بینظیر انکم سپورٹ فنڈ کیلئے دراصل پیسہ کہاں سے آرہا ہے؟ ایسا انکشاف منظر عام پر کہ جان کر پاکستانی حیران پریشان رہ جائیں

بینظیر انکم سپورٹ فنڈ کیلئے دراصل پیسہ کہاں سے آرہا ہے؟ ایسا انکشاف منظر عام ...
بینظیر انکم سپورٹ فنڈ کیلئے دراصل پیسہ کہاں سے آرہا ہے؟ ایسا انکشاف منظر عام پر کہ جان کر پاکستانی حیران پریشان رہ جائیں

  

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) بینظیر انکم سپورٹ فنڈ کے نام سے آپ ضرور واقف ہوں گے۔ ملک بھر میں لاکھوں غریب خاندانوں کی مالی مدد کے لئے شروع کئے گئے اس پروگرام کے تحت ہر سال اربوں روپے تقسیم کئے جاتے ہیں، یا یوں کہئیے کہ کم از کم اربوں روپے کے عطیات باہر سے وصول ضرور کئے جاتے ہیں۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ اس پروگرام کے لئے سالانہ کروڑوں پاﺅنڈ برطانیہ سے بھی آ رہے ہیں، اور یہ جان کر افسوس بھی ہو گا کہ اس بھاری رقم میں مبینہ طور پر وسیع پیمانے پر خردبرد کی جا رہی ہے، جس پر برطانیہ میں ایک ہنگامہ کھڑا ہو چکا ہے۔

ڈیلی میل اپنی رپورٹ میں کہتا ہے کہ برطانوی شہریوں کے ٹیکس کا پیسہ وصول کرنے کے لئے پاکستانی شہری قطاریں بنائے کھڑے نظر آتے ہیں، جو لفافوں میں ڈال کر انہیں بانٹا جا رہا ہے اور حکومت نے ایسے کارڈ بھی جاری کر رکھے ہیں جن کے ذریعے یہ جب چاہیں رقم نکلواسکتے ہیں، مگر یہ تمام رقم اصل حقداروں تک نہیں پہنچ رہی۔ رپورٹ کے مطابق برطانوی حکومت کو بارہا پاکستان میں جاری فراڈ اور کرپشن کے بارے میں خبردار کیا گیا، کہ کچھ رقم تو ضرورت مند لوگوں تک پہنچتی ہے لیکن بہت بڑی مقدار کرپشن کی نظر ہو رہی ہے، لیکن اس کے باوجود فنڈز کی فراہمی جاری ہے۔

سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے خلاف زہر اُگلنے والی معروف اداکارہ کو اس حرکت کا صلہ مل گیا، بے حد بڑا نقصان ہوگیا

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کو فراہم کی جانے والی امداد 2005ءمیں 53 ملین پاﺅنڈ تھی جو 2011ءسے 2015ءکے درمیان سالانہ اوسطاً 219 ملین پاﺅنڈ تک پہنچ چکی ہے، جس میں سے ایک ایسی سکیم کے لئے 30 کروڑ پاﺅنڈ (تقریباً 45ارب پاکستانی روپے) وقف کئے گئے ہیں کہ جس کے بارے میں کرپشن کے الزامات کی بھرمار ہے۔ برطانوی حکام کو بتایا گیا ہے کہ اس سکیم کے تحت دو لاکھ 35 ہزار خاندانوں کو مدد فراہم کی جارہی ہے جو ہر تین مہینے بعد رقم نکلواتے ہیں۔ سکیم کے بارے میں سامنے آنے والے الزامات کے باوجود 2020ءتک اسے 4لاکھ 41ہزار خاندانوں تک پھیلانے کی بات کی جارہی ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے پاکستان کو فراہم کی جانے والی مجموعی امداد ایک ارب پاﺅنڈ (تقریباً ڈیڑھ کھرب پاکستانی روپے) سے تجاوز کرگئی ہے۔ فراڈ اور کرپشن کے الزامات سامنے آنے کے بعد برطانوی ارکان پارلیمنٹ نے ہنگامہ برپا کردیا ہے اور امداد روکنے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نہ صرف پاکستان جیسے ممالک کو امداد بند کی جائے بلکہ برطانیہ کی جانب سے غیر ملکی امداد کے لئے وقف کیا گیا قومی آمدنی کا 0.7 فیصد کوٹہ ہی ختم کردیا جائے۔

روس نے کبھی پاکستان پر قبضہ یا اس پر کنٹرول کی کوشش نہیں کی: ایلچی پیوٹن

اپنی حکومت پر تنقید کرنے والے ارکان پارلیمان کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں معمر افراد کی دیکھ بھال کے مناسب انتظامات نہیں اور بیروزگاری کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے، لیکن برطانوی حکومت نے کرپٹ ممالک کے بدعنوان حکمرانوں کے لئے امدادی رقوم کی صورت میں خزانے کا منہ کھول رکھا ہے۔ کامنز انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کمیٹی کے رکن نائجل ایوانز نے تو یہ مطالبہ بھی کردیا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے فراہم کئے گئے ایک ارب پاﺅنڈ کی جامع تحقیقات کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عموماً اس قسم کی امداد کسی ایمرجنسی صورتحال میں دی جاتی ہے ، جب مدد کا کوئی دیگر ذریعہ دستیاب نہیں ہوتا، لیکن ہم تو مسلسل پاکستان کو یہ امداد دے رہے ہیں، جو کوئی دانشمندی کی بات نہیں ہے۔

برطانوی سیاستدان یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں امراءٹیکس نہیں دیتے اور کرپشن کی بھرمار ہے، تو ہر سال کروڑوں پاﺅنڈ کی امداد دینا دراصل کرپٹ حکام کی جیبیں گرم کرنے کے مترادف ہے۔ یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر اربوں روپے کی امداد غریب لوگوں تک نہیں پہنچ رہی تو اسے بند کیوں نہ کر دیا جائے۔

مزید :

قومی -