وطن کی فکر کر ناداں ۔۔

وطن کی فکر کر ناداں ۔۔
 وطن کی فکر کر ناداں ۔۔

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

میں پاکستان بارے ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹوئیٹ پر بعد میں آوں گا پہلے ذرا میڈیا ئی پہلوانوں کی تو تسلی کر لوں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے نئے سال کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا، ’ نئے سال کی مبارک باد، ہم امریکہ کو دوبارہ عظیم بنا رہے ہیں اور اس سے بھی تیزی کے ساتھ جتنی تیزی کے ساتھ کوئی سوچ سکتا ہے‘، یہ ان کا یکم جنوری کا دوسرا ٹوئیٹ تھا جو میں نے ذرا بعد کے تبصرے میں حوالے کے لئے پہلے ہی لکھ دیا مگرمیڈیا کے حوالے سے اس سے پہلے والا ٹوٹئیٹ بہت دلچسپ ہے، کہتے ہیں، ’ جیسا کہ ہمارا ملک تیزی کے ساتھ پہلے سے زیادہ مضبوط اور سمارٹ ہوتا چلا جا رہا ہے، میں اپنے تمام دوستوں،حامیوں، دشمنوں، نفرت کرنے والوں اور حتیٰ کہ جعلی خبروں والے بہت ہی بددیانت میڈیا کو نئے سال کی ایک بھاری بھر کم مبارک دینا چاہتا ہوں,، 2018امریکہ کے لئے ایک عظیم برس ثابت ہو گا‘، یعنی جب ڈونلڈ ٹرمپ نے یکم جنوری کو پاکستان کے بارے ٹوئیٹ کئے تو وہ اکتیس دسمبر کو ہی امریکہ کو عظیم بنانے کے خواب دیکھ رہے تھے، میرا ذاتی خیال ہے کہ امریکہ کے صدر نے نیو ائیر نائیٹ ویسے ہی منائی ہو گی جیسے امریکہ کے بہت سارے فنکار مناتے ہیں۔ ان کے ٹوئیٹس کی زبان بتا رہی ہے کہ وہ ہوش و حواس میں نہیں تھے۔ میرے کئی دوستوں کا خیال ہے کہ امریکیوں نے کبھی لہجے اور زبان کی نفاست کا خیال نہیں رکھا کہ یہ خصوصیت یورپ کے رہنے والوں کے ساتھ منسوب کی جاتی ہے، امریکی بدتمیزی کرتے رہے ہیں، مشرف دور میں بھی پاکستان کو کھنڈر بنا دینے کی دھمکی دی گئی تھی ۔


پاکستان کے بارے ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹوئیٹ اخباری خبروں میں پڑھنے کے علاوہ بہت سارے پروگراموں میں بھی سنا جا چکا ہو گا اور عین ممکن ہے کہ آپ نے شیخ رشید کی ڈونلڈ ٹرمپ کو دی گئی دھمکیوں اور بڑھکوں والوں ویڈیوز بھی دیکھ لی ہوں ، یہ بالکل ایسی ہی مزاحیہ ویڈیوز ہیں جیسی وہ پاکستان میں اپنے سیاسی مخالفین کے بارے میں بنواتے رہتے ہیں۔ ایک مرتبہ پھر پاکستان کے بارے ٹوئیٹ سے پہلے امریکی صدر کی ایران بارے ٹوٹئیٹ دیکھ لی جائے جو انہوں نے تھوڑی ہی دیر بعد یکم جنوری کو ہی کر ڈالی تھی، ان کی ایران بارے ٹوئیٹ زیادہ غیر مہذب بلکہ بے ہودہ ہے۔ انہوں نے کہا، ’ ایران اس کے باوجود ہر سطح پر ناکام ہو رہا ہے کہ اوبامہ انتظامیہ نے ان کے ساتھ ایک تکلیف دہ ڈیل کی،ایران کے عظیم لوگ کئی برسوں سے دبائے جا رہے ہیں، وہ خوراک کے لئے بھوکے ہیں او ر آزادی کے لئے۔انسانی حقوق کے ساتھ ساتھ ایران کی دولت بھی لوٹی گئی ہے، یہ وقت تبدیلی کا ہے‘۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے جس طرح کی باتیں کی ہیں اس طرح کی تبدیلی کی باتیں ہمارے ایک سیاستدان بھی تواتر کے ساتھ کرتے ہیں۔ انہیں بھی تبدیلی کے خواب کثرت سے آتے ہیں، ابھی آج ہی انہوں نے کہا کہ نجومیوں نے کہہ دیا ہے کہ اگلی حکومت تحریک انصاف کی ہے، ان کی بات امپائر سے چلی تھی اور عدالت تک پہنچی تھی اور اب ان کا نجومیوں پر تکیہ ہے حالانکہ وہ اسی موقعے پر کہہ رہے ہیں کہ دنیا کی کون سی جمہوریت میں ایسی چیزیں ہوتی ہیں۔ یہی بات ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی کہی جا سکتی ہے کہ دنیا کی کون سی سیاست اور سفارت کاری میں ایسی باتیں ہوتی ہیں کہ آپ کسی بھی دوسرے ملک کے داخلی معاملات پر اس طرح تبصرے کرتے پھریں۔ ایران میں کیا نظام ہو گا اور وہ اپنے معاملات کس طرح چلائیں گے یہ ایران اور ایرانیوں کا اپنا معاملہ ہے، احتجاج کی حمایت اورانٹرنیٹ پر پابندی کی مذمت سے بھی یہ واضح ہو رہا ہے کہ امریکی انتظامیہ ایران میں فساد اور ہنگاموں کی پشت پناہی کر رہی ہے ۔


پاکستا ن بارے ٹرمپ نے لکھا، ’ امریکہ نے پاکستان کو پچھلے پندرہ برسوں میں احمقانہ طور پرتینتیس ارب ڈالروں سے زائد بطور امداد دئیے مگر انہوں نے ہمیں جھوٹ اور دھوکوں کے سوا کچھ نہیں دیا،ہمارے رہنماوں کو بے وقوف سمجھتے رہے، وہ ان دہشت گردوں کومحفوظ ٹھکانے فراہم کرتے ہیں جنہیں ہم افغانستان میں تلاش کرتے ہیں، اب کوئی مدد نہیں ہو گی، نو مور‘۔ ویسے تو امریکی صدر کا یہ ٹوئیٹ اپنے اندر کچھ نیا لئے ہوئے نہیں۔ وہ پہلے بھی اربوں ڈالر کا ذکر کر چکے اور پاکستان ہی نہیں بلکہ اکتوبر میں شمالی کوریا کے بارے میں ٹوئیٹ کر چکے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکا کے صدور اور انتظامیہ پچیس برسوں تک شمالی کوریا سے بات چیت کرتے رہے ہیں، معاہدے ہوئے اور بہت ساری رقم بھی ادا کی گئی مگراس کے باوجو د مسئلہ حل نہیں ہوا، معاہدوں کی سیاہی خشک ہونے سے پہلے ان کی خلاف ورزی کی گئی، امریکی مذاکرات کاروں کو بے وقوف بنایا گیا، مجھے افسوس ہے لیکن ایک ہی چیز کام آئے گی‘۔ وائس آف امریکا نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ہی چیز فوجی کارروائی ہو سکتی ہے اور اب میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ہیپی نیو ائیر کے ان ٹوئیٹس کی طرف آتا ہوں۔ اگر امریکا یہ سمجھتا ہے کہ کوئی ریاست، تنظیم یا فرد دھونس، دھاندلی اور بندوق کے ذریعے عظیم بن سکتے ہیں تو خام خیالی ہے۔ گالی اور بندوق عارضی طور پرخوف زدہ کر سکتی ہیں مگر اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی نفرت دائمی ہوتی ہے ۔ دنیا کے لئے امریکا ہی خطرناک نہیں بلکہ اس طرز عمل نے دنیا کو بھی امریکا کے لئے انتہائی خطرناک بنارکھا ہے ۔


مجھے کہنے دیجئے کہ وہ ضیاء الحق کے دور میں افغانستان میں سوویت یونین کا مقابلہ ہو یا نائن الیون کے بعد ہونے والی کارروائی، بہت سارے دوست کہتے ہیں کہ یہ فیصلے پوری ریاست کے نہیں تھے مگر میں کہتا ہوں کہ وہ فیصلے جو بھی تھے اور جیسے بھی تھے، آج بطور پاکستانی ہم نے ان کی پوری ذمہ داری قبول کرنی ہے کہ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ ان فیصلوں پر اگر تنقید موجود ہے تو ان کے بہت سارے جاندار جواز بھی موجود ہیں۔ ہم اپنی تاریخ اور اپنے اقدامات سے فرار حاصل نہیں کر سکتے۔جو ہو چکا سو ہو چکا۔ اس وقت ہمیں امریکی صدر کی دھمکیوں کے جواب میں اتحاد اور یک جہتی کا مظاہرہ کرنا ہے اور سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کے امریکا کو جواب دیا جائے۔ میرا گمان کہتا ہے کہ پاکستان کی مقتدرقوتوں کو امریکی صدر کے اس پالیسی ٹوئیٹ کے بارے میں پہلے سے ہی علم ہو گیا تھا اور یہی وجہ ہے کہ ریاست کوہمارے لئے کشمیر کے جہاد کے حوالے سے بہت محترم پروفیسر حافظ محمد سعید اور ان کی تنظیموں پر ناخوشگوار پابندیاں عائد کرنا پڑیں۔مجھے ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کے پیش نظر حافظ سعید پر پابندیاں لگانا ان کی زندگی کو درپیش خطرات کی نسبت کہیں زیادہ قابل قبول نظر آتا ہے کہ امریکی پالیسیوں اور بیانات میں بھارتی مفادات واضح نظر آ رہے ہیں۔مجھے اندازہ لگانے دیجئے کہ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف سے لاہور میں ایک اہم شخصیت نے جو پانچ گھنٹے طویل ملاقات کی وہ اس شعر کے مصداق ہوسکتی ہے کہ ’ وطن کی فکر کرناداں، مصیبت آنے والی ہے‘ ۔ اس وقت امریکا پر اگر دنیا کی کوئی طاقت اپنا اثر و رسوخ استعمال کرسکتی ہے تو وہ سعودی عرب ہے اور سعودی عرب کے حکمرانوں تک رسائی یا اثرپذیری پاکستان میں شریف برادران کے پاس ہی ہے۔ پروپیگنڈہ ہو رہا تھا کہ میاں نواز شریف کی شاہ سلمان سے ملاقات نہیں ہو گی مگرڈیڑھ گھنٹے کی ملاقات کی تصویربھی جاری ہوچکی ہے۔ مجھے نہایت محتاط رہتے ہوئے صرف یہ کہنا ہے کہ بعض اوقات افراد سے زیادہ کسی این آر او کی ضرورت ریاستوں کو بھی پڑ جاتی ہے۔ آپ نواز شریف کے لئے این آر او کی مخالفت کرتے رہیں مگر دعا کریں کہ ہمارے پیارے پاکستان کی ان سے مفاہمت ہوجائے جن کے پاس محض بندوقیں اور توپیں نہیں بلکہ بموں کی مائیں تک موجود ہے ۔

مزید :

رائے -کالم -