جنرل ہسپتال میں "سلیپ ریسرچ سینٹر"قائم ،جدید مشین نصب کردی گئی

جنرل ہسپتال میں "سلیپ ریسرچ سینٹر"قائم ،جدید مشین نصب کردی گئی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور(جنرل رپورٹر)مریضوں کو طبی سہولیات میں اضافے کیلئے لاہور جنرل ہسپتال میں "سلیپ ریسرچ سینٹر"قائم کردیاگیا۔جس میں ایسی جدید مشین نصب کی گئی ہے جو خراٹوں کے ساتھ ساتھ سانس کی رکاوٹ کی تشخیص اور اس کے علاج معالجے کے حوالے سے آگاہی دینے کا بھی سبب بنے گی۔پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر غیاث النبی طیب نے اس اقدام پر اطمینان اور مسرت کا اظہا ر کرتے ہوئے اس کی افادیت کے بار ے میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ سینٹر ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد عرفان ملک کی نگرانی میں کام کرے گا جنہوں نے اس حوالے سے بہت محنت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ دور صرف اور صرف تحقیق سے وابستہ ہے جو اس میدان میں جتنی زیادہ محنت کرے گا وہ اتنا زیادہ ہی ثمر پائے گا ۔انہوں نے کہا کہ تحقیق کا میدان بہت وسیع ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ نیک نیتی اور لگن کے ساتھ اس میدان میں قدم رکھا جائے ،انشاء اللہ محنت ضرور رنگ لائے گی ۔پروفیسر غیاث النبی طیب نے کہا کہ سلیپ سینٹر کا قیام احسن اقدام ہے اور یہ یقیناًنہ صرف اس ہسپتال بلکہ حکومت پنجاب کیلئے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ،نجی شعبے میں یہ بہت مہنگا علاج تھا جس کا متوسط طبقہ حامل نہیں ہو سکتا تھا ،بر وقت تشخیص کے بعد اب ایل جی ایچ میں حکومتی پالیسی کے مطابق اس کا علا ج ممکن ہوگا۔اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد عرفان ملک نے بتایا کہ خراٹے اس وقت زیادہ آنے لگتے ہیں جب ہمارے گلے اور نتھنوں سے ہوا آسانی سے گزر نہیں پاتی اور یہ اردگر کے ٹشوز میں حرکت کرتی ہے اور ان کی گردش کی وجہ سے خراٹوں جیسے آواز پیدا ہوتی ہے ،انہوں نے کہا کہ ٹانسلز اور زبان کی لمبائی کے علاوہ جن کی گردن کے قریب زیادہ وزن ہو انہیں زیادہ خراٹے آتے ہیں جبکہ 10میں سے 3مرد اور2خواتین خراٹوں کا شکار ہیں جو صحت مند زندگی کی نشانی نہیں،ڈاکٹر شاہد مختار ،ڈاکٹر محمد اقبال ، ڈاکٹر محمد خالد وحید اور ڈاکٹر احسن نعمان نے بھی اپنی تحقیق کے حوالے سے اس سینٹر کے قیام پر روشنی ڈالی ۔