نوابزادہ نصراللہ سے طاہرالقادری تک

نوابزادہ نصراللہ سے طاہرالقادری تک
 نوابزادہ نصراللہ سے طاہرالقادری تک

  

سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ علامہ طاہرالقادری کی شکل میں پاکستان کو نوابزادہ نصراللہ کے بعد ایک نئے بابائے جمہوریت مل گئے ہیں۔ آصف علی زرداری بھی عجیب و غریب شخصیت ہیں ایک طرف وہ مفاہمت کے بادشاہ کہلوانا پسند کرتے ہیں پاکستان کی سیاست کے آئن سٹائن ہونے کے بھی دعوے دار ہیں مگر انہیں اس بات کا ابھی تک علم نہیں ہوسکا کہ جناب علامہ طاہر القادری تو ایک بار موجودہ پارلیمانی نظام کے تحت ایم این اے بنے تھے پھر کچھ ہی عرصہ بعد وہ استعفیٰ دے کر اسمبلی سے نہ صرف باہر چلے گئے بلکہ انہوں نے ایک اصولی فیصلہ کیا کہ وہ اس سسٹم کو بدلنے کی جدوجہد کرینگے اس کے بعد انہوں نے نظریاتی کارکنوں کی ایک کھیپ تیار کی اورپھرطاہر القادری نے اپنے دونوں دھرنوں میں بھی اسی نوعیت کا موقف اپنایا جس کا سیدھا سا ترجمہ یہی ہے کہ وہ موجودہ پارلیمانی نظام کو نہیں مانتے ۔بلکہ اپنی جدوجہد کے ذریعے ایک انقلاب برپا کرنا چاہتے ہیں ۔جو موجودہ نظام کی جگہ لے جو عوام کو فوری اور سستا انصاف فراہم کرے اور اہل سیاست کے موجودہ طور طریقے بھی اس میں بدل جائیں۔ طاہر القادری کی تمام تقریریں نکال کر بار بار سننے کے بعد آپ یہی نتیجہ نکالینگے کہ وہ موجودہ جمہوریت اور پارلیمانی نظام کے باغی ہیں ۔اور میں کسی حد تک ان کے اس اصولی موقف کا بھی حامی ہوں میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ اس نظام نے عوام کا استحصال زیادہ کیا ہے مگر عام آدمی کو ریلیف نہیں دیا ۔اس نظام نے لوگوں کے دکھوں کا مداوا کرنے کے بجائے ان کے دکھوں میں اضافہ کیا ہے شائد یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی 21کروڑ آبادی کی اکثریت آج بھی ووٹ نہیں ڈالتی ۔پاکستان کی موجودہ جمہوریت جو اصلی جمہوریت کی ایک بگڑی ہوئی شکل ہے آج آخری سسکیاں اس لئے لے رہی ہے ،کیونکہ اس میں عام آدمی کی شمولیت نظر نہیں آتی ۔یہ جمہوری سسٹم پاکستان کی ایلیٹ کلاس کا محافظ بن چکا ہے۔گویا اس کو یوں کہہ سکتے ہیں کہ آج کی جمہوریت ایک ایلیٹ کلب پر مشتمل ہے جو بظاہر اقلیت میں ہے مگر اکثریت پراپنے اثر و رسوخ اور وسائل کی بدولت دھڑلے سے حکومت کر رہا ہے۔اور جب آصف علی زرداری کہتے ہیں کہ ہم جمہوریت کو بچائینگے تو وہ بنیادی طور پر اپنے آپ کو اپنے خاندان کو اور اپنے قبیلے کو بچانے کی بات کر رہے ہوتے ہیں ۔اسی ایلیٹ کلاس نے اپنے آپ کا نام جمہوریت رکھ لیا ہے۔آپ پاکستان کی تایخ کے تمام انتخابات کے نتائج اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی تعداد کی اوسط35سے 40فیصد ہی ملے گی۔جسکا مطلب یہ ہے کہ 60فیصد سے زائد ووٹر آج بھی اس سسٹم کا حصہ نہیں ہیں۔اور جو 35سے40فیصدووٹر ووٹ ڈالتے ہیں ان کی کلاس کیا ہے ؟ اس پر بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔زیڈ اے بھٹو کے بعد پی ٹی آئی کے چئیرمین عمران خان کو کریڈت جاتا ہے جنہوں نے 60فیصد سسٹم سے ناراض پڑھی لکھی کلاس کو موبلائز کیا۔گھروں سے نکال کر پولیٹکل سسٹم کا حصہ بنایا ۔مگر 2013ء کے انتخابات کے نتائج اور کچھ دیگر وجوہات کی بنا پر اس کلاس کی اکثریت ایک بار پھر جس تیزی کے ساتھ گھروں سے نکل کر آئی تھی اسی سپیڈ سے گھروں کو واپس چلی گئی۔یہ وہ کلاس ہے جسے محض جھوٹے نعروں سے متاثر نہیں کیا جا سکتا بلکہ سیاسی لیڈر شپ کو انکو کچھ کر کے دکھانا پڑے گا ورنہ بدستور موجودہ جمہوری سسٹم سے عوام کا اعتماداٹھتا چلا جائے گا۔جمہوریت کی روح ہی یہ ہے کہ یہ نظام عوام کے ذریعے طاقت پکڑتا ہے۔اور پھر عوام کی ہی خدمت میں لگ جاتا ہے۔مگر یہاں تو الٹی گنگا بہہ رہی ہے پورے نظام میں اگر کوئی چیز مسنگ ہے تو وہ عوام ہیں ۔مجھے نہیں علم کہ طاہر القادری آصف علی زرداری کی طرف سے بابا ئے جمہوریت کا خطاب ملنے کے بعد جمہوریت کی افادیت کے قائل ہوئے ہیں کہ نہیں ؟البتہ آصف علی زرداری اگر واقعی طاہر القادری کو مستقل بنیادوں پر یہ رول دینا چاہتے ہیں توانکو موجودہ جمہوری نظام کے لئے قائل کرنا ہوگا۔اور ساتھ ہی ساتھ ڈاکٹر طاہر القادری کو اس بات پر بھی قائل کرنا ہوگا کہ وہ کچھ وقت پاکستان میں بھی گزارا کریں،کیونکہ نوابزادہ نصراللہ خان کا سار اوقت پاکستان میں گزرتا تھا ۔اور جمہوریت پسندوں اور جمہوریت کو سیڑھی بنا کر اقتدار تک پہنچنے والے تمام سیاسی قائدین اور ورکرز کی آخری منزل نوابزادہ نصراللہ خان کا گھر ہی ہوتاتھا ۔ڈاکٹر طاہر القادری اور نوابزادہ نصراللہ خان میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ نوابزادہ نصراللہ خان کو آسانی سے ملنا ہر شخص کے لیے ممکن تھا مگر ڈاکٹر صاحب کا پروٹوکول اور سیکورٹی عام لوگوں کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اگر ڈاکٹر طاہر القادری نے آصف علی زرداری کی پیشکش قبول کر لی ہے تو انکو اپنے آپ کو جمہوری بنانے کے ساتھ ساتھ اپنے تک عام آدمی کی رسائی کو بھی ممکن بنانا ہوگا۔اور جمہوری سسٹم کو ٹھیک کرنے کے لیے اپنی تجاویز دینی چاہئیں۔اور پاکستان کے مسائل کے حل کے لیے ایک مربوط اور منظم جدوجہد کی ضرورت ہے اور پھر اہل سیاست کے لیے مشکل ہوگا کہ طاہرالقادری جیسے شخص جنکے موجودہ پارلیمانی نظام میں کسی قسم کے اسٹیک نہیں ہیں انکا کوئی ورکر اس سسٹم میں یونین کونسل کا کونسلر بھی نہیں ہے۔ایسے شخص کو موجودہ جمہوریت کے ٹھیکیدار کیسے برداشت کرینگے ؟مجھے آج کی جمہوریت پر ترس آتا ہے جب میں ماضی کی لیڈر شپ ،ماضی کی جمہوریت اور نوابزادہ نصراللہ خان سے طاہرالقادری تک کا سفر دیکھتاہوں تو جمہوریت کے مستقبل کا اندازہ ہو جاتا ہے ۔

مزید : رائے /کالم