داخلی بحران پر قابو پائیں، خارجی خطرات سے نمٹنا آسان ہو جائے گا

داخلی بحران پر قابو پائیں، خارجی خطرات سے نمٹنا آسان ہو جائے گا

نصیر احمد سلیمی

قارئین کو نیا سال مبارک ہو۔ رب کریم سے التجا ہے کہ وہ 2018ء کو پاکستان اور پاکستانی قوم اور پوری دنیا کے لئے خوش بختی کا سال بنا دے اور ہمیں بہ حیثیت قوم قوتیں اور صلاحیت عطاء فرمائے کہ ہم اجتماعی دانش کے ذریعے اپنے داخلی اور خارجی بحرانوں سے نمٹنے میں کامیاب ہو سکیں۔ سندھ کے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں زیر بحث موضوع یہ ہے کہ پیپلزپارٹی پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت وقت سے پہلے ختم کرانے کے لئے سنجیدہ ہے یا نہیں۔ اس کا اندازہ سات جنوری کے بعد ہو سکے گا۔ اس سے جڑا سوال یہ ہے کہ لاہور کی اے پی سی میں یہ جو فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ پنجاب کی حکومت کے خاتمہ کے لئے سندھ اور خیبر پختون خوا کی اسمبلیوں میں قراردادیں پاس کرائی جائیں گی اس سے صوبائی خود مختاری کے معاملات میں دخل اندازی کی غلط روایت قائم ہو گی۔ صوبوں کے درمیان نئی تلخیاں جنم لیں گی پانچ عشروں کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ اس طرز عمل نے ماضی میں بھی جمہوریت اور جمہوری قوتوں کو نقصان پہنچایا اور غیر جمہوری قوتوں کو توانا کیا ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ آئین کی بالا دستی اور قانون کی حکمرانی قائم کرنے کے لئے مکالمہ کا آغاز کر کے ان خطرات سے ملک کو محفوظ کر لیں جو اس کی سلامتی کو اندرونی اور بیرونی قوتوں سے لاحق ہیں۔ ہمارا داخلی بحران خارجی بحران کو طاقت فراہم کرنے کا باعث بن رہا ہے اگر ہم اپنے داخلی بحران پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائیں تو داخلی بحران سے نمٹنا نا ممکن نہیں ہوگا۔ کیونکہ ہم امریکی دباؤ ماضی میں اس سے کہیں زیادہ برداشت کر چکے ہیں ماضی میں کئی بار امریکہ نے ہماری سول اور فوجی امداد پر مکمل پابندی عائد کی مگر پاکستان اللہ کے فضل و کرام سے ان بحرانوں سے عہدہ براہ ہوتا رہا ہے اگر آج ہم اپنے داخلی بحران کو باہمی افہام و تفہیم سے حل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ تو یہ قوم تازہ امریکی دباؤ سے حکمت و دانائی سے نکلنے کی راہ نکالنے میں بھی کامیاب ہو جائے گی۔ اس کے لئے قائد اعظمؒ کے فرمان ایمان، اتحاد اور تنظیم کو رہنما بنانا پڑے گا۔ ماضی کی تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے بہ حیثیت قوم خارجی خطرات کا مقابلہ داخلی اتحاد کے ذریعہ کیا ہے۔ 1965ء میں بھارت نے جارحیت مسلط کی تو پوری قوم جارحیت کو منہ توڑ جواب دینے کے لئے ایک ہو گئی تھی۔آج کے حالات 1965ء کے مقابلے میں اس لحاظ سے بہتر ہیں کہ آج ملک میں آئین اور آئین کے تحت مرکز اور چاروں صوبوں میں منتخب حکومتیں قائم ہیں۔ یہ اطلاع خوش آئند ہے کہ امریکی صدر کی تازہ دھمکی کے بعد حزب اختلاف کی طرف سے محترمہ شیری رحمن اور اسد عمر کی طرف سے بیان سامنے آیا ہے کہ ہم امریکی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک پیج پر ہیں۔ خدا کرے ہمارے حکمران اور حزب اختلاف باقی قومی ایشوز پر بھی افہام و تفہیم پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ ہم جن داخلی اور خارجی خطرات سے دو چار ہیں۔ ان سے نکلنے کے لئے لازم ہے کہ سیاسی قیادت اپنی سیاسی ضرورتوں اور گروہی مفادات سے بالا تر ہو کر ملک میں وقت مقررہ پر 2018ء کے عام انتخاب کے انعقاد کو یقینی بنائے۔ اور انتخابی مہم دشنام طرازی کے بجائے کارکردگی کی بنیاد پر چلائیں۔ اور آئندہ کے لئے ایسا منشور دیں جو محروم طبقات کی مشکلات و مصائب کو کسی حد تک کم کرنے میں معاون اور مدد گار ثابت ہو سکے۔

توقع تھی کہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری محترمہ بے نظیر بھٹو (شہید) کی دسویں برسی پر ہونے والے گڑھی خدا بخش کے اجتماع میں اپنی حکومت کی کارکردگی کا جائزہ زمینی حقائق کی روشنی میں لیکر آئندہ انتخابات کے لئے اپنے منشور کے نکات پر گفتگو کریں گے، مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔ گڑھی خدا بخش میں پیپلزپارٹی بڑا شو آف پاور کرنے میں کامیاب رہی۔ اس کے لئے پارٹی نے تنظیمی سطح پر اور سرکاری سطح پربھی بھرپور تیاری کی تھی۔ہر سال برسی کی تقریبات میں شرکت کرنے والے صحافی تصدیق کرتے ہیں کہ اس بار کا ’’شو‘‘ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران ہونے والے اجتماعات کے مقابلے میں سب سے بڑا بھی تھا اور جوش و خروش کے اعتبار سے بھی متاثر کن تھا، تاہم 2018ء کا انتخابی معرکہ سر کرنے کے لئے پارٹی کارکنوں کو زیادہ متحرک کرنا پڑے گا، کیونکہ سندھ میں یہ تاثر بھی ہے کہ اگر لاہور میں ہونے والی علامہ طاہر القادری کی اے پی سی نے سات جنوری کے بعد کوئی ایسی حکمت عملی اپنائی، جس کے بعد پیپلزپارٹی کو سندھ میں اپنی حکومت وقت سے پہلے ختم کرنا پڑی تو اس کا فائدہ پیپلزپارٹی سے زیادہ تحریک انصاف کو ہوگا۔اس کے بعد مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ حروں کے روحانی پیشوا پیر پگارو کی قیادت میں قائم ہونے والا انتخابی اتحاد زور پکڑ سکتا ہے اور اس نئی صف بندی میں کچھ دوسری قوتیں بھی شامل ہو جائیں گی۔اس وقت تک پیپلزپارٹی کو اندرون سندھ کی حد تک کسی بڑے حریف کا سامنا نہیں ہے۔ وقت سے پہلے پیپلزپارٹی نے اپنی حکومت ختم کر دی تو سندھ میں بھی نئی انتخابی صف بندی ہوگی۔ یہ صف بندی کتنی موثر ہوگی۔ اس کا انحصار اس پر ہوگا کہ سینٹ کی 52نشستوں پر انتخاب کے بعد صوبائی حکومتیں ختم ہوں گی یا سینٹ کے انتخاب سے قبل۔ اگر سینٹ کے انتخاب کے بعد صوبائی حکومتیں ختم ہوئیں تو پیپلزپارٹی کے مقابلے میں بننے والے اتحاد زیادہ موثر نہیں ہو سکیں گے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو سندھ میں بھی پیپلزپارٹی کو اپنی بقا کے لئے سخت محنت کرنا پڑے گی، کیونکہ اس سے سندھ میں تحریک انصاف کو بڑا بریک تھرو ملے گا اور اندرون سندھ تحریک انصاف کی طرف وہ امیدوار رجوع کریں گے جو ذاتی ووٹ بینک رکھتے ہیں تاہم کسی وجہ سے پیپلزپارٹی کا ٹکٹ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

اب ذکر 2017ء کی اس آخری تقریب کا جو 31دسمبر کو قائداعظم کی شخصیت اور قائداعظم کی تعلیمات کے حوالے سے ہوئی یہ مزار قائداعظم کے احاطے میں واقع قائداعظم میوزیم سے متصل قائداعظم آڈیٹوریم میں قائداعظم اکیڈمی کے زیر اہتمام مزار قائداعظم مینجمنت کمیٹی کے اشتراک سے ہوئی تھی۔ اس تقریب کے دو حصے تھے۔ ایک حصہ قائداعظم کو منظوم خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے تھا۔ دوسرا حصہ قائداعظمؒ کی تعلیمات کی روشنی میں کیساہونا چاہیے اس کی صدارت سندھ ہائیکورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) حاذق الحق خیری نے کی جو سندھ کے محتسب اعلیٰ اور فیڈرل شریعت کورٹ کے چیف جسٹس بھی رہے۔ جسٹس (ر) حاذق الحق خیری کا ایسے خاندان سے تعلق ہے۔ جن کے دادا علامہ راشد الخیری ان میں شامل تھے۔ جنہوں نے پاکستان کی جدوجہد میں اہم کردار بھی ادا کیا۔اس تقریب کے مہمان خصوصی اردو لُغت بورڈ کے مدیراعلیٰ جناب عقیل عباس جعفری تھے۔ جناب جسٹس (ر) حاذق الحق خیری نے قائداعظم سے اپنی ملاقاتوں کے حوالے سے بھی گفتگو کی اور ان کے پاکستان ویژن پر بھی روشنی ڈالی۔ قائداعظم اکیڈمی کے سربراہ خواجہ رضی حیدر نے تفصیل کے ساتھ قائداعظمؒ کے شخصی اوصاف اور کردار کی پختگی کے حوالہ سے سیر حاصل گفتگو کی اور یہ بھی بتایا کہ قائداعظمؒ کے سوا کوئی دوسرا سیاسی رہنما ایسا نہیں ہے، جس کو شعراء نے اتنی بڑی تعداد میں منظوم خراج عقیدت پیش کیا ہو۔ خواجہ رضی حیدر کی تحقیق کے مطابق صرف اردو زبان میں چار ہزار سے زائد نظموں میں قائداعظمؒ کو منظوم خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ جواب کتابی شکل میں دستیاب ہے۔ اس کے علاوہ عربی و فارسی ، پنجابی، سندھی اور پشتو کے علاوہ دیگر مقامی زبانوں میں بھی قائداعظم کی تاریخ ساز جدوجہد کو منظوم خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ خواجہ رضی حیدر کی تحقیق کے مطابق قائداعظم کی صدارت میں 1916ء میں آل انڈیا مسلم لیگ اور آل انڈیا گانگریس کے لکھنووالے مشترکہ اجلاس میں سب سے پہلے قائداعظم کو منظوم خراج تحسین پیش کیا گیا۔ اور یہ خراج تحسین پیش کیا تھا علامہ سید سلیمان ندویؒ نے، بعد ازاں 1946ء تک ہونے والے آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاسوں میں قائداعظم کو منظوم خراج تحسین اور عقیدت پیش کرنے کی روایت قائم رہی۔

مزید : ایڈیشن 1