پی ٹی آئی نے اپنے دور اقتدار میں 123 قوانین بنائے ،سیکرٹری قانون

پی ٹی آئی نے اپنے دور اقتدار میں 123 قوانین بنائے ،سیکرٹری قانون

  

پشاور( سٹاف رپورٹر )اقوام متحدہ کے تمام اداروں باالخصو ہیومن رائٹس کونسل (ایچ آر سی(جیسے اہم اداروں کے تقاضوں کو پوراکرنے کیلئے خیبرپختونخوا کے تمام متعلقہ محکمے اپنے اپنے شعبوں سے متعلق ڈیٹا مطلوبہ وقت کے اندر جلد از جلد فراہم کریں تاکہ یہ معلومات منسٹری آف ہیومن رائٹس کو بروقت فراہم کی جاسکیں۔مذکورہ بالا ہدایات صوبائی سیکرٹری قانون ڈاکٹر محمد عارفین نے پشاور کے مقامی ہوٹل میں ہیومن رائٹس کی پانچ روزہ ورکشاپ میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے اظہار خیال کرتے ہوئے جاری کیں۔صوبائی سیکرٹری قانون نے اس موقع پر شرکاء کو بتایا کہ گزشتہ حکومت کے پانچ سالہ دور میں خیبر پختونخوا میں کل 55قوانین بنائے گئے جبکہ پی ٹی آئی کے ساڑھے تین سالہ دور میں 123قوانین بنائے گئے اور اس تیز ی کے ساتھ قانون سازی کا عمل مکمل کرنے کی وجہ تحریک انصاف کی حکومت اور اس کے اتحادیوں کے پولیٹیکل ول کا نتیجہ ہے۔ پیر سے پانچ روزہ ورکشاپ منسٹری آف ہیومن رائٹس نے غیر سرکاری ادارے ایس پی او کے تعاون سے کیا تھا جس میں متعلقہ سرکاری محکموں کے اعلیٰ حکام اور سول سوسائٹی کے ذمہ داروں اور ماہرین نے شرکت کی ۔ورکشاپ میں اقوام متحدہ کے اہم ادارے ایچ آر سی اور اس کے دیگر ذیلی اداروں کے طریقہ کار ،قانون سازی، تنظیمی اور ادارہ جاتی تقاضوں اور مسائل کے حل کیلئے مختلف اقدامات پر تفصیل سے بحث و تمحیث کی گئی ۔ اس موقع پر ورکشاپ کے اہم سیشن کے دوران ہیومن رائٹس کے ڈائریکٹر جنرل محمد ارشداور دیگر مقررین نے ورکشاپ کے شرکاء کو ہیومن رائٹس کمیشن کے اغراض و مقاصد اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیل سے آگاہی دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر میں معاشرے کے محروم طبقوں باالخصوص بچوں ،خواتین ،قیدیوں ،خواجہ سراؤں ،گداگروں اور مفلس و بے سہارا لوگوں کی مدد کیلئے اور ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے ہمیں من حیث القوم باہم مل جل کر ایک ٹیم ورک کے ذریعے اپنی قومی ذمہ داریاں بھرپور قومی جذبے کے ساتھ ادا کرنا ہوں گی ۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -