امریکی دھمکیاں۔۔۔ پاکستانی قیادت کی بصیرت کا امتحان

امریکی دھمکیاں۔۔۔ پاکستانی قیادت کی بصیرت کا امتحان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو نئے سال کا ’’تحفہ‘‘ ایک انتہائی تکلیف دہ اور سخت بیان کی صورت میں دیا ہے، انہوں نے سالِ نو کے اپنے پہلے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ امریکہ نے گزشتہ پندرہ سال میں پاکستان کو 33 ارب ڈالر کی امداد دے کر حماقت کا مظاہرہ کیا اور اس کے بدلے میں اس نے جھوٹ اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں دیا، پاکستان شاید یہ سمجھتا ہے کہ امریکی لیڈر بے وقوف ہیں، صدر ٹرمپ نے مزید الزام لگایا کہ پاکستان دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہ دیتا ہے، جنہیں ہم افغانستان میں تلاش کرتے رہے اور انہیں ڈھونڈنے میں کامیاب نہیں ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کو اب مزید کوئی امداد نہیں دی جائیگی، اسے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنا پڑے گی۔

دیکھا جائے تو صدر ٹرمپ نے اپنے سالِ نو کے پہلے ٹویٹ میں جو کچھ کہا ہے وہ انہی باتوں کا اعادہ ہے جو انہوں نے اگست میں جنوبی ایشیا کے متعلق امریکہ کی نئی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کی تھیں، اور اس کے بعد امریکی نائب صدر، وزیر خارجہ، وزیر دفاع اور دوسرے چھوٹے بڑے اہل کار اس سے ملتی جلتی باتیں کرتے رہے جن وفود نے پاکستان کے دورے کئے اور وزیراعظم اور آرمی چیف کے ساتھ ملاقاتیں کیں انہوں نے بھی انہی باتوں کو دہرایا تھا، جواب میں پاکستان نے بھی اپنا موقف اچھی طرح واضح کردیا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی گئی ہے، اور پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے اپنی بساط سے بڑھ کر کارروائی کردی ہے، پاکستان کے مطابق دہشت گردوں کا پاکستان میں کوئی ٹھکانہ نہیں اگر امریکہ کے پاس ایسی کوئی اطلاعات ہیں تو وہ پاکستان کو دی جائیں، اگر ان اطلاعات کی بنیاد پر کسی جگہ کوئی دہشت گرد تلاش کئے جاسکے تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ بظاہر لگتا ہے کہ امریکہ اس جواب سے مطمئن نہیں ہوا، اور مزید کارروائی پر اصرار کرتا رہا، چند روز پہلے امریکی نائب صدر مائیک پنس نے افغانستان میں امریکی اڈے بگرام میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ نے پاکستان کو نوٹس پر رکھ لیا ہے اس پورے پس منظر میں دیکھا جائے تو صدر ٹرمپ نے اپنے تازہ ٹویٹ میں کوئی اضافہ نہیں کیا، جہاں تک امداد بند کرنے کا تعلق ہے یہ اگر وہ نہ بھی کہتے تو اگست ہی میں واضح ہوگیا تھا کیونکہ دونوں ملکوں کے تعلقات جس نہج پر جاچکے ہیں اس میں امداد وغیرہ کی تو ویسے ہی کوئی گنجائش نہیں رہی۔

اپنے ٹویٹ میں صدر امریکہ نے امداد کے جو اعداد و شمار دیئے ہیں یعنی 15 برس میں 33 ارب ڈالر امداد دی گئی اس کو پاکستانی حکام ذرا مختلف انداز سے دیکھتے ہیں، کیونکہ امریکی صدر جسے امداد کہہ رہے ہیں وہ ساری امداد نہیں ہے سروسز کا صلہ بھی ہے، جو پاکستان نے امریکہ کو مختلف شعبوں میں فراہم کیں، جس کی ایک ایک پائی کا پاکستان حساب دینے کے لئے تیار ہے، صدر ٹرمپ نے یہ رقم بھی امداد میں شامل کرلی، اس رقم کو صرف پاکستان ہی نہیں امریکہ میں بھی چیلنج کیا جارہا ہے، اور ایک امریکی ادارے کانگریشنل ریسرچ سروس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2002ء سے اب تک امریکہ نے پاکستان کو 19 ارب ڈالر امداد دی، صدر ٹرمپ نے اپنے دعویٰ میں وہ رقم بھی شامل کردی جو دہشت گردی کے خلاف جنگی اخراجات ہیں اور یہ رقم 14 ارب 50 کروڑ ڈالر ہے، یاد رہے کہ ان پندرہ برسوں میں پاکستانی معیشت کو جو 123 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا وہ بھی امریکہ کے ساتھ تعاون ہی کے رد عمل میں اٹھانا پڑا، لیکن امریکہ کو نہ پاکستان کی قربانیاں یاد ہیں اور نہ ہی معیشت کا یہ نقصان، اگر یاد رہے تو 33 ارب ڈالر کے اعداد و شمار۔

اب اس امر میں تو کوئی شبہ نہیں رہ گیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شمولیت سراسر گھاٹے کا سودا تھا اور پاکستان میں جن رہنماؤں نے یہ فیصلہ کیا تھا اور اس پر فخر بھی کرتے پائے گئے ان کی سیاسی بصیرت کو کوئی داد نہیں دی جاسکتی۔ انہوں نے پاکستان کو ایک ایسی دلدل میں پھنسا دیا جس سے نکلنا اب مشکل ہورہا ہے، پاکستانی معیشت کو تو جو نقصان ہوا سو ہوا، بلکہ اب تک ہورہا ہے جو جانی نقصان پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے افسروں، جوانوں اور عوام الناس کا ہوا ،کیااس کا کوئی متبادل ہے؟ ڈونلڈ ٹرمپ تو جب سے آئے ہیں انہوں نے کسی نہ کسی طرح پاکستان کو ٹارگٹ کیا ہوا ہے اور مقصد بظاہر یہی ہے کہ پاکستان کو مزید کارروائیوں پر مجبور کیا جائے جس سے وہ پہلے ہی انکار کرچکا ہے، اپنی اگست والی پالیسی تقریر میں بھی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر پاکستان مزید کارروائی کرتا ہے تو اسے بہت کچھ حاصل ہوگا اور اگر نہیں کرتا تو اسے نقصان ہوگا لیکن پاکستان اب کی بار وہ پاکستان ثابت نہیں ہورہا جس کے کمانڈو صدر پرویز مشرف نے امریکی نائب وزیر خارجہ کی ایک ہی کال پر امریکہ کے ساتوں مطالبات مان لئے تھے اور خود امریکی بھی اس پر حیران رہ گئے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اگر پاکستان تین مطالبات بھی مان لیتا ہے تو اچھا ہے باقی کو درگذر بھی کیا جاسکتا تھا لیکن ہمارے فیصلہ سازوں نے سارے مطالبات مان کر اس پر بھی اترانا شروع کردیا تھا۔

اب امریکی صدر کو ذرا مختلف قیادت سے واسطہ پڑا ہے تو ان کا موڈ آف ہوگیا ہے۔ رہی سہی کسر افغانستان میں ان ہزیمتوں نے پوری کردی ہے جو امریکی فوج کو مسلسل حاصل ہورہی ہیں۔ سولہ سالہ جنگ کا نتیجہ اگر امریکی خواہش کے مطابق نہیں نکلتا تو تصور کیا جاسکتا ہے کہ صدر ٹرمپ کا رد عمل اس سے مختلف کیوں کر ہوسکتا ہے، جس کا اظہار وہ کررہے ہیں۔ ماضی کے امریکی صدور کلنٹن اور اوباما پاکستان کے کردار کو سراہتے رہے ہیں، اور سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے تو کھل کر اعتراف کیا تھا کہ افغانستان سے روسی فوج کی واپسی کے بعد پاکستان کو تنہا چھوڑ کر امریکہ نے غلطی کی تھی۔ پنٹا گون بھی پاکستان کی قربانیوں کا معترف رہا ہے عین ممکن ہے اس وقت بھی پنٹاگون کے ان افسروں کی رائے مختلف ہو جو افغانستان کے حالات سے پوری طرح باخبر ہیں بہرحال اب پاکستانی قیادت کی بصیرت کا امتحان ہے کہ وہ اپنے موقف پر قائم رہ کر کس طرح امریکی صدر کی دھمکیوں کا مقابلہ کرتی ہے، کیونکہ نہ صرف امریکی امداد بند ہوگی بلکہ بہت سے عالمی ادارے بھی صدر ٹرمپ کی تازہ پالیسی کی روشنی میں ایسے اقدامات کرسکتے ہیں جن کا مقصد پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کرنا ہو، امریکہ کی جانب سے قبائلی علاقوں میں محدود کارروائیوں یا ڈرون حملوں کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔

مزید : رائے /اداریہ