’ تھانیدار‘‘ بہت جلدپنجاب سے گم ہوجائے گا

’ تھانیدار‘‘ بہت جلدپنجاب سے گم ہوجائے گا
’ تھانیدار‘‘ بہت جلدپنجاب سے گم ہوجائے گا

  

تحریر: سید بدر سعید

پولیس کا ذکر ہوتے ہی مخصوص ’’تھانہ کلچر‘‘ کا خیال آتا ہے ۔ بوسیدہ فرنیچر ،فائلوں کا انبار اور بے زار چہرے کے حامل کرخت تھانیدار کا تصور پاکستان ہی نہیں بلکہ بھارت میں بھی پایا جاتا ہے ۔ ڈراموں سے لے کر فلموں تک تھانیدار کا یہی روپ دکھایا جاتا ہے ۔ ہماری انڈسٹری سے لے کر ادب تک میں تھانیدار کا کردار بہت بھیانک دکھایا گیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا تھانیدار کا کردار ایسا ہی ہے یا پھر ہم نے ریٹنگ کے لئے تھانیدار کا مخصوص کردار تخلیق کر دیا ہے جس سے ہٹ کر ہم سوچنا ہی نہیں چاہتے ۔ صحافت کی اس وادی خار زار میں سفر کرتے ہوئے میری کئی پولیس افسران و اہلکاروں سے ملاقات ہوئی ہے ۔ اس میں دو رائے نہیں کہ ہمارے یہاں کرپٹ افسر و اہلکار موجود ہیں لیکن کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ ہم نے شاید ان لوگوں کے ساتھ زیادتی کی ہے جو ایمانداری کے ساتھ اپنا کام کر رہے ہیں ۔ہمارے یہاں یہی تصور پایا جاتا ہے کہ پولیس افسران کو اپنے ماتحت کا خیال نہیں ہوتا اور ان کے مسائل میں دلچسپی نہیں لیتے ۔ ہم مسجد کے باہر کھڑے کیسی اہلکار سے گفتگو کریں تو عموما وہ بھی طویل ڈیوٹی، چھٹی نہ ملنے ، کم تنخواہ اور کئی کئی برس تک ترقی نہ ملنے کا رونا روتا نظر آتا ہے ۔ یہ شکایت بھی عام ہے کہ تھانے میں ایف آئی آر درج کروانے جائیں تو عملہ فوٹو کاپی کے پیسے طلب کرتا ہے کیونکہ ان کے بقول فوٹو کاپی کے لئے بجٹ ہی نہیں ہوتا ۔

بدقسمتی سے جس پولیس نے عام شہریوں کی حفاظت کرنی ہے اسی پولیس کے بارے میں ہمارے یہاں یہی تاثر قائم ہو چکا ہے ۔ اس کی بڑی وجہ روایتی فرسودہ تھانہ کلچر اور عام پولیس اہلکار کے مسائل اور مخصوص رویہ ہے۔ گذشتہ روز شناختی کارڈ گم ہونے کی رپورٹ درج کروانے تھانے جانے کا اتفاق ہوا تو معلوم ہوا کہ روایتی تھانہ اب ’’ون ونڈو سروس‘‘ میں تبدیل ہو چکا ہے ۔ فرنٹ ڈیسک کے نام سے ایسی سروس شروع ہو چکی ہے جہاں چند لمحوں میں رپورٹ درج ہو جاتی ہے ۔ یہاں نئے نوجوان بھرتی کئے گئے ہیں ۔ سوال البتہ یہ تھا کہ کیا پرانے پولیس اہلکاروں کا مزاج اور رویہ بھی تبدیل ہو چکا ہے ؟ اگر نہیں ہوا تو یہ رویہ کیسے تبدیل ہو سکتا ہے ۔ اس رویہ کی بہتری کے لئے پہلے مسائل اور سسٹم کا ادراک ہونا ضروری ہے لہذاہمیں ملٹی نیشنل کمپنیوں اور روایتی سرکاری اداروں کا تقابل کرنا ہو گا ۔

ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنے کسٹمرز کیساتھ ملازمین کے اچھے برتاؤ اور ملازمین میں احساس ذمہ داری پیدا کرنے کے لئے ورکرز کا خاص خیال رکھتی ہیں ۔ یہ تاثر عام ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں میں ترقی کے مواقع بہت زیادہ ہوتے ہیں ۔ ہمارے یہاں سرکاری دفاتر میں عموما الٹی گنگا بہتی ہے ۔ عام سرکاری ملازم پروموشن بورڈ کے انتظار میں ہی بوڑھا ہو جاتا ہے ۔ سرکاری کاغذات میں اسے مخصوص سالانہ چھٹیوں کی اجازت ہوتی ہے لیکن افسران بالا کے نزدیک چونکہ وہ نہ تو انسان ہوتا ہے اور نہ ہی اس کی دفتر کے سوا کوئی اور ذمہ داری ہوتی ہے لہذا اکثر انہیں چھٹیاں بھی نہیں مل پاتیں ۔ محکمہ پولیس میں تو اس حوالے سے مخصوص مائنڈ سیٹ کی کہانیاں بھی عام ہیں ۔ اب صورت حال البتہ بدلتی نظر آ رہی ہے ۔ چند ماہ سے ایسی خبریں تواتر سے سامنے آ ئی ہیں جن کے مطابق موجودہ آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرانے محکمہ پولیس میں خاص طور پر چھوٹے ملازمین کے لئے زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کے لئے اہم اقدامات کئے ہیں ۔ پولیس اہلکاروں کی ویلفئر کے متعدد منصوبوں کے ساتھ ساتھ اپ گریڈیشن اور بڑی تعداد میں پروموشن کیسز حل کرنا بھی اسی سلسلے کی کڑی معلوم ہوتی ہے ۔

خاکسار ہمیشہ سے یہی کہتا رہا ہے کہ تھانہ کلچرایک رویے کا نام ہے ۔ یہ وہی رویہ ہے جو ڈراموں اور فلموں میں تھانیدار کے روپ میں دکھایا جاتا ہے ۔اس رویے کو ہم اس وقت تک تبدیل نہیں کر سکتے جب تک عام پولیس اہلکار کو خوشحال زندگی کی ضمانت اور اعتماد نہ دیں ۔ یہ وہی اعتماد ہے جو پولیس اہلکار کو یقین دلاتا ہے کہ شہری اور محکمہ اس کے ساتھ ہیں لہذا اسے کسی قسم کے دباؤ میں آنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اگلے روز خبریں شائع ہوئیں کہ آئی جی پنجاب نے حق دار پولیس اہلکاروں کی جلد از جلد پروموشن کو یقینی بنانے کے لئے احکامات دیئے تھے۔ اس سلسلے میں جو عملی کام نظر آئے ان کے پیچھے سی سی پی او لاہور امین وینس کے ساتھ ساتھ ایس ایس پی ایڈمن رانا ایاز سلیم کی خصوصی دلچسپی اور محنت قابل تعریف ہے ۔ ایس ایس پی ایڈمن رانا ایاز سلیم کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے دو ماہ میں پروموشن بورڈ کے چار اجلاسوں کا بروقت انعقاد یقینی بنایا جس کی وجہ سے گذشتہ دو ماہ میں لاہور پولیس کے مجموعی طور پر1483 افسر و اہلکاروں کو ترقی ملی ہے جس میں 4 سب انسپکٹر ، 194 اے ایس آئی 1285 کانسٹیبل اور ہیڈ کانسٹیبل کو ترقی ملی ۔ یہ وہ لوگ تھے جن کے پاس نہ تو کوئی سفارش تھی اور نہ ہی ان کے افسران بالا سے ایسے روابط تھے کہ اپنے کیسز جلد حل کروا پاتے لیکن اب یہ لوگ بھی ترقی پا چکے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق مزید ترقیوں کے لئے پروموشن بورڈز کے آئندہ اجلاس بھی جلد ہی متوقع ہیں ۔

ایک ایماندار پولیس اہلکار کے لئے ترقی کتنی اہم ہوتی ہے اس کا اندازہ اس کے خاندان سے زیادہ کوئی نہیں لگا سکتا ۔ مجھے لگتا ہے کہ پولیس اہلکاروں کا معیار زندگی بہتر بنانے اور حق داروں کو بروقت ترقی دینے سے ان کی ’’پبلک ڈیلنگ ‘‘ بھی بہت بہتر ہو گی ۔ مجھے جس تھانے میں اپنے شناختی کارڈ کی گمشدگی کی رپورٹ لکھوانے جانا پڑا وہاں کے عملہ میں بھی ایسے افراد موجود تھے جن کی اسی ہفتے ترقی ہوئی تھی ۔ ان کا رویہ روایتی تھانہ کلچر سے یکسر مختلف تھا ۔ چہروں پر مسکراہٹ ، گفتگو میں شائستگی اور فرنٹ ڈیسک کی جانب راہنمائی کا انداز ہماری فلم انڈسٹری کے روایتی مولا جٹ والے تھانیدار کے برعکس تھا ۔ اس لمحے احساس ہوا کہ ہمیں جرائم کے خاتمے کے لئے پولیس اہلکاروں کو وہی مان ، اعتماد اور خاندان کی خوشحالی کی ضمانت دینی ہو گی جو ہم فوج سمیت دیگر فورسز کو دیتے ہیں ۔ اگلے ہی روز جب خبر ملی کہ ایس ایس پی ایڈمن رانا ایاز سلیم نے دو ماہ میں ہی 1483 پولیس ملازمین کی ترقی یقینی بنادی ہے تو محسوس ہوا کہ ہم جس تبدیلی کا خواب دیکھ رہے ہیں وہ آیا چاہتی ہے ۔پولیس افسران چھوٹے ملازمین کا اسی طرح خیال رکھتے رہے تو پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ فلم انڈسٹری میں متعارف کرایا گیا روایتی’’ تھانیدار‘‘ بہت جلدپنجاب سے گم ہوا چاہتا ہے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -