اپنا گریبان جھانکئے

اپنا گریبان جھانکئے
اپنا گریبان جھانکئے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

میں سیاست میں نہیں، مگر میرے خیال میں سیاست ایک عبادت کی طرح ہے اور جو لوگ سیاست میں ہیں، وہ اسے عبادت کم تجارت زیادہ سمجھتے ہیں۔سیاست کو عبادت سمجھ کر ملک وقوم کی خدمت کی جائے تو یقیناًخدمت عبادت میں بدل سکتی ہے۔ مگر ایسا کچھ ہوتا نظر نہیں آ رہا، کیونکہ ہر کوئی اپنے اپنے مفادات کے لئے کام کر رہا ہے۔

کوئی کسی کے ساتھ انصاف نہیں کر رہا، کوئی کسی سے مخلص نہیں، ہر کوئی اپنی بات منوانا چاہتا ہے کوئی کسی کی صدا نہیں سننے والا، سب اپنا اپنا پیٹ بھر رہے ہیں،ان کو کسی مقام تک پہنچانے والے عوام پریشانیوں میں زندگی گزار رہے ہیں اور یہ خود شہنشاہوں کی زندگی۔

اور بات کرتے ہیں نیا پاکستان بنانے کی۔ قائداعظمؒ اور اقبالؒ کی بدولت ہمیں پاکستان ملا آج ہم ویسا پاکستان بنانے میں کامیاب ہوئے؟ نہیں۔ ہم نے تو اسے بنانے کی بجائے اس کے ٹکرے کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

عمران خان تحریک انصاف کے چیئرمین ہیں، جنہوں نے نمل کالج کی تقریب کے دوران اپنے خطاب میں کہا کہ ’’لکیریں ڈالنے سے گدھا زیبرا نہیں بن جاتا‘‘۔


’’مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہا یہ بات عمران نے اپنے لئے کہی ہے یا کسی اورکے لئے‘‘ یا عمران کا جن لوگوں کی طرف اشارہ ہے وہ اپنے دور کے زیبرا رہ چکے ہیں۔ لہٰذا اگر یہ ہاتھ پاؤں مارنے والوں کے لئے کہا گیا ہے تو وہ عمران کئی سالوں سے مار رہے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’جو ہار نہیں مانتا اسے کوئی ہرا نہیں سکتا‘‘ جس نے ہارنا ہو وہ ہار کر ہی رہتا ہے، انسان کوشش ضرور کر سکتا ہے، مگر دعویٰ نہیں۔عمران خان کی جہاں قسمت ساتھ دینے لگتی ہے اس بات کا یہ دعویٰ ’’کھڑکا‘‘ دیتے ہیں۔

عمران خان کی سیاست میں کسی کے اشاروں کا عمل دخل زیادہ نظر آتا ہے۔ان کے کان میں سرگوشی کر کے بات پہنچانے کا رنگ زیادہ گہرا ہے اور یہ چیز کئی بار ان کے یو ٹرن سے ثابت بھی ہو چکی ہے۔


ہماری سیاست کی بدقسمتی ہی شروع دن سے یہی رہی ہے کہ جو بھی سیاستدان کوئی بڑی بات کرتا ہے، وہ اس کے مطابق پانچ فیصد بھی پورا نہیں اترتا اور جس پر عوام بہت زیادہ اعتبار کر لیتے ہیں۔ وہ عوام کی صورت حال دیکھ کر اپنے دعووں کو مزید بڑھا چڑھا کر سامنے لاتا ہے اور بعد میں جب کچھ کرنے کا وقت آتا ہے تو وہی سابقہ سیاسی روایت کے مطابق اپنی مجبوریاں ظاہر کرنا شروع کر دیتا ہے اور اگر زیادہ اپنی بات میں پھنس جائے تو سابقہ حکومت کا کیا دھرا کہہ کر اپنی جان چھڑانے کی کوششوں میں لگ جاتا ہے۔

یہی بات اب نیا پاکستان بنانے والوں میں بھی بالکل نمایاں نظر آ رہی ہے اور ابھی تو ایسے لوگ حکومت میں بھی پوری طرح نہیں، اگر یہ بھی یہاں آ جائیں تو ہمارا اور ہمارے ملک کا جو حال ہو وہ سب دیکھیں گے کہ بد سے بدترین ہوتا دکھائی دے گا،کیونکہ جو لوگ ابھی کسی پاور میں نہیں وہ بھی داؤ لگانے سے باز نہیں آ رہے ۔بڑے بڑے دعوے بھی کرتے ہیں، اپنی کہی ہوئی باتوں سے ہر دوسرے لمحے مکر بھی جاتے ہیں ۔


ہم دیکھ رہے ہیں بلکہ صاف صاف دکھائی دے رہا ہے کہ یہاں اپنے آپ کو بہت اچھا کہنے والا یا اپنے آپ کو اس ملک کی سیاست کے قابل کہنے والا بھی کسی کی کسی بھی اچھی بات کو قبول کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتا ۔ہر کوئی ایسا ہی دکھائی دے رہا ہے، جیسے وہ یہ کہہ رہا ہو میں ہی ہوں، جس کی آپ کو تلاش ہے مل کر چلنے کا رجحان تو خیر کسی میں موجود نہیں اتنا بھی نہیں یہ سوچتے کہ کم سے کم کسی کے اچھے کام کو تسلیم تو کیا جائے ۔

ہماری سیاست میں تحمل ، برداشت ، صبر اور ایک دوسرے کے لئے مثبت نرم گوشہ کہیں دکھائی نہیں دیتا، جس کی وجہ سے وہ لوگ فائدہ اُٹھا رہے ہیں، جو لوگ ان سب کو بھی پسند نہیں یہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے اپنے نا پسندیدہ لوگوں کو بھی ان کا کھیل کھیلنے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔

ویسے ہونا تو یہ چاہیے کہ اگر کسی نے کسی لئے کوئی بات کرنا ہے تو وہ پہلے اپنا قبلہ درست کرے اور اپنی قابلیت کے جوہر دکھائے اسے جہاں موقع ملا ہے وہاں ایک مثالی صورت حال کو قائم کر کے پھر دوسرے کو بات کرے۔اپنا آپ تو کوئی درست کرنے کے حق میں ہے ہی نہیں۔


خامیاں تو سب میں ہوتی ہیں، مگر جو کوئی خامیاں کسی دوسرے میں ہیں وہی خامیاں اس میں کیوں ہیں جو وہ دوسرے کی نوٹ کروا رہا ہے۔کیا دوسروں پر تنقید کرنا ہی اچھائی کی علامت ہے کیا اپنے گریبان میں جھانک کر بات کرنا درست نہیں ؟

ہمیں چاہیے کہ ہم پہلے اپنے آپ کو اس قابل کریں کہ جب ہم بولیں تو دوسرا کوئی ہم پر انگلی نہ اُٹھائے اگر ہم خود کو بھی درست نہیں کر رہے اور دوسروں کے بارے میں شور مچائے جا رہے ہیں تو ہم صاف گنہگار نظر آئیں گے اور یہی چیز اب تک ہمارے ملک میں سیاست کو نقصان پہنچاتی آ رہی ہے۔

نیا پاکستان بنانے والوں کے سربراہ کا تو ابھی پتہ چلنا ہے کہ وہ کہا ں کھڑا ہے، مگر اس کے ارد گرد جو گندی مچھلیاں ہیں وہ کیا ہے ؟تالاب کو گندا کرنے کے لئے ایک ہی گندی مچھلی بہت ہوتی ہے ،مگر جہاں ڈھیر لگا ہو وہاں کا کیا بنے گا ،مگر جن کو کوئی فرق نہیں پڑتا اب ان کو کیا کہیں ؟

مزید :

رائے -کالم -