وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے صوبہ بھر کے کالجز اساتذہ کے تبادلوں پرپاپندی عائد کردی

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے صوبہ بھر کے کالجز اساتذہ کے تبادلوں پرپاپندی ...
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے صوبہ بھر کے کالجز اساتذہ کے تبادلوں پرپاپندی عائد کردی

  

پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے صوبہ بھر کے کالجوں کے اساتذہ اور ڈاکٹروں کے تبادلوں پرپاپندی عائد کر دی ہے ۔

وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں دو مختلف اجلاسوں کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سی پیک گیم چینجر منصوبہ ہے اور اسکے ذریعے ہم ترقی کے نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں اس لئے اس سے بھرپور استفادے کے لئے تیاری لازمی ہے۔ انہوں نے سی پیک کے تناظر میں تعلیم کے شعبے میں خامیوں کو دور کرکے نوجوانوں کو صوبے کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرنے کے لئے تیار کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک ہماری صلاحیتوں کی آزمائش ہے کہ ہم اس سے کس طرح فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دورہ چین کے موقع پر مختلف یونیورسٹیوں کے ساتھ طلباء کے تبادلے ، تربیت اور چینی زبان سیکھنے کے لئے مفاہمت کی یاداشتوں پر دستخط کئے گئے ہیں۔ انہوں نے صوبے میں صنعتوں اور سی پیک کے منصوبوں کے لئے درکار ہنرمند افراد تیار کرنے کی بھی ہدایت کی۔

انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ سیکرٹری پی اینڈ ڈی سی پیک کی سرگرمیوں کے نگران ہونگے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سال مارچ میں بیجنگ میں سی پیک کی تیاریوں کے بارے میں بھرپور نمائش کی جائے گی۔ صوبہ بھر کے کالجوں میں بی ایس کلاسوں کے اجراء کے لئے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے اس سلسلے موثر منصوبہ بندی کرنیکی ہدایت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ 38کالجوں میں اس سال جون کے آخر تک جبکہ بقیہ کالجوں میں دو مرحلوں میں بی ایس کلاسیں شروع کی جائیں گی۔انہوں نے بی ایس کلاسوں کو مؤثر انداز میں پڑھانے کے لئے اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کی ہدایت کی۔ اسی طرح انہوں نے مارکیٹ سے باصلاحیت اساتذہ بھرتی کرنے کے لئے طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت کی۔وزیر اعلیٰ نے اجلاس کو بتایا کہ صوبے کے کالجوں کو خود مختاری دی جائے گی تاکہ وہ خود اپنے فیصلے کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ مستقبل میں کالجوں کی بنیاد پر اساتذہ بھرتی کئے جائیں گے اور انکی ترقی انکی کارکردگی سے منسلک ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں اساتذہ کے تبادلے نہیں ہونگے جبکہ معمول کے تبادلے گرمیوں کی چھٹیوں میں ہی ہونگے۔ اسی طرح صحت کے بارے میں اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے ہسپتالوں کے لئے آلات وغیرہ کی خریداری کے لئے خاطر خواہ فنڈمہیا کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے ہسپتالوں میں مرمتی کام چار ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دیا۔ وزیر اعلیٰ نے اجلاس کو بتایا کہ صحت کے اداروں کو خود مختاری دینے کے بعد صحت کے شعبے میں تبادلوں پر پابندی لگائی جائے گی۔ انہوں نے ہسپتالوں کے بارے میں شکایات کے ازالے کے لئے مانیٹرنگ ٹیمیں بنانے کا حکم دیا۔ وزیر اعلیٰ نے صحت کی سہولیات تک رسائی آسان بنانے کی ہدایت کی ۔ انہوں نے خبر دار کیا کہ غیر مؤثر کارکردگی کی صورت میں مانیٹرنگ ٹیمیں کے خلاف تادیبی کاروائی کی جائے گی۔ انہوں نے ہیلتھ انشورنس کارڈ سرکاری ملازمین تک وسیع کرنے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے قانون اور ضوابط کو عوامی فلاح کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے کی ہدایت کی تاکہ عوامی توقعات کو پورا کیا جا سکے۔

مزید :

پشاور -