اسرائیل کا غرب اردن سے حماس کا مزاحمتی سیل حراست میں لینے کا دعوی

اسرائیل کا غرب اردن سے حماس کا مزاحمتی سیل حراست میں لینے کا دعوی

مقبوضہ بیت المقدس(اے این این)اسرائیلی داخلی سلامتی کے خفیہ اداریشاباک کی جانب سے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے ایک مزحمتی سیل کو حراست میں لینے کا دعوی کیا ہے۔ فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق خفیہ اداریشاباک کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حماس کی طرف سے مزاحمتی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کیلئے خفیہ سیل تشکیل دیاتھا۔ اس خفیہ سیل سے وابستہ متعدد فلسطینی مزاحمت کاروں کو حراست میں لیا گیا ہے۔شاباک کا کہنا ہے کہ غرب اردن میں مزاحمتی کارروائیوں میں ملوث پانچ افراد کی گرفتاری کے بارے میں ذرائع ابلاغ کو آگاہ کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔اسرائیلی خفیہ ادارے کے مطابق گرفتار فلسطینی سیل غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے سابق فلسطینی اسیر عبداللہ عرار کے احکامات پر عمل درآمد کرتا رہا ہے۔ عبداللہ عرارکو سنہ 2011 میں قیدیوں کے تبادلے کے دوران رہا کیا کیا گیا تھا۔صہیونی حکام کے مطابق فلسطینی سیل کو گذشتہ برس اکتوبر میں حراست میں لیا گیا تھا۔ ان کی گرفتاری اسرائیلی پولیس، انٹیلی جنس اداروں اور خفیہ ادارے شاباک کے مشترکہ آپریشن میں عمل میں لائی گئی تاہم ان گرفتاری کے بارے میں معلومات صیغہ راز میں رکھی گئی تھیں۔

مزید : عالمی منظر