ترقیاتی فنڈز استعمال کئے بغیر ترقی ہو گئی؟بجٹ میں مختص اربوں خرچ نہ ہوئے

ترقیاتی فنڈز استعمال کئے بغیر ترقی ہو گئی؟بجٹ میں مختص اربوں خرچ نہ ہوئے

خیبرپختونخوا بدستور گو مگو کی کیفیت سے گزر رہا ہے حکومت کی طرف سے مسلسل میرٹ کی بالادستی اور صوبے میں تبدیلی برائے ترقی کے دعوئے کئے جارہے ہیں مگر صوبے کے 36محکموں اور اداروں کی طرف سے ترقیاتی فنڈز کا ایک تہائی بھی خرچ نہ کرنے کے انکشاف نے کئی سوالات کو جنم دیا جس صوبے میں ترقیاتی فنڈز استعمال ہی نہ ہوں وہاں ترقی کے دعوئے کیسے؟ محکمہ زراعت 5ارب 28کروڑ 85لاکھ کے فنڈسے صرف 28کروڑ 80لاکھ روپے استعمال کر سکا محکمہ اوقات 62کروڑ میں سے صرف 4کروڑ خرچ کر سکا اسی طرح ریونیو ڈیپارٹمنٹ63کروڑ 70لاکھ میں صرف 13کروڑ ڈسٹرک اے ڈی پی میں 28ارب5کروڑ میں صرف 35کروڑ 63 کروڑ 70 لاکھ میں صرف 13کروڑ ڈسٹرکٹ اے ڈی پی میں 28ارب 5کروڑ میں صرف 35کروڑ 74لاکھ روپے خرچ کئے جاسکے صاف پانی کی فراہمی کی مد میں 5ارب 15کروڑ میں سے صرف 1ارب 55کروڑ جبکہ ابتدائی ثانوی تعلیم کیلئے مختص 20ارب 29 کروڑ سے زائد فنڈ سے 2ارب79کروڑ روپے خرچ کئے جا سکے اسی طرح دیگر محکموں میں بھی ترقیاتی فنڈ ز کے استعمال میں انتہاہی ست روی دیکھنے کومل رہی ہے اس کے بر عکس صوبے میں ترقی کے دعوے بلند تر اور مسلسل کئے جارہے ہیں جو کہ حیران کن ہیں سرکاری محکموں میں ترقیاتی فنڈزکے بر وقت استعمال نہ ہونے کی وجوہات میں ایک سب سے بڑی وجہ سرکاری اداروں میں افراتفری بھی بتائی جاتی ہے موجود ہ حکومت سسٹم کو اپنی سوچ اور مرضی کے مطابق تبدیل کر نے کی کو شیش کر رہی ہے جس میں بہت سارے معاملات قانون سے متصادم پائے جاتے ہیں بیوروکریسی ایسے کسی بھی سسٹم کو اپنانے سے گریز کرتی ہے جو قانون سے متصادم ہو اور آنے والے وقت میں ان کے اقدامات انہی کے گلے میں پڑ جائیں بہر حال موجودہ حکومت اپنے آخری بجٹ کا آخری حصہ خرچ کرنے کی کوشیش کر رہی ہے بیوروکریسی جمہوری حکومتوں کیلئے اگلے دو ماہ کو غیر معمولی اہم سمجھ کر اپنے آپ کو ایسے اقدامات سے دور رکھنے کی کوشیش کر رہی ہے جو حود ان کیلئے وبال جان بن سکتے ہیں اسی کشمکش میں وقت گزرتا جا رہاہے ۔

گزشتہ ہفتے کے اوائل میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی پشاور تشریف لائے۔ پشاور میں انتہائی مصروف دن گزارا اسلامیہ کالج میں تقریب سے خطاب کرنے کے علاوہ جمرود خیبر ایجنسی میں گورنر سپورٹس فیسٹیول کا افتتاح بھی کیا وزیر اعطم کی تمام مصروفیات کے دوران گورنر اور دیگر لیگی رہنما ساتھ تھے البتہ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک منظر نامے سے غائب رہے پشاور میں اپنے خطاب کے دوران وزیر اعظم نے ایک مرتبہ پھر اپنے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ فاٹا اصلاحات چند روز میں نافذ ہو جائینگی کریڈٹ صرف ن لیگ کو جاتا ہے لوگ ایف سی آر سے نجات چاہتے ہیں اور پاکستانی قوانین کا نفاذ چاہتے ہیں بعض عناصر کی طرف سے فاٹا اصلاحات کو سیاسی رنگ دینا قابل مذمت ہے یہ لوگ دراصل 2018ء کے انتخابات میں اصلاحات کا کریڈٹ لینا چاہتے ہیں مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے وزیر اعظم کے خطاب کے دو یا تین روز بعد مالاکنڈ ایجنسی میں ٹیکس نفاذ اور پولیس ایکٹ کے نفاذ کے خلاف شٹرڈاؤن ہڑتال کی گئی دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مہم میں جے یو آئی ف کے کارکن پیش پیش تھے جو کہ مسلم لیگ ن کی اتحادی جماعت ہے دوسری طرف جے یو آئی ف نے فاٹا کو الگ صوبہ بنانے کیلئے اسلام آباد تک لانگ مارچ کیا جہاں خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے فاٹا انضمام منصوبے کو امریکی سازش قرار دینے کی کوشش کی مگر ان کے اس موقف کو عوام میں پذیرائی نہ مل سکی اس وقت ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اور فاٹا کے عوام کی بھاری اکثریت فاٹا کے انضمام کی حمایت اور مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ صرف پختونخوا میپ کے سربراہ اچکزئی الگ صوبے کے حامی ہیں اور وہ اپنی بندوق مولانا فضل الرحمن کے کندھے پر رکھ کر فائر کر رہے ہیں ناقدین کا کہنا ہے کہ اچکزئی افغانستان کے ایجنڈے پر کام کرتے ہوئے الگ صوبہ بنا کر بعد میں بلوچستان کی طرح یہاں بھی علیحدگی کی تحریک چلانا چاہتے ہیں جبکہ یہ کام اس وقت ناممکن ہو گا جب فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام ہو جائے ایسے میں مولانا فضل الرحمن اپنے خطابات میں اپنی روایات کے مطابق اس منصوبے کو امریکی منصوبہ قرار دینے کی بار بار کوشش کر رہے ہیں مگر اس میں ابھی تک کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہو سکی تعجب کی بات یہ ہے کہ وفاقی حکومت ملک کی تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کے متفقہ و مشترکہ مطالبہ پر عمل کرنے کی بجائے صرف دو شخصیات کی مخالفت کو اہمیت دے رہی ہے اور فاٹا اصلاحات کو مسلسل تاخیر کا شکار کر رہی ہے جس سے فاٹا کے عوام میں بے چینی اور مایوسی پھیل رہی ہے اس بات کے خدشے کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ فاٹا اصلاحات کے نفاذ میں تاخیر سے ملاکنڈ میں جو تحریک شروع ہوئی ہے وہ فاٹا کے دیگر علاقوں تک پھیل سکتی ہے اس طرح کی صورتحال سے ملک دشمن قوتیں پورا پورا فائدہ اٹھا سکتی ہیں لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کے وسیع تر مفاد کے پیش نظر دو آدمیوں کی ناراضگی مول لے کر فاٹا اصلاحات کا بل جلد از جلد منظور کر کے اسے نافذ العمل کیا جائے۔

B

مزید : ایڈیشن 1