چند روز میں فاٹا اصلاحات کا اعلان ہوجائے گا،قادربلوچ

چند روز میں فاٹا اصلاحات کا اعلان ہوجائے گا،قادربلوچ

اسلام آبا د (آئی این پی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سیفران کووفاقی وزیر سیفران عبدالقادر بلوچ نے بتایا ہے ایک دو دن میں فاٹا ریفامز کا اعلان ہونے والا ہے،فاٹا ریفارمز میں ہماری ترجیح تھی جو چیزیں وہاں غیر فعال ہوئی تھیں ان کو کو فعال کر نا چاہیئے ، فاٹا کو ہم نے نئے سرے سے بنانا ہے ، بنیادی سہولیات کی فراہمی ہماری ترجیح ہے، کمیٹی نے عبدالقادر بلوچ کی درخواست پر رواج بل 2017کوقائمہ کمیٹی قانون میں بھجوانے کے لئے واپس اسمبلی بھجوا دیا ، کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے متعلقہ حکام نے کہا کہ فاٹا میں 2001 سے اب تک شہید ہونے والے 6112 شہدا کے لواحقین کو 3 ارب 65 کروڑ 50 لاکھ روپے ادا کیے گئے ہیں،شہدا میں 244 لیویز اور 178 خاصہ دار شامل ہیں جبکہ شہداء میں 5690 سویلین بھی شامل ہیں جن کے لواحقین کو امدادی رقوم ادا کی گئیں۔شہدا کے لواحقین کی امداد کے 54 کیس زیر التوا ہیں، کمیٹی نے ہدایت کی کہ زیر التوا معاملات کو جلد حل کرکے لواحقین کی امداد کی جائے۔منگل کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سیفران کا اجلاس چیئرمین محمد جمال الدین کی صدارت میں ہوا ۔ اجلا س میں وفاقی وزیر سیفران عبدالقادر بلوچ نے رواج بل 2017کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غلطی سے یہ بل اس کمیٹی میں آگیا ، ہم یہ بل لاء کمیٹی کو بھیجنا چاہتے ہیں ہمیں اجازت دی جائے کہا ہم اسے اس کمیٹی سے واپس لے لیں جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ہمیں یہ بل اسمبلی سے آیا ہے ہم اسے واپس اسمبلی بھیج دیتے ہیں وہ اسے پھر لاء کمیٹی کو بھجوا دیں اس مو قع پر فاٹا حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے 5545آسامیاں فنانس ڈویژن کو بھیجی تھیں جس میں سے انہوں نے 1440آسامیاں منظور کر لیں ہیں جس کے لئے وہ پیسے دیں گے، اس مو قع پر چیئرمین کمیٹی نے آسامیوں میں پرائمری سکولوں کے اساتذہ کا کو ٹہ نہ ہونے پر استفسار کیا جبکہ وزیر سیفران عبدلقادر بلوچ نے بھی ان کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ پرائمری لیول ہر جگہ میں اہمیت رکھتا ہے فاٹا ریفارمز میں ہماری ترجیح تھی جو چیزیں وہاں غیر فعال ہوئی تھیں ان کو کو فعال کر نا چاہیئے ، بنیادی چیزیں نہیں ہیں اور آپ اوپر کی چیزوں کو ترجیح دے رہے ہیں، فاٹا کو ہم نے نئے سرے سے بنانا ہے ، بنیادی سہولیات کی فراہمی ہماری ترجیح ہے ایک دو دن میں فاٹا ریفارمز کا اعلان بھی ہونے والا ہے۔ پرائمری سکول بھی ایسے ہیں جو چار پانچ سال سے بند پڑے ہیں ۔فاٹا میں ہمارے پاس کافی آسامیاں خالی ہیں ہم نے 2017کے آغاز میں وزارت سے کہا کہ ہمارے پاس آسامیاں ہیں جس پر انہوں نے بڑی مشکل سے 40آسامیوں کی اجازت دی ۔ اجازت کے بعد ہم نے امیدواروں کا امتحان کرانے کے لئے اشتہار بھی دیا ، 2آسامیاں گریڈ 17کی تھیں 38کے قریب آسامیاں گریڈ 5سے گریڈ 15کے امیدواروں کو دیں گئیں ، 38میں سے 18فاٹا سے تھے جبکہ 20خیبر پختونخوا سے تھے ٹیسکو حکام نے کہا کہ جنڈولہ کے 66کے وی کے گرڈ سٹیشن کو اپ گریڈ کر رہے ہیں جس کے لئے یو ایس ایڈ والے فنڈنگ کریں گیاس کا پی سی ون منظور ہو چکا ہے ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جو ڈاکٹر ڈیوٹی نہیں کر تا اس کی سرزنش کر نی چاہیئے وزیر سیفران عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ ڈیوٹی نہ دینے والے کے خلاف قانون کے مطابق کا روائی کر نی چاہئے ، تنخواہیں نہیں روکی جا سکتیں، محکمانہ انکوائری اور موقف سننے کے بعد کاروائی ہو نی چاہیے،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جلد متاثرہ ملازمین کو بلا کر موقف معلوم کیا جائے، قصوروار ہوئے تو کارروائی درست ہوگی، اس موقع پر کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے متعلقہ حکام نے کہا کہ فاٹا میں 2001 سے اب تک شہید ہونے والے 6112 شہدا کے لواحقین کو 3 ارب 65 کروڑ 50 لاکھ روپے ادا کیے گئے ہیں۔شہدا میں 244 لیویز اور 178 خاصہ دار شامل ہیں جبکہ شہداء میں 5690 سویلین بھی شامل ہیں جن کے لواحقین کو امدادی رقوم ادا کی گئیں۔شہدا کے لواحقین کی امداد کے 54 کیس زیر التوا ہیں۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ زیر التوا معاملات کو جلد حل کرکے لواحقین کی امداد کی جائے۔

مزید : صفحہ آخر