنیا کو پتہ ہے کہ ہمارا علاقہ ایک مکمل زرعی علاقہ ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ محکمہ مال کے ریکارڈ کو درست کر کے ہمیں نہری اراضی باڑی اور ہوتر کے حساب سے معاوضہ ادا کیا جائے،متاثرین کا کہنا تھا کہ ان کی اراضی میں لنک روڈ موجود ہیں اور ایک زرعی زمین ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مکمل کمرشل زمین ہے عام حالات میں بھی ہم اپنی زمین ایک کروڑ فی کنال کے حساب سے بھی نہیں فروخت کرتے قومی منصوبہ موٹر وے کے لیے ہم اپنی اراضی دیں گے مگر ہمارا روزگار ختم ہو جائے گا ہماری زرعی زمینیں روڈ کے نیچے آ جائیں گی جس سے ہمارے بچوں کا معاشی قتل ہو گا انھوں نے کہا کہ اگر ہماری زمینوں کے موجودہ مارکیٹ ریٹ کے حساب سے ریٹ نہ لگائے گے تو اپنے روزگار اور اپنے بچوں کے مستقبل کے تحفظ کے لیے ہم ہر قسم کی قربانی دیں گے سڑکوں پر نکلیں گے اسلام آباد ، پشاور میں جا کر احتجاج کریں گے عدالت سے رجوع کریں گے انھوں نے کہا کہ ہماری کروڑوں کی زمینوں کا کوڑیوں کے بھاو لگایا جا رہا ہے جس سے متاثرین میں شدید اشتعال پھیل گیا ہے اسلیے لاء اینڈ آرڈر کا کوئی بھی مسئلہ پیدا ہوا تو اس کی تمام ترزمہ داری ضلع انتظامیہ پر ہوگی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -