دہشتگردوں کی کوئی پناہ گاہ نہیں ، افغان جنگ پاکستانی سرزمین پر نہیں لڑی جائیگی : مسلم لیگ (ن)، ٹرمپ کے بیانات دنیا کے امن کیلئے خطرہ ، سرجیکل سٹرائیک کا منہ توڑ جواب دیا جائیگا :پیپلز پارٹی ، امریکی الزامات بے وقعت ، پاکستان شام یا عراق نہیں : تحریک انصاف

دہشتگردوں کی کوئی پناہ گاہ نہیں ، افغان جنگ پاکستانی سرزمین پر نہیں لڑی ...

 اسلام آباد (این این آئی،آن لائن)وفاقی وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر خان ، خواجہ آصف ،وزیر مملکت اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب اور دانیال عزیزنے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیان پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین کی حفاظت کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے ۔افغانستان کی جنگ پاکستان کی سرزمین سے نہیں لڑی جائے گی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹوئٹ پر وزیر دفاع نے ا پنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ساتھ افغانستان میں موجود القاعدہ کو شکست دینے کیلئے امریکا کی بہت زیادہ مدد کی اور پاکستان میں دہشت گردوں کی کوئی پناہ گاہیں موجود نہیں۔انہوں نے کہا کہ صورتحال یہ ہے کہ افغانستان سے دہشت گرد ہمارے فوجیوں اور شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔خرم دستگیر نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ افغانستان کی جنگ پاکستان کی سرزمین سے نہیں لڑی جائے گی۔وزیر مملکت اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ اور پی ٹی وی پر حملہ کرنے والا دہشت گرد انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہو ا‘ قوم نواز شریف کا شکریہ ادا کرتی ہے کہ عمران صاحب جیسے بھگوڑے اور اداروں کو گالیاں دینے والے کو بھی کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑا،عمران خان کا احتساب 2018میں خیبرپختونخوا کے عوام کریں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما وفاقی وزیر نجکاری دانیال عزیز نے کہا ہے کہ پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ عمران خان انوکھا لاڈلہ ہے‘انسداددہشتگردی کی دفعہ کے تحت پاکستان میں کسی کو ضمانت نہیں ملی‘عمران خان کے کیس کو غور سے دیکھ رہے ہیں‘ فیصلے کے بعد تفصیلی پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔ وہ منگل کو میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ دانیال عزیز نے کہا کہ عمران خان کہتے رہے کہ سیاسی کیس ہے اس لئے پیش نہیں ہورہا،ہم پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ عمران خان انوکھا لاڈلہ ہے۔ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ 33 ارب ڈالر امریکی امداد کے حوالے سے اپنے دعوے کا آڈٹ کرالیں امریکی صدر پاکستان کے خرچ پر امریکی آڈٹ فرم کی خدمات حاصل کرلیں دنیا کو علم ہوجائے گا کہ کون جھوٹ بول رہا ہے اور دھوکہ دے رہا ہے امریکی صدر ہمارے خرچ پر اعداد و شمار کی تصدیق کراسکتے ہیں۔ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ 33 ارب ڈالر امریکی امداد کے حوالے سے اپنے دعوے کا آڈٹ کرالیں امریکی صدر پاکستان کے خرچ پر امریکی آڈٹ فرم کی خدمات حاصل کرلیں دنیا کو علم ہوجائے گا کہ کون جھوٹ بول رہا ہے اور دھوکہ دے رہا ہے امریکی صدر ہمارے خرچ پر اعداد و شمار کی تصدیق کراسکتے ہیں۔

مسلم لیگ (ن)

لاہور،اسلام آباد(نمائندہ خصوصی، نیوز ایجنسیاں )پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ،قائد حزب اختلاف خورشید شاہ ،سابق وزیر داخلہ رحمن ملک اور سابق سفیر شیری رحمن نے نے کہاہے کہ صرف پیپلزپارٹی کوہی دہشت گردی اور امریکا سے نمٹنے کا تجربہ ہے، انتہاپسندی کاخاتمہ اس لیے نہیں کرینگے کہ ٹرمپ نے کہا بلکہ یہ ہمارے مفادمیں ہے۔تفصیلات کے مطابق بلاول بھٹوزرداری نے کہاکہ ہم انتہاپسندی کا خاتمہ کریں گے کیونکہ یہ ہمارے مفادمیں ہے، انتہاپسندی کاخاتمہ اس لیے نہیں کریں گے کہ ٹرمپ نے کہا۔صرف پیپلزپارٹی کوہی دہشتگردی اورامریکا سے نمٹنے کا تجربہ ہے، ہمارے دور میں پہلی بار انسداد دہشتگردی کا کامیاب آپریشن لاؤنچ کیاگیا، سلالہ حملے پر امریکا کے معافی مانگنے تک نیٹو سپلائی اور فضائی اڈے بند کیے۔انہوں نے کہا کہ کوئی ٹرمپ کو کولیشن سپورٹ فنڈ، خدمات کے عوض ادائیگی کا فرق سمجھائے، یو ایس ایڈ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دلوں کو جیتنے کیلئے دی جاتی ہے، خدمات کے عوض عدم ادائیگی سے مستقبل میں تعاون پر اثر پڑسکتا ہے۔قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا ہے کہ امریکہ نے سرجیکل سٹرائیک کی تو اسے منہ توڑ جواب جائیگا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان سے متعلق بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کا رویہ انتہائی افسوسناک ہے، معاملے پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانا چاہئے، یہ کسی پارٹی یا فرد کا نہیں بلکہ ملک کا مسئلہ ہے ٗ جہاں پاکستان کا مسئلہ ہو ہمیں کوئی سیاست نہیں کرنی، تمام سیاست ایک طرف ٗملک کیلئے ہم متحد ہیں۔خورشید شاہ نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ کی بہت بڑی قیمت ادا کی جس کا کوئی نعم البدل نہیں، 1979ء میں ملک کو روس کیخلاف افغان جنگ میں جھونک دیا گیا اور امریکیوں کے آگے جھک کر اسے ہر سہولت فراہم کی گئی، تب سے آج تک پاکستان امریکہ کی جنگ سے نکل نہیں سکا، 9/11 کے بعد ایک اور آمر نے امریکا کی ہاں میں ہاں ملادی جس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑا جبکہ امریکا نے پاکستان کو کولیشن فنڈ بھی پورا نہیں دیا، چالیس پینتالیس ارب ڈالر کی بجائے صرف پندرہ ارب ڈالر ملے۔اپوزیشن رہنما نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے 33 ارب ڈالر کی بات کر کے بہت چھوٹا پن دکھایا ہے، پاکستان کو امریکہ سے تعلقات کی پالیسی پر نظر ثانی کرنا ہو گی اس کے علاوہ کوئی حل نہیں، اگر سرجیکل اسٹرائیک ہوتی ہے تو منہ توڑ جواب دینا چاہئے، ہم سب کو متحد ہو کر جواب دینا ہوگا کیونکہ بٹی ہوئی قوم کا مستقبل صرف تباہی ہے۔ٹوئٹر پیغام میں سابق وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا کہ پاکستان نے امریکہ کو دھوکا نہیں دیا بلکہ امریکہ نے پاکستان کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کررکھا ہے ٗدہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہوا جس کے نتیجے میں ہمارا امن، انفرانسٹرکچر اور معیشت برباد ہوئی اور اس جنگ میں 75 ہزاروں جانوں کا نذرانہ دینا پڑا۔شیری رحمن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیان پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان کی جانب سے موثر جواب نہ ملنے پر دنیا فائدہ اٹھا رہی ہے ٗپاکستان کو متوازن موقف اپنانا چاہیے اور امریکہ کو جواب دینے کیلئے نہ زیادہ جارحانہ اور نہ ہی مدافعانہ رویہ اپنانا چاہئے۔ایک انٹرویو میں امریکہ میں پاکستان کی سابق سفیر اور پاکستان پیپلز پارٹی رہنماء شیری رحمن نے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں خلا کی موجودگی کی جانب توجہ مبذول کرواتے ہوئے کہا کہ اسی وجہ سے پاکستان کو عالمی طور پر مشکل صورت حال کا سامنا ہے۔انہوں نے کہاکہ امریکا میں مخالفین کی بھرپور لابنگ اور وزیر خارجہ کی عدم موجودگی کے باعث پاکستان نے پورے چار سال تک گراؤنڈ کو مکمل طور پر خالی چھوڑ دیا تھا۔

پیپلزپارٹی

اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں) تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی ،اعظم سواتی اور بابر اعوان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیان پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے اپنے مفاد کی خاطر آگے بڑھنا ہے، چاہے امریکی امداد ملے یا نہ ملے، ٹرمپ نے ٹویٹ کا جو رواج پیدا کیا یہ خطرناک ہوسکتا ہے۔۔ایک انٹرویومیں شاہ محمود قریشی نے کہاکہ پاکستان نے اپنے مفاد کی خاطر آگے بڑھنا ہے، چاہے امریکی امداد ملے یا نہ ملے۔ٹرمپ کے الزام کو نامناسب اور بے وقعت قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس خطے میں اور بھی قوتیں ہیں جو سمجھتی ہیں معاشی اور سلامتی استحکام کیلئے امن و استحکام ضروری ہے جس کے لیے چین، روس، ایران اور ترکی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اور یورپی قوتیں بھی ہماری قربانیوں کو سمجھتی ہیں ۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج پاکستان میں اتفاق رائے قائم ہوچکا ہے اور اس کو لے کر آگے بڑھنا ہے اور امریکی امداد کی جانب نظر نہیں رکھنی کیونکہ کل امریکا ہم سے لاتعلق ہوجائے تو کیا ہم اپنے مفادات کا سودا کریں گے؟خارجہ پالیسی کو ٹویٹ پر بیان کرنے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ماضی میں ایسا نہیں ہوتا تھا کیونکہ خارجہ پالیسی ایک سنجیدہ اور حساس معاملہ ہے جبکہ ٹویٹ سے کئی غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کا جو رواج پیدا کیا یہ خطرناک ہوسکتا ہے۔بابراعوان نے کہا ہے کہ شریف برادران عدالت کے اندر بلیاں اور باہر شیر ہیں، ان کو پہلا این آر او پرویز مشرف نے دیا، اب کسی کو کوئی این آر او نہیں ملے گا، تحریک انصاف کسی بھی قسم کے این آراو کو قبول نہیں کرے گی، چوری کا مال لندن سے واپس پاکستان آئیگا۔ اعظم سواتی نے کہا کہ پاکستان شام یا عراق نہیں ہے منہ توڑ جواب دیاجائے گا،بھارت کی مدد سے امریکہ پاکستان پر حملہ کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔اس خلا کو ضرور پر کرنا چاہیے، جسے دنیا گورننس کی کمی کے طور پر دیکھ سکتی ہے اور پاکستان کی جانب سے موثر جواب نہ ملنے پر فائدہ اٹھا رہی ہے۔انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو متوازن موقف اپنانا چاہیے اور امریکہ کو جواب دینے کے لیے نہ زیادہ جارحانہ اور نہ ہی مدافعانہ رویہ اپنانا چاہیے۔

تحریک انصاف

مزید : صفحہ اول