استعفے دینے ہیں تو ضمنی انتخابات کے جھنجھٹ میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے ؟

استعفے دینے ہیں تو ضمنی انتخابات کے جھنجھٹ میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے ؟
استعفے دینے ہیں تو ضمنی انتخابات کے جھنجھٹ میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے ؟

  

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

عوامی مُسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ استعفے دے کر سڑکوں پر نکلنا چاہئے، یہی بات اُنہوں نے ملٹی پارٹی کانفرنس میں جسے اے پی سی کا نام دیا گیا تھا، شریک دوسری سیاسی جماعتوں سے منوانے کی کوشش کی تھی لیکن کوئی نہیں مانا، سب کا خیال تھا کہ ابھی استعفوں کا وقت نہیں آیا، دراصل شیخ پُتر چاہتے تھے کہ پہلے پیپلزپارٹی استعفے دے، پھر تحریک انصاف اس راستے پر چلے، اِس کے بعد ایم کیو ایم پاکستان یہ کڑوا گھونٹ بھرے، پھر جماعت اسلامی کے ارکان مستعفی ہوں۔ اِس کے بعد شیخ صاحب اپنا اکلوتا استعفا پیش کر دیں گے، لیکن استعفوں کی رادھا نچوانے کے لئے نومن تیل جیسی جو شرائط رکھ دی گئی ہیں وہ شاید پوری نہ ہوں، اِس دوران انتخابات کا مہینہ آ جائیگا، شیخ رشید اگر استعفوں کے معاملے پر یکسو تھے تو انہیں کہنا چاہئے تھا کہ کوئی استعفا دے نہ دے وہ لاہور سے فارغ ہو کر سیدھے اسلام آباد قومی اسمبلی سیکرٹریٹ جائیں گے اور اپنا استعفا دے دیں گے۔ اِس طرح اگر وہ بارش کا پہلا قطرہ بنتے تو ممکن ہے استعفوں کے چند اور قطرے بھی ٹپ ٹپ گِر پڑتے، لیکن ایسا نہیں ہوا، استعفوں کی بات ہوتی رہی، عمل کِسی نے نہیں کیا، شیخ صاحب بھی تب استعفا دیں گے جب سارے لوگ پہلے اس پُل صراط سے گزر جائیں گے۔ یہ استعفوں کی سیاست بھی عجیب ہے، ابھی نوازشریف سُپریم کورٹ سے نااہل قرار نہیں پائے تھے تو کہا جا رہا تھا مُسلم لیگ (ن) کے اسی ارکان جیبوں میں استعفےٰ لئے پھرتے ہیں۔ اِدھر نوازشریف نااہل ہوئے اُدھر استعفےٰ آنا شروع ہو جائیں گے لیکن پانچ ماہ سے زیادہ عرصہ گزر گیا کوئی استعفا نہیں آیا، اور جو آئے وہ پیر صاحب سیال شریف کے پاس آئے گویا ان استعفوں کا نوازشریف کی نااہلی سے کوئی تعلق نہ تھا۔ ان استعفوں میں دو ارکانِ قومی اسمبلی کے استعفے ہیں اور چار ارکانِ پنجاب اسمبلی کے، اس کے بعد یہ سلسلہ بھی رُک گیا۔ اب کوئی مسلم لیگ (ن) کے استعفوں کی بات نہیں کرتا بلکہ اپوزیشن ارکان کے استعفوں کی بات ہونے لگی ہے، تادم تحریر کِسی اپوزیشن رُکن کا استعفا بھی نہیں آیا، محض بیانات کے ذریعے دِل پشوری کیا جا رہا ہے، شیخ رشید تو خیر اپنی پارٹی میں آل اِن ون ہیں، یعنی وہ پارٹی کا سبھی کچھ ہیں، سربراہ بھی، سیکرٹری بھی، کارکن بھی، اُنہیں کوئی فیصلہ کرنے کے لئے کِسی سے مشاورت کی ضرورت بھی نہیں وہ جو چاہیں کریں اُن کا ہاتھ روکنے والا کوئی نہیں، نہ پارٹی کا کوئی دوسرا رہنما اُن کے راستے کی دیوار بن سکتا ہے لیکن دوسری جماعتوں کی بُری بھلی مجالسِ عاملہ ہیں، کور کمیٹیاں ہیں، جنرل کونسل ہے، انہیں تو مشاورت کرنا پڑتی ہے، ساتھی لیڈروں سے پوچھنا پڑتا ہے، کارکنوں کی رائے بھی لینی پڑتی ہے، فیصلہ بھلے سے لیڈر کی رائے کے مطابق ہی ہوتا ہے لیکن مشورے کی رسم نبھانی پڑتی ہے۔ ہمارا یہ خیال ہے کہ کِسی بھی پارٹی کے ارکان اسمبلی قبل از وقت استعفا دینے کے حق میں نہیں، اس کی دلیل یہ ہے کہ جہانگیر ترین کی نااہلی کے بعد اُن کے بیٹے علی ترین اپنی ’’آبائی‘‘ نشست پر ضمنی انتخاب لڑ رہے ہیں۔ اُنہوں نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی بھی جمع کرا دئے ہیں اگرچہ مخالفین نے بہتیرا کہا کہ تحریک انصاف موروثی سیاست کے خلاف ہے اِس لئے اس حلقے میں کسی دوسرے پارٹی ورکر کو کھڑا کیا ہوتا لیکن اس بات کو پذیرائی نہیں ملتی کیونکہ یہ کلیہ دوسروں پر آزمایا جائے تو اچھا ہے، اپنے اوپر لاگو کرنا غلط ہے۔ آج کے زمانے میں الیکشن کروڑوں کا کھیل ہے اور وہ کون ہوگا جو تین ماہ کے لئے حاصل ہونے والی ایک نشست کی خاطر کروڑوں داؤ پر لگا دے، پھر الیکشن آخر الیکشن ہے جیت بھی یقینی نہیں ہوتی کیا پتہ علی ترین کی اس طرح پذیرائی نہ ہو جتنی اُن کے والد کی ہوئی، اب آپ ہی بتائیں کہ اگر کروڑوں خرچ کرکے استعفا ہی دینا ہے تو امیدوار کو کیا پڑی ہے کہ وہ الیکشن لڑے، دو ماہ کے لئے اپنا آرام و چین برباد کرے، ووٹروں سے رابطہ کرے، جہاں ضرورت ہو پیسے خرچ کرے، اتنے پاپڑ بیلنے کے بعد نشست جیتے تو کوئی یہ تجویز لے کر آ جائے کہ اب تم استعفا دے دو اس لئے ہمارا خیال ہے کہ خاطر جمع رکھنی چاہئے، اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان کے استعفے آنے والے نہیں، جہاں تک ان پیش گوئیوں کا تعلق ہے کہ حکومت جا رہی ہے آپ ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیں یہ بھاشن حکومتوں کے قیام کے تھوڑے عرصے بعد ہی شروع ہو گیا تھا، اگر آپ بھول گئے ہیں تو دھرنے کی تقریروں کی ریکارڈنگ سن لیں کہا جا رہا تھا اس سال انتخاب ہوں گے، کارکن تیاری کر لیں پھر یہ ریکارڈ مسلسل بجتا رہا کہ یہ سال الیکشن کا ہے، شُدہ شُدہ 2018ء کا آغاز ہو چُکا ہے، قومی اسمبلی کی مُدّت پانچ ماہ سے کم رہ گئی ہے، حکومت کہہ رہی ہے الیکشن وقت پر ہوں گے لیکن رجائیت پسندوں کا اب بھی یہی کہنا ہے کہ یہ حکومت جا رہی ہے۔ انگریزی کا ایک محاورہ ہے کہ اگر خواہشات گھوڑے ہوتے تو گداگر ان پر سواری کرتے، اِس لئے ہمارے خیال میں ہر چیز اپنے وقت پر ہوگی۔شاعر نے کہا تھا ’’ہر بات کا اک وقت معین ہے ازل سے‘‘ ڈھلمل یقین لوگوں کی کوشش سے تبدیلی نہیں آتی کوئی استعفا نہیں آئے گا، اِس لئے کہ جن کو استعفے دینے ہیں وہ اپنی ایک رائے رکھتے ہیں اور ضروری نہیں کوئی شیخ چلّی اُن کی رائے پر اثرانداز ہونے کی پوزیشن میں ہو۔

ضمنی انتخابات

مزید : تجزیہ