تفہیمِ اقبال: تنہائی اور اقبال

تفہیمِ اقبال: تنہائی اور اقبال
 تفہیمِ اقبال: تنہائی اور اقبال

  

کلام اقبال میں ’’تنہائی‘‘ کے موضوع پر دو نظمیں ملتی ہیں۔ ایک اردو میں اور دوسری فارسی ہیں۔۔۔ اردو کی نظم قیامِ یورپ کے دوران (1905ء تا 1908ء) لکھی گئی۔

یہ بانگ درا کے حصہ ء دوم میں ہے اور اس کے پانچ اشعار ہیں۔ نہائت سادہ اور آسان الفاظ استعمال کے گئے ہیں لیکن جو بات کہنا چاہتے ہیں، وہ آسان اور سادہ نہیں۔ تنہائی کا عالم کاٹنا بقولِ غالب ’’جوئے شیر‘‘ لانا ہے۔ تنہائی کی سخت جانی، گویا جگرکھودنے اور اس پر کھرپے چلانے کے برابر ہے۔ (فارسی میں ’’کاویدن‘‘ مصدر کا مفہوم یہی ہے۔)

اقبال نے یورپ میں جا کر یہ محسوس کیا کہ وہ تنہا نہیں رہے بلکہ اب ان کے ہمراہ اور لوگ بھی ہیں۔انہوں نے قیامِ یورپ کے دوران جو نظم لکھ کر سر شیخ عبدالقادر کو بھیجی تھی، اس کا پہلا شعر یہ تھا:

اٹھ کہ ظلمت ہوئی پیدا افقِ خاور پر

دہر میں شعلہ نوائی سے اجالا کر دیں

اس نظم کا پس منظر یہ ہے کہ اقبال اس عالم تنہائی سے باہر آ رہے تھے جسے انہوں نے ہوش سنبھالنے سے لے کر یورپ جانے تک کے زمانے میں محسوس کیا تھا۔ تاریخِ اسلام کے گہرے مطالعے سے ان پر منکشف ہوا تھا کہ مسلمان کیا تھے اور کیا ہو گئے۔

وہ تنہا اسی خیال کی آگ میں جلتے رہے۔ اور جب یورپ گئے تو یہ احساسِ محرومی اور زیادہ شدت اختیار کر گیا۔ وہ اس غم کا مداوا ڈھونڈتے رہے اور آخر شاعری کا سہارا لیا۔ اور اسی دوران ان کو شیخ عبدالقادر کی رفاقت میسر آئی۔

اوپر جس مختصر نظم کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اس کا پہلا شعر ہے:

تنہائی شب میں ہے حزیں کیا

انجم نہیں ترے ہم نشیں کیا؟

رات کو تنہائی زیادہ ستاتی ہے۔ اکیلے پن اور خاموشی کا احساس انسان کو زیادہ متاثر کرنے لگتا ہے۔ لیکن اقبال خود کو مخاطب کرکے کہتے ہیں، رات کی اس تنہائی میں غمگین کیوں ہوتے ہو؟ کیا ستاروں کے لشکر تمہارے ساتھ نہیں؟

اور پھر جب 1908ء میں اقبال یورپ سے واپس لوٹتے ہیں تو ایک اور طرح کی تنہائی ان کو دامنگیر ہو جاتی ہے۔ اس تنہائی کو اب اقبال اپنے لئے ایک نعمت سمجھنے لگتے ہیں۔

ان کو خیال آتا ہے کہ خارج میں ہر شے تنہا ہے، اکیلی ہے! لیکن پھر بھی چپ چاپ اپنا کام کئے جا رہی ہے۔۔۔ یہ گویا اقبال کے لئے فطرت کا ایک پیغام تھا کہ وہ بھی مظاہر فطرت کو ماننددنیاو مافہیا سے بے نیاز ہو کر اپنے کام میں مگن رہیں۔

اپنی اس کیفیت کو اقبال نے ایک فارسی نظم میں بیان کیا ہے اور یہ نظم اتنی پُرتاثیر اور دل میں کھب جانے والی ہے کہ جسے دنیا بھر کی زبانوں کے ادب عالیہ میں ایک ارفع ترین مقام دیا جا سکتا ہے۔

یہ نظم وہ مخمس ہے۔ اور اس کا عنوان ’’تنہائی‘‘ ہے۔ مخمس پانچ مصرعوں والی نظم کو کہا جاتا ہے۔ اس نظم کے چار بند (Stanzas)ہیں اور یہ آج سے تقریباً ایک سو سال پہلے ’’پیام مشرق‘‘ میں شائع ہوئی جس کا پہلا ایڈیشن 1923ء میں طبع ہوا تھا۔ جو قارئین فارسی کا زیادہ ذوق نہیں رکھتے لیکن موزونئ طبع اور شعری ذوق سے بہرہ ور ہیں وہ نہ صرف اس نظم کی قرات سے لطف اندوز ہوں گے بلکہ نظم کے مفہوم و معانی کی بلاغت کو بھی نگاہ میں رکھیں گے۔

اس نظم کی Settings عجیب ہے۔۔۔۔ اقبال اپنے کلام کی مشکلات سے بے خبر نہیں۔ ان کو معلوم ہے کہ ان کے مباحث و موضوعات بھی آسان نہیں۔ ان کو سمجھنا اور پھر ان سے سبق اندوز ہونا خاصا مشکل مرحلہ ہے۔ چنانچہ وہ بالعموم خاموش رہتے ہیں۔

یہ خاموشی ان کو تنہا بھی کر دیتی ہے۔ اسی کیفیت میں وہ اپنے اکیلے پن سے گھبرا کر مظاہرِ فطرت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔۔۔ پہلے سمندر کی طرف رخ کرتے ہیں، پھر پہاڑ کی جانب جاتے ہیں، پھر آسمان پر نظر ڈال کر چاند سے سوال کرتے ہیں کہ ان سب کی پُراسرار خاموشی اور بے تابی کا اصل سبب کیا ہے۔

سمندر، پہاڑ اور چاند جب اقبال کا سوال سنتے ہیں تو کچھ نہیں کہتے، کوئی تبصرہ نہیں کرتے اور کوئی جواب نہیں دیتے۔ آخر اقبال خدا کے حضور حاضر ہوتے ہیں تو خدا کا جواب بھی ’’خاموشی‘‘ ہے۔۔۔ یعنی اقبال کہنا یہ چاہتے ہیں کہ نہ صرف انسان، بلکہ فطرت کی ہر شے حتیٰ کہ خود خدا بھی تنہائی پسند ہے۔۔۔

اب ذرا اس نظم میں اقبال کے مکالمے سنیئے اور ان کے زورِ کلام کی داد دیجئے۔۔۔ پہلا بند یہ ہے:

تنہائی

بہ بحر رفتم و گفتم بہ موجِ بیتابے

ہمیشہ درطلب استی چہ مشکلے داری؟

ہزار لولوے لالاست در گِریبانت

درونِ سینہ چومن گوہر دلے داری؟

تپید و از لبِ ساحل رمید وہیچ نگفت

[تشریح: سب سے پہلے میں سمندر کی طرف گیا تو دیکھا کہ اس کی موجیں آپس میں گتھم گتھا ہو رہی ہیں اور بھاگتی چلی جا رہی ہیں۔ میں نے ایک بے قرار موج سے پوچھا: ’’تم ہمیشہ کس چیز کی طلب میں رہتی ہو؟ کیا تلاش کرتی ہو؟

کیا تکلیف ہے تمہیں ؟ تمہارے اپنے اندر ہزاروں قیمتی موتی سیپیوں میں موجود ہیں۔ لیکن یہ بتاؤ کہ ان لاتعداد موتیوں میں کوئی میرے دل جیسا لعل و گہر بھی ہے؟‘‘ ۔۔۔ موج میرا یہ سوال سن کر پیچ و تاب کھانے لگی اور ساحل سے دور بھاگ گئی۔۔۔ اور منہ سے کچھ بھی نہ کہا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بکوہ رفتم و پرسیدم ایں چہ بیدردی است

رسد بگوشِ تو آہ و فغانِ غم زدِۂ؟

اگر بہ سنگِ تو لعلے زقطرۂ خون است

یکے در آ بہ سخن با منِ ستم زدہۂ

بخود خزید و نفس درکشید وہیچ نگفت

]اس کے بعد میں سمندر سے رخصت ہو کر ایک پہاڑ پر چڑھ گیا۔ وہ بہت بلندتھا،لیکن جب میں اس کی چوٹی پر پہنچا تو اس سے سوال کیا:’’ اس بلندی پر ہوتے ہوئے کیا تمہیں کسی غمزدہ اور مظلوم کی فریاد بھی سنائی دیتی ہے یا نہیں؟ تمہاری چٹانوں میں جو زمرد اور لعل چھپے ہوئے ہیں وہ اگر خون کا کوئی منجمد قطرہ ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ تم میں خون ہے۔

اور خون زندگی بھی ہے اور تم بات بھی کر سکتے ہو۔ تو دیکھو مجھ سفر نصیب کے ساتھ کبھی دو چار باتیں ہی کر لو۔ اور میری فریاد و فغاں ہی سن لو!‘‘۔۔۔ پہاڑ نے یہ سنا تو دَڑ وَٹ گیا۔جہاں تھا وہیں کھڑا رہ گیا۔ اس کے اندر کی سانس اندر اور باہر کی باہر رہ گئی اور اس نے۔۔۔ کچھ بھی نہ کہا[

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رہِ دراز بریدم ز ماہ پرسیدم

جہاں زپرتوِ سِیماے تو سمن زارے

سفر نصیب! نصیبِ تو منزلے است کہ نیست؟

فروغِ داغِ تو از جلوۂ دلے است کہ نیست؟

سوئے ستارہ رقیبانہ دید و ہیچ نگفت

]سمندر اور پہاڑ سے مایوس ہو کر میں نے آسمان کا رخ کیا۔ بہت طویل سفر کاٹا تو چاند کا سامنا ہوا۔ میں نے چاند سے سوال کیا:’’تو ہمیشہ گردش میں رہتا ہے۔ تیری سفید دودھیا چاندنی کا عکس جب میری زمین پر پڑتا ہے تو وہ چنبیلی کے سفید پھولوں کا باغ بن جاتی ہے۔ تمام منظر سفید چادر اوڑھ لیتا ہے۔ کیا یہ سب سفید جلوے اس سیاہ داغ کی وجہ سے ہیں جو تمہارے سینے میں لگا دیکھتا ہوں؟

۔۔۔ کیا یہی داغِ دل ہے؟۔۔۔ کیا اسی داغِ دل سے میری ساری زمین نقرئی اور سفید نظر آتی ہے؟‘‘۔۔۔ چاند نے یہ سنا تو ستارے کی طرف ایک رقیبانہ نظر سے دیکھا۔۔۔ اور کچھ بھی نہ کہا[

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شدم بحضرتِ یزداں گذشتم از مہ و مہر

کہ در جہانِ تویک ذرہ آشنایم نیست

جہاں تہی زدل و مشتِ خاکِ من ہمہ دل

چمن خوش است ولے درخورِ نوایم نیست

تبسمے بہ لبِ اور رسید و ہیچ نگفت

]میں نے جب یہ دیکھا کہ چاند ستارے، آفتاب، شجر ہجر، بحر و بر خاموش ہیں اور کچھ نہیں بولتے تو آخر خدا کے حضور جا حاضر ہوا اور اس سے پوچھا: ’’اے خدا وندِ ذوالجلال! تمہاری اس بھری پُری دُنیا میں ایک ذرہ بھی ایسا نہیں جو میرا درد سمجھ سکے۔ان سارے مظاہر میں دل نام کی کوئی چیز ہی موجود نہیں اور میں ہوں کہ سراپا دل ہوں۔ تمہاری دنیا کا یہ چمن بہت خوبصورت ہو گا لیکن، میں اس میں کسی سے بات کروں؟

کس کو اپنا دُکھ بتاؤں؟ اور کون ہے جو میرا ہمراز بنے؟‘‘۔۔۔ خدا نے جب میری یہ بپتا سنی تو اس کے ہونٹوں پر بھی تبسم آشکار ہوا۔۔۔ اور اس نے بھی کچھ نہ کہا[

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قارئین گرامی ترجمہ آخر ترجمہ ہوتا ہے۔اقبال نے جو کچھ فارسی میں کہہ دیا ہے اس کا ترجمہ نہیں کیا جا سکتا،اسے صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔ہر زبان کا اپنا مزاج ہے اور اپنی اناٹومی ہے۔

اقبال کہنا یہ چاہتے ہیں کہ کائنات کا ہر ذرہ خواہ وہ پُرشور ہے خواہ خاموش، خواہ سراپا فریاد ہے، خواہ سراپا سکوت۔۔۔ وہ از سر تا پا اکیلا اور تنہا ہے۔۔۔ اور شوریدہ ہونے کے باوجود خلوت گزینی پر مجبور ہے!

خلوت کے موضوع پر اردو اور پنجابی زبان میں بھی لازوال اشعار موجود ہیں۔ پنجابی بہت ثروت مند (Rich) زبان ہے اور اس حوالے سے میرے نزدیک ارد وکے علاوہ پنجابی شاعری اور اس کا وہ حصہ جو فلمی گیتوں کی صورت میں محفوظ ہے وہ بھی اس قابل ہے کہ اس پر بھی قلم اٹھایا جائے۔ اور ہاں ’’خلوت‘‘ کے موضوع پر انگریزی زبان کے تمام بڑے بڑے شعرامثلاً شیکسپیئر، پوپ، ورڈز ورتھ، کالرج، کیٹس ، ایڈ گرایلن پو، ایملی ڈکنسن، وِل کاکس، ہاؤس مین اور لارکن وغیرہ نے جو کہہ دیا ہے وہ کسی بھی اُردو، فارسی، اور پنجابی زبان کے بڑے بڑے شعرا کی شاہکار نظموں سے کم نہیں۔ بلکہ زمانۂ طالب علمی میں کئی بار مجھے محسوس ہوتا تھا کہ انگریزی زبان کے کلاسیکل دور، عہدِ رومانیت اور دورِ جدید کے شعرا نے خلوت کے موضوع پر جو بے مثال نظمیں کہی ہیں ان میں فکرو فن اور فلسفہ و شعر کی وہی آمیزش ہے جو ہمیں مشرقی زبانوں کے عظیم شعرا کے کلام میں ملتی ہے۔۔۔

مزید : رائے /کالم