غیر معیاری مُضر صحت رنگوں کے استعمال پر پابندی

غیر معیاری مُضر صحت رنگوں کے استعمال پر پابندی

یہ خبر حوصلہ افزا ہے کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے خصوصی تحقیق کے بعد دالوں اور کھانے پینے والی اُن اشیا کی فروخت پر پابندی عائد کرنے فیصلہ کیا ہے، جو معدے، گلے اور دیگر بیماریوں کا باعث بنتی ہیں۔ خصوصی تحقیق کے لئے سائنٹیفک پینل کو ٹاسک دیا گیا تھا۔ تفصیلی تحقیق کے بعد جو رپورٹ تیار ہوئی، اس میں بتایا گیا ہے کہ نان فوڈ گریڈکلرز کے استعمال کی وجہ سے لوگوں میں معدے کے السر، گلے کی خطرناک بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں،لہٰذا کھانے پینے کی اشیا میں ان کا استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ رپورٹ میں نقصان دہ رنگوں کے استعمال پر پابندی لگانے کی سفارش کی گئی، جسے پنجاب فوڈ اتھارٹی نے منظور کر لیا۔ ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی نور الامین مینگل نے واضح کیا ہے کہ نان فوڈ کلر کے استعمال ہونے پر کھانے پینے کی اشیا اٹھا لی جائیں گی اور ایکشن بھی لیا جائے گا۔ انہوں نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ مضر صحت اور غیر معیاری رنگوں والی اشیا کا استعمال ترک کر دیں۔ بنیادی طور پر یہ فیصلہ صحت عامہ پر مرتب ہونے والے نقصان دہ اثرات کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ یہ شکایت پچھلی کئی دہائیوں سے سننے میں آرہی ہے کہ کھانے پینے کی اشیا میں جو رنگ شامل کئے جاتے ہیں، وہ لیبارٹریوں کے طے شدہ معیار کے مطابق نہیں ہوتے ہیں، ایسے رنگ استعمال کرنے والی فیکٹریوں سے لے کر عام دکانداروں تک سبھی سستے داموں دستیاب رنگوں کی خریداری کرتے ہیں۔ طبی ماہرین اور ریسرچ لیبارٹریوں کی سفارشات کے مطابق غیر معیاری رنگوں میں سے بعض رنگ انسانی صحت کے لئے انتہائی مُضرہوتے ہیں۔ عموماً ایسے رنگ دالوں، نمکو، مشروبات اور مٹھائیوں وغیرہ میں استعمال کئے جاتے ہیں۔ بچوں کے کھانے والی سویٹس ٹافیوں دالوں،بسکٹوں کی کریموں، لولی آئس کریم، برف کے گولے اور دیگر اشیا میں بھی کسی روک ٹوک کے بغیر یہ نقصان دہ رنگ استعمال کئے جاتے ہیں، اس وجہ سے گلے اور معدے کے انفیکشن، آنکھوں، زبان، مسوڑھوں کی خرابی اور دیگر بیماریوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

یہ امراض بڑی عمر کے لوگوں کے ساتھ ساتھ بچوں میں بھی پھیل رہے ہیں۔ اسی لئے ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کے کلینکس میں مریض بڑی تعداد میں دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے مریضوں کا علاج تو ہوتا ہے لیکن غیر معیاری نقصان دہ رنگوں کے استعمال والی کھانے اور پینے کی اشیا انسانی خوراک کا حصہ بنے رہنے کی وجہ سے متاثرہ لوگوں کی بیماریوں کا خاتمہ نہیں ہوتا ہے۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے ناقص اور غیر معیاری رنگوں سے انسانی صحت کو پہنچنے والی رپورٹ تیار کر وا کر بہت اچھا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بھی غنیمت ہے کہ ناقص، غیر معیاری رنگوں کے کھانے پینے کی اشیا کے استعمال پر پابندی لگا دی گئی ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس پر سختی سے عمل کیا جائے، یہ بہت پرانا اور سنگین مسئلہ ہے۔ بچوں اور بڑوں کی صحت کے یکساں مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ اس کے لئے آگہی مہم چلائی جائے تو بہت اچھا ہوگا۔ فیکٹریوں اور دکانوں کے ساتھ ساتھ ہر اس مقام پر چیکنگ کا سلسلہ شروع کرنا چاہیے ، جہاں رنگوں والی اشیا فروخت ہوتی ہیں۔ مضر صحت رنگوں کو استعمال کرنے پر قید اور جرمانے کی سزا کے قانون میں سختی کی ضرورت ہے اور ایسا موثر سسٹم ہونا چاہیے کہ رفتہ رفتہ صرف معیاری رنگ ہی کھانے پینے کی اشیا میں استعمال کئے جائیں۔ جن فیکٹریوں اور دکانوں میں غیر معیاری اور مُضر صحت رنگ استعمال کئے جارہے ہیں، اُن کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔ انسانی صحت سے کھیلنے والوں سے کوئی رعائت نہیں ہونی چاہیے۔

مزید : رائے /اداریہ