نیوزی لینڈ میں سالِ نو کا جشن، شراب نوشی کیلئے مصنوعی جزیرہ تعمیر

نیوزی لینڈ میں سالِ نو کا جشن، شراب نوشی کیلئے مصنوعی جزیرہ تعمیر

ویلنگٹن (اے این این)نیوزی لینڈ میں شہریوں کے ایک گروہ نے بظاہر عوامی مقامات پر شراب نوشی پر پابندی سے بچنے کے لیے ساحل سمندر پر ریت کا ایک جزیرہ بنا لیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز سہ پہرکو ان افراد نے جزیرہ نما کورومنڈیل میں ٹائروا کے علاقے میں کم شدت والی لہروں والی جگہ ریت کا ٹیلہ نما مصنوعی جزیرہ بنایا۔انھوں نے وہاں ایک پکنک ٹیبل اور مشروبات کے لیے برف کا ڈبہ بھی رکھا۔مقامی افراد نے مذاقاً کہا کہ وہ بین الاقوامی پانیوں میں ہیں اور یہاں شراب نوشی کی پابندی سے مبرا ہیں۔نیوزی لینڈ کی ویب سائٹ سٹف ڈاٹ کو این زیڈ کے مطابق ان افراد نے رات کے وقت نئے سال کے آغاز تک وہاں وقت گزارا اور آتش بازی بھی دیکھتے رہے۔ ۔خیال رہے کہ نیوزی لینڈ کے علاقے کورومنڈیل میں نئے سال کے جشن کے موقع پر عوامی مقامات پر شراب نوشی پر پابندی عائد ہے اور اس کی خلاف ورزی پر 180 امریکی ڈالر جرمانہ یا گرفتاری ہوسکتی ہے۔تاہم حکام کی جانب سے اس عمل کو بظاہر زندہ دلی کے طور پر دیکھا گیا۔پولیس کمانڈر انسپیکٹر جان کیلی کو جب اس ریتلے جزیرے کے بارے میں بتایا گیا تو انھوں نے کہا کہ یہ ایک تخلیقی سوچ ہے۔ اگر مجھے پہلے پتا چلتا تو میں بھی ان کے ساتھ شریک ہوسکتا تھا۔فیس بک پر ایک صارف ڈیوڈ سینڈرز نے ایک مقامی گروپ ٹائروا چٹ چیٹ پر اس کی تصویریں شیئر کی تھیں۔ڈیوڈ سینڈرز نے بی بی سی کو بتایاکہ کیویز کو اس طرح لطف اندوز ہوتے دیکھنا اچھا تھا۔ایک معروف کمیونٹی آرگنائزر نوڈی واٹس کا کہنا تھا کہ اس پابندی پر عمل درآمد نہیں کیا جارہا تھا اور اس کی وجہ سے بے جا گرفتاریاں ہورہی تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ پولیس نوجوان شراب نوشوں سے نبردآزما ہو رہی ہے۔انھوں نے نیوزی لینڈ ہیرلڈ کو بتایا کہ وہ اس کام کے لیے نہیں۔

یہ کام والدین کا ہے۔نیوزی لینڈ ہیرلڈ کے مطابق نوڈی واٹس کا کہنا تھا کہ پولیس اور سینٹ جان(فلاحی طبی ادارہ)اس کے نتائج سے مایوس ہیں اور اس میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔

مزید : عالمی منظر