ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی دھمکی، پوری قوم یک آواز، امریکہ خفٹ مٹانے کے لئے الزام لگا رہا ہے

ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی دھمکی، پوری قوم یک آواز، امریکہ خفٹ مٹانے کے لئے الزام لگا ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد سے ملک الیاس
سال نو کے آغازپر پہلے ہی روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کومزید امداد نہ دینے کی دھمکی دے ڈالی،ساتھ ہی الزامات عائد کردیے کہ پاکستان نے امریکی امدادکے بدلے امریکہ کو دھوکہ دینے کے سوادہشتگردی کیخلاف کچھ نہیں کیا،پاکستان کی تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں نے ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیان کو مستردکردیا، اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان امریکہ پراپنی پوزیشن واضح کرئے ،امریکہ افغانستان کے حوالے سے پاکستان کو نشانہ بنا رہا ہے اور اپنی پالیسیوں کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہے،وہ کولیشن فنڈز اور امداد اپنے پاس رکھے، یہ پاکستان کا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں معاوضہ تھا امداد نہیں تھی،وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کاکہناتھا کہ اپنی سرزمین کی حفاظت کی ہم نے قسم اٹھائی ہے اور یہ حفاظت ہر حال میں کریں گے،ٹرمپ کے ٹویٹ کا جلد جواب دے کر دنیا کو حقیقت حال سے آگاہ کریں گے کہ سچائی اور افسانے میں کیا فرق ہوتا ہے،ہماری خارجہ پالیسی ہمارے قومی مفاد کی سمت میں ہے، پیسوں کا حساب امریکہ اور پوری دنیا کو سرعام دینے کو تیار ہیں،ٹرمپ کے نومور کی کوئی اہمیت نہیں، امریکہ افغانستان کی جنگ میں پھنسا ہوا ہے،اپنی شرمندگی مٹانے کیلئے پاکستان اور ایران کے خلاف بیانات جاری کررہا ہے،افغان مسئلے کا پرامن حل بات چیت سے نکالنے کی ضرورت ہے۔ٹرمپ کاپاکستان کی کامیابیاں تسلیم کرنے کاظرف نہیں توایسی زبان بھی استعمال نہ کریں،ٹرمپ اپنی انتظامیہ سے پوچھ لیں پیسے پاکستان کوکس مدمیں دیے،امریکی صدر کے بیان پر سوشل میڈیا پر جواب نہیں دینا چاہتے ،ہم چاہتے ہیں کہ ایسے بیانات سے خطے کا امن متاثر نہ ہو،وزیر دفاع خرم دستگیر نے بھی اس حوالے سے دوٹوک جواب دیا ہے انکا کہنا تھا کہ پاکستان کے تعاون کی بدولت گزشتہ 16سال میں القاعدہ کا خاتمہ ممکن ہوا،جواب میں پاکستان کو عدم اعتماد اور الزام تراشی کے سوا کچھ نہ ملا،پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف امریکہ کا اتحادی ہونے کے ناتے امریکہ کو زمینی اور فضائی حدود مفت میں استعمال کرنے دی،امریکہ نے پاکستانیوں کے قتل میں ملوث سرحد پار دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو نظرانداز کیا۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف امریکہ کا اتحادی رہا ہے،اتحادی کی حیثیت سے امریکہ کو زمینی اور فضائی حدود مفت میں استعمال کرنے دی، پاکستان نے امریکہ کو اپنے فوجی اڈے اور عالمی سطح پر تعاون فراہم کیا، ہم پاک سرزمین کے دفاع کیلئے تیار ہیں ، امریکہ کی پالیسی میں ہمیشہ تضاد رہا ہے ، ٹرمپ کی 33ارب ڈالر امداد کی ایک ایک پائی کا بتائیں گے افغانستان کی جنگ پاکستان میں نہیں لڑی جائے گی ، امریکہ نے پاکستان کو کسی قسم کی امداد نہیں دی ، امریکہ کا کوئی بھی ایکشن کسی کیلئے درست نہیں ، ہم دہشت گردوں کی کچھ باقیات کو ردالفساد کے ذریعے ختم کر رہے ہیں ، پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں نہیں بلکہ افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں جہاں سے پاکستان پر حملے ہو رہے ہیں ۔
پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان،مسلم لیگ (ن) کے رہنما لیفٹیننٹ جنرل (ر)عبدالقیوم ، پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری، اسد عمر ودیگرارکان پارلیمنٹ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان کے خلاف بیان کو مسترد کر دیاانکاکہناتھاا کہ ، اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان امریکہ پر اپنی پوزیشن واضح کرے کہ ، امریکہ افغانستان میں امن نہیں چاہتا،وہ چاہتا ہے کہ خطے میں چین اور ایران کا کردار محدود کرے، پاکستان کو ڈی نیوکلیئرائزڈ کرے اور سی پیک کو سبوتاژ کرے، امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں معاوضے کے طور پر صرف 18ارب ڈالر ادا کئے جبکہ پاکستان میں اس سے کہیں زیادہ نقصان ہوا، افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم نہیں کئے جا رہے اور امریکہ پاکستان سے بارڈر مینجمنٹ پر تعاون نہیں کر رہا،پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مخلصانہ کردار ادا کیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 123ارب ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھایا اور 70ہزار سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان مخالف ٹویٹ کے بعدپاکستان نے امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کروایا ہے ۔ امریکی سفیر کو سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا اور اس بات سے آگاہ کیا گیا کہ اس پیغام کے کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں ۔ پاکستان نے ڈیوڈ ہیل سے امریکی صدر کے بیان پر وضاحت طلب کر لی ہے ۔ سیکریٹری خارجہ نے امریکی سفیر کو واضح الفاظ میں بتایا کہ پاکستان نے دہشتگردوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی کی ، پاکستان کی قربانیو ں کو نظر انداز کرنا افسوسناک ہے ، دہشتگردی سے پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہواہے ۔
سابق وزیراعظم محمدنوازشریف اور وزیراعلی پنجاب محمدشہبازشریف کے دورہ سعودی عرب کے دوران وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اپوزیشن رہنما وسیاسی حلقے اپنے اپنے تبصرے کرتے رہے کچھ اس دورے کو ایک اورنئے این آراوسے تشبیہ دیتے رہے کچھ نے اس کا سعودی عرب میں گرفتارشہزادوں اورکرپشن سے جوڑ دیااس حوالے سے افواہوں کا بازار گرم رہا ،چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے سعودی مداخلت اور ایک نئے این آراوکی صورت میں عوام کو سڑکوں پرلانے کی دھمکی بھی دیدی ہے،عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشیداحمدنے تو یہاں تک کہہ دیا کہ شریف برادران کا دورہ سعودی عرب ناکام ہوگیا سعودی حکمرانوں نے انہیں کوئی لفٹ نہیں کرائی،جبکہ مسلم لیگ کے رہنماؤں کابیان سامنے آیا کہ شریف برادران امت مسلمہ کودرپیش مسائل سے نکالنے کے سلسلے میں سعودی عرب گئے ہیں۔مسلم لیگ (ن) کو نہ پہلے کسی این آر او کی ضرورت تھی نہ اب ہے ، این آر او کا فائدہ پہلے بھی پیپلز پارٹی کو ہوا تھا۔
حکومت نے عوام کو نئے سال کاتحفہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھاکردیا ہے ،قیمتیں بڑھنے سے مہنگائی کا نیا طوفان اٹھے گا پہلے ہی عوام مہنگائی کے ستائے ہوئے ہیں ٹرانسپورٹرزنے کرایوں میں من مانا اضافہ کردیا جبکہ سبزیوں ،پھلوں اوردیگر اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے،ادھرسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی نے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے طریقہ کار اور اختیارات کی تفصیل سمیت اوگرا کو طلب کیا ہے کمیٹی کوسیکرٹری پیٹرولیم ڈویژن سکندر سلطان نے بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ اوگرا نے کیا ہے ،دوسری جانب عوامی حلقوں نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مسترد کرتے ہوئے حکومت سے یہ اضافہ فوری طور پر واپس لینے کامطالبہ کیا ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -